اسلام آباد میں پانی بحران پرہنگامی ایکشن پلان نافذ کرنے کا فیصلہ

وفاقی حکومت نے اسلام آباد میں پانی کے بڑھتے ہوئے بحران سے نمٹنے کے لیے ہنگامی ایکشن پلان نافذ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیر صدارت اسلام آباد میں اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں وفاقی دارالحکومت اور جڑواں شہروں میں پانی کی فراہمی بہتر بنانے کے لیے قلیل اور طویل المدتی اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری، وزیراعظم کے مشیر سید توقیر شاہ، وزارت داخلہ، کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی، واپڈا اور راولپنڈی انتظامیہ کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

اجلاس کے دوران پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بڑھانے اور ترسیلی نظام کو مضبوط بنانے سے متعلق مختلف تجاویز پر غور کیا گیا۔

وزیر داخلہ محسن نقوی نے اعلان کیا کہ سی ڈی اے پنجاب حکومت کے اشتراک سے نئے ڈیمز تعمیر کرے گی تاکہ اسلام آباد اور راولپنڈی کی طویل المدتی پانی کی ضروریات پوری کی جا سکیں۔

اجلاس میں چراہ، دوتیرہ اور شاہدرا سمیت مختلف چھوٹے ڈیمز اور آبی ذخائر سے متعلق پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا۔

واپڈا اور سی ڈی اے حکام نے شہری اور دیہی علاقوں میں پانی کی فراہمی بڑھانے کے لیے فزیبلٹی رپورٹس، ٹائم لائنز اور مختلف آپشنز پیش کیے۔

اجلاس میں دوتیرہ ڈیم کی منظوری دی گئی جو یومیہ 110 ملین گیلن پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اسے 2 سال میں مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

وزیر داخلہ نے موجودہ پانی کی ترسیل کے نظام میں خامیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ سسٹم کی فوری جانچ کی جائے اور بلا تعطل پانی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ اسلام آباد کے شہریوں کو پانی کی فراہمی ان کی اولین ترجیح ہے۔

محسن نقوی نے قلیل المدتی منصوبے کے تحت فوری اور عملی اقدامات کرنے، دستیاب تمام وسائل بروئے کار لانے اور پانی چوری و غیر قانونی کنکشنز کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کا بھی حکم دیا۔

 

Back to top button