صدارتی ریفرنس میں سپریم کورٹ کا لارجر بنچ تشکیل دینے کا فیصلہ

عدالت عظمیٰ‌ نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی جانب سے بھیجے گئے صدارتی ریفرنس پر لارجر بنچ تشکیل دے دیا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس منیب اختر نے صدارتی ریفرنس پر لارجر بینچ بنانے کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ لارجر بینچ 24 مارچ سے معاملے پر سماعت شروع کریگا۔

اپنے ریمارکس میں چیف جسٹس نے کہا کہ یہ سارا قومی اسمبلی کا اندرونی معاملہ ہے اور بہتر ہوگا کہ اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے، عدالت نے دیکھنا ہے کہ کسی بھی فریق کے حقوق متاثر نہ ہوں، یہ صدارتی ریفرنس وزیراعظم عمران خان کے مشورے پر بھیجا گیا، جس کی بنیاد تحریک انصاف کے سربراہ کی طرف سے ایسے 14 اراکین کو شوکاز نوٹس ہے، جس میں ان سے پارٹی سے انحراف سے متعلق وضاحت طلب کی گئی۔صدر عارف علوی نے بھی اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا ہے کہ ’ریفرنس کچھ ممبران پارلیمنٹ کے انحراف کی خبروں، ملک کے موجودہ حالات کے پیش نظر فائل کیا گیا۔

وزیراعظم نے منحرف اراکین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ جو ارکان غلطی کر بیٹھے ہیں، آپ واپس آجائیں، میں آپ کو معاف کر دوں گا، آپ کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی۔اس سے قبل وفاقی وزرا شیخ رشید اور فواد چوہدری نے بھی منحرف اراکین کو واپس آنے کی صورت میں عام معافی کی یقین دہانی کرائی ہے۔وزیرداخلہ شیخ رشید نے یہاں تک کہا کہ وہ اپوزیشن جماعتوں سے پیسے لیں اور کام عمران خان کے لیے کریں۔

صدارتی ریفرنس میں انحراف کے اس عمل کو ملک کی سیاست میں کینسر قرار دیا ہے اور اس کینسر کے مستقل علاج سے متعلق بھی ججز کی توجہ دلائی گئی ہے۔ وزیراطلاعات فواد چوہدری نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ یہ ریفرنس سپریم کورٹ کو یہ موقعہ دے رہا ہے کہ ’ملک میں جاری ہارس ٹریڈنگ، موقعہ پرستی اور کرپشن کے ڈرامے ہمیشہ کیلئے ختم ہو سکیں۔

واضح رہے کہ اس وقت سپریم کورٹ وکلا کی نمائندہ تنظیم سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر احسن بھون کی ایک آئینی درخواست پر بھی سماعت کر رہی ہے، جس میں عدالت سے تحریک عدم اعتماد کے معاملے میں کارکنان میں تصادم کے خطرے کو روکنے کی ہدایات دینے کی استدعا کی گئی ہے۔ اس درخواست کی پہلی سماعت پر ہی عدالت نے یہ واضح کیا کہ وہ سیاسی معاملات اور پارلیمان کے عمل میں کسی قسم کی کوئی مداخلت نہیں کرے گی۔

عدالت عظمیٰ کے ججز سے یہ رائے مانگی گئی ہے کہ موجودہ آئینی ڈھانچے میں رہتے ہوئے کیا ایسے اقدامات اٹھائے جا سکتے ہیں کہ جس سے انحراف، فلور کراسنگ اور ووٹ بکنے جیسے عمل کو روکا جا سکے، رائے مانگنے کے علاوہ صدارتی ریفرنس میں فلورکراسنگ، ہارس ٹریڈنگ اور ووٹ کی فروخت جیسے عوامل کے جمہوری عمل پر پڑنے والے ’نقصانات‘ پر عارف علوی نے اپنی رائے دی ہے۔ ان کے مطابق جب تک اس طرح کی پریکٹسز کو ختم نہیں کیا جاتا تو اس وقت تک صحیح جمہوری عمل کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔

Back to top button