افغان مہاجرین کے گھروں پر چھاپہ مار کارروائیوں کا فیصلہ

حکومت نے خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں مقیم غیر قانونی افغان مہاجرین کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا فیصلہ کر لیا ہے۔ وفاقی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کے پی پولیس کے ساتھ مل کر افغان مہاجرین کے گھروں پر چھاپہ مار کارروائیوں کے لیے جامع حکمتِ عملی تیار کر لی ہے۔ حکام کے مطابق غیر قانونی افغان باشندوں کی ملک بدری کے عمل کو تیز کیا جا رہا ہے، جبکہ ان کی رجسٹرڈ جائیدادیں منسوخ کر کے سرکاری تحویل میں لینے کے لیے بھی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ خیرپختونخوا میں غیر قانونی طور پر کرائے کے مکانات میں مقیم افغان باشندوں کی نشاندہی کرتے ہوئے متعلقہ گھروں پر نشانات لگا دیے گئے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ چند روز میں افغان باشندوں کی گرفتاریوں کے ساتھ ساتھ انہیں کرائے پر مکانات فراہم کرنے والے پاکستانی شہریوں کے خلاف بھی سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق پشاور میں تقریباً 380 پلازوں اور ایک لاکھ کے قریب گھروں میں افغان مہاجرین کے کرائے پر رہنے کے انکشافات سامنے آئے ہیں، جس کے بعد کرائے پر مکانات اور پلازے فراہم کرنے والے مالکان کے خلاف بھی کارروائی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ باقاعدہ نشاندہی کے بعد ان مقامات پر خصوصی نشانات لگا دیے گئے ہیں جبکہ آئندہ ہفتے خیبرپختونخوا میں غیر قانونی مقیم افغان باشندوں اور ان کے سہولتکاروں کے خلاف کارروائی کا آغاز کر دیا جائے گا، جس میں پشاور پولیس کے ساتھ دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی شریک ہوں گے۔ ذرائع کے مطابق بڑے اور بااثر افغان تاجروں کے بعد اب چھوٹے کاروبار سے وابستہ افغان مہاجرین کی فہرستیں بھی مکمل کر لی گئی ہیں اور ان کے خلاف کارروائی کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی جا رہی ہیں۔ واضح رہے کہ پشاور میں چائے فروشوں، ہوٹل مالکان اور اشیائے خورونوش فروخت کرنے والوں میں افغان باشندوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔ اسی طرح خیبرپختونخوا حکومت کی پرو افغان پالیسی کی وجہ سے صوبے کے جنوبی اضلاع خصوصاً ڈی آئی خان، بنوں، نوشہرہ، مردان اور سوات میں بھی افغان مہاجرین دھڑلے سے مختلف کاروبار کر رہے ہیں۔
تاہم اب وفاقی حکومت کی سخت پالیسی کے بعد صوبے میں بھی غیر قانونی طور پر مقیم افغان مہاجرین کے خلاف گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے۔مختلف بازاروں اور رہائشی علاقوں میں غیر قانونی افغان مہاجرین کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ وفاقی حکومت نے افغان مہاجرین کے نام پر موجود گھر، گاڑی اور دیگر جائیداد کی خرید و فروخت پر بھی پابندی عائد کر دی ہے۔ اس فیصلے کے تحت اب پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہری نہ تو اپنے نام پر کوئی جائیداد، مکان یا گاڑی خرید سکیں گے، اور نہ ہی کسی دوسرے شخص کو اُن کے زیرِ ملکیت املاک خریدنے کی اجازت ہو گی۔ ذرائع کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں نے افغان مہاجرین کی جائیدادوں اور املاک کو سرکاری قبضے میں لینے کیلئے جاری آپریشن کا دائرہ کار شہروں کے ساتھ ساتھ نواحی علاقوں اور دیہاتوں تک پھیلا دیا ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر متعدد افغان مہاجرین کو ڈی پورٹ کیا جا رہا ہے۔ جبکہ ایکسائز، بورڈ آف ریونیو اور دیگر وفاقی حساس اداروں نے مشترکہ اقدامات کرتے ہوئے مہاجرین کی گاڑیوں اور گھروں کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کیلئے کارروائیاں بھی تیز کر دی ہیں۔ ذرائع کے مطابق پاکستانی خواتین جنہوں نے افغان مردوں سے شادیاں کر رکھی ہیں اور ان کے نام پر گھروں یا دکانوں کی ملکیت موجود ہے، ان کی رجسٹریشن بھی منسوخ کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے بقول سرکاری محکموں نے پہلے ہی ایسی تمام املاک کی نشاندہی مکمل کرلی ہے۔ تاکہ تحویل کے عمل کو موثر انداز میں مکمل کیا جاسکے ۔
خیبرپختونخوا میں کسی بھی قسم کے آپریشن کی اجازت نہیں دی جائے گی،سہیل آفریدی
ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے عائد کردہ سخت پابندیوں کے تحت سب سے پہلے غیر قانونی مقیم افغان باشندوں کے گھروں اور دکانوں سے بجلی اور گیس کے میٹر اتارے جائیں گے جبکہ اس کے بعد ان کی گرفتاری کے علاوہ دکانیں اور جائیدادیں بحق سرکار ضبط کر لی جائیں گی۔ اس کے ساتھ ساتھ رجسٹرڈ افغان مہاجرین سے بھی زمینوں، جائیداوں اور قیمتی املاک کی خریدو فروخت پر پابندی عائد کر دی جائے گی۔ ذرائع کے بقول اس حوالے سے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے پشاور سمیت خیبرپختونخوا کے مختلف شہروں میں قیام پذیز افغان مہاجرین کی جانب سے خریدی گئی پراپرٹیز اور گاڑیوں کا ڈیٹا پہلے ہی مرتب کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت نے افغان مہاجرین کو گھر یا دکانیں وغیرہ کرائے پر دینے والے پاکستانیوں کے خلاف بھی سخت ترین کارروائی کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
