پاکستان میں قیام پذیر تمام افغانوں کو ملک بدر کرنے کا فیصلہ

وفاقی حکومت نے پاکستان میں مقیم لاکھوں افغانوں کو ملک بدر کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔ ڈیڈ لائن گزرنے کے بعد پاکستان میں مقیم لاکھوں افغان مہاجرین کے گرد ریاستی شکنجہ مزید سخت ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے غیر قانونی طور پر قیام پذیر افغان شہریوں کے خلاف ملک گیر سطح پر ایک سخت اور فیصلہ کن کریک ڈاؤن کی تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے انٹیلی جنس رپورٹس، ڈیٹا بیس اور نشاندہی کے بعد آپریشن کا مکمل خاکہ تیار کر لیا ہے۔پولیس، ایف سی، حساس ادارے اور ضلعی انتظامیہ سب ایک پیج پر آ چکے ہیں جس کے بعد آنےوالے چند دنوں میں ریاستی مشینری پوری قوت کے ساتھ متحرک ہونے کو ہے، وفاقی حکومت کی جانب سے افغان مہاجرین کے خلاف حالیہ آپریشن کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ اس بار حکومت نے واضح اعلان کر دیا ہے کہ کسی بھی افغانی کے ساتھ کسی قسم کی نرمی یا رعایت نہیں برتی جائے گی۔ بغیر ویزے کے مقیم افغانوں کو ہر صورت واپس افغانستان بھجوایا جائے گا۔
خیال رہے کہ پاکستان میں غیر قانونی مقیم افغان مہاجرین کے خلاف ایک نئے اور مربوط آپریشن کا آغاز اس وقت ہو رہا ہے جب پاکستان خود داخلی و خارجی سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ دہشتگردی کے بڑھتے واقعات، خفیہ اداروں کی رپورٹس، اور ریاستی اداروں پر پے در پے حملوں کے بعد اب ریاستی اداروں نے تمام تر توجہ افغان مہاجرین پر مرکوز کر لی ہے، جو دہائیوں سے پاکستان میں پناہ لئے ہوئے تھے۔ تاہم اب یکم اگست کو افغان مہاجرین کو دی گئی ڈیڈ لائن گزرنے کے بعد اب سیکیورٹی اداروں نے پشاور سمیت خیبر پختونخوا کے تمام اضلاع میں غیر قانونی افغان مہاجرین کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن کی تیاریاں مکمل کرلی ہیں۔ پولیس، ضلعی انتظامیہ، اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مل کر علاقے کو زونز میں تقسیم کر دیا ہے، جبکہ قبائلی اضلاع میں یہ آپریشن سیکیورٹی فورسز کی نگرانی میں انجام دیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق افغان باشندوں کو پہلے ہی ڈیڈ لائن دی جا چکی تھی، جس پر کچھ نے عمل کیا، لیکن بڑی تعداد اب بھی مضافاتی اور دیہی علاقوں میں روپوش ہے۔ اسی وجہ سے قبائلی علاقوں اور پشاور کے نواحی علاقوں میں بلدیاتی نمائندوں، علاقہ مشران اور سماجی شخصیات کو آپریشن میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ مقامی مزاحمت کو کم سے کم رکھا جا سکے اور آپریشن روایات کے مطابق احترام کے ساتھ انجام دیا جا سکے۔ اس حوالے سے سیکورٹی حکام نے واضح اعلان کر رکھا ہے کہ افغان مہاجرین کے خلاف آپریشن کے دوران چادر اور چار دیواری کا تقدس برقرار رکھا جائے گا، اور افغانوں کو رضا کارانہ طور پر وطن واپسی کے لیے سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
یاد رہے کہ یکم اگست 2025 سے وہ تمام افغان مہاجرین جو پاکستان میں پی او آر یا اے سی سی کارڈز پر مقیم تھے، ان کی قانونی حیثیت ختم ہو چکی ہے۔ ان مہاجرین کو کئی مہینوں کی مہلت دی گئی کہ وہ اپنی جائیداد فروخت کریں، کاروبار سمیٹیں، اور باعزت طریقے سے وطن واپس لوٹ جائیں لیکن حکومتی ڈیڈ لائن ملنے کے باوجود متعد افغانی ٹس سے مس نہ ہوئے اور انھوں نے اپنا کاروبار جاری رکھا تاہم اب اب وفاق اور صوبائی حکومتوں نے واضح کر دیا ہے کہ اب افغانوں کو دی گئی ڈیڈ لائن میں نہ تو کسی قسم کی توسیع کی جائے گی اور نہ ہی اس حوالے سے مزید نرمی کی جائے گی۔ افغان مہاجرین کے خلاف کریک ڈاؤن نہ صرف ان کی گرفتاری پر منتج ہوگا بلکہ ان کے کاروبار بھی سیل کیے جائیں گے اور انہیں پشاور یا لنڈی کوتل کے کیمپوں میں رکھ کر طورخم بارڈر سے افغانستان روانہ کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق افغان شہریوں کی موبائل سمز پہلے ہی بلاک کی جا چکی ہیں جبکہ جعلی شناختی کارڈز رکھنے والوں کے خلاف مقدمات اور گرفتاری کی اجازت طلب کر لی گئی ہے۔جس کے بعد پاکستان میں جعلی شناختی کارڈز پر قیام پذیر افغانوں کو نہ صرف ملک بدر کیا جائے گا بلکہ جعلی شناختی دستاویزات بنوانے پر ان کے خلاف مقدمات بھی درج کئے جائیں گے۔
خیال رہے کہ افغان مہاجرین کی بڑی تعداد کئی دہائیوں سے پاکستان میں مقیم ہے، جنہوں نے یہاں کاروباراور جائیدادیں بنانے کے علاوہ سماجی روابط بھی قائم کر رکھے ہیں۔ پراپرٹی مارکیٹ کی گراوٹ اور معاشی بحران نے انہیں اپنی جائیدادیں بیچنے میں مشکلات سے دوچار کر رکھا ہے۔ ایسی حالت میں اچانک واپسی ان کے لیے شدید مسائل کا باعث بن سکتی ہے۔ حکومت کی طرف سے دی گئی مہلت کے باوجود کئی مہاجرین اب بھی وطن واپسی سے ہچکچا رہے ہیں تاہم حکومت ان پر کریک ڈاؤن کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ذرائع کے مطابق خیبرپختونخوا میں کچھ ایسے افغان باشندے بھی موجود ہیں جو خانہ بدوشی کی طرز پر زندگی گزار رہے ہیں، اور خیموں میں قیام پذیر ہیں۔ تاہم اطلاعات کے مطابق ایسے افغان خانہ بدوشوں کی بھی شناخت کر لی گئی ہے اور جلد انھیں بھی زبردستی واپس بھیج دیا جائے گا۔
وفاقی حکومت کی جانب سے حالیہ بے رحم کریک ڈاؤن کے فیصلے نے جہاں انسانی حقوق کی تنظیموں اور بین الاقوامی مبصرین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، وہیں تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ پاکستان کا حق ہے کہ وہ اپنے ملکی قوانین کی عملداری یقینی بنائے، اور غیر قانونی طور پر مقیم افراد کے خلاف کارروائی کرے، خاص طور پر جب ان کی موجودگی سیکیورٹی رسک سمجھی جا رہی ہو۔ تاہم، ان کارروائیوں میں توازن، انسان دوستی اور روایتی احترام کو مدنظر رکھنا انتہائی ضروری ہے۔تاکہ افغانستان کے ساتھ پاکستان کے برادرانہ تعلقات پر زد نہ آئے۔
