یکم اگست سے افغانوں کیخلاف حتمی کریک ڈاؤن شروع کرنےکافیصلہ

"افغان باشندوں کو رضاکارانہ واپسی کے لیے دی گئی ڈیڈ لائن دوسری بار ختم ہونے کے بعد افغانیوں کے خلاف ملک گیر سطح پر منظم اور فیصلہ کن کارروائی کا امکان شدت اختیار کر گیا ہے کیونکہ حکومت نے غیر رجسٹرڈ افغانیوں کے خلاف یکم اگست سے بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن شروع کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔

تاہم افغان باشندوں نے ملک بدری اور کسی قانونی کارروائی سے بچنے کیلئے پشاور سمیت خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں پناہ لے لی ہے جہاں حکومتی سطح پر ان کیخلاف کسی قسم کی قانونی کارروائی کرنے کی بجائے انھیں مکمل تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخواہ حکومت کے عدم تعاون کے باوجود پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم افغانیوں کے لیے حکومت کی جانب سے اعلان کردہ31 جولائی کی ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد یکم اگست سے ایسے لوگوں کی گرفتاری کا سلسلہ شروع ہو جائے گا جس کے بعد انہیں فوری طور پر بے دخل کر کے افغانستان واپس بھجوا دیا جائے گا۔ وزارت داخلہ کے ذرائع کے مطابق غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کی گرفتاری کے بعد ملک بدری کے لیے تمام تر انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔

روزنامہ امت کی ایک رپورٹ کے مطابق حکومت نے پاکستان میں مقیم افغانیوں کیلئے نئی پالیسی کا اعلان کر دیا ہے۔

نئی پالیسی کے تحت افغانیوں کے لئے پاسپورٹ رکھنالازمی قرار دیا گیا ہے جبکہ اس حوالے سے جعلی کارڈ ہولڈرز کی نشاندہی بھی جاری ہے تاہم صوبے کے مختلف اضلاع سمیت پشاور کے مضافاتی علاقوں میں افغانوں نے ڈیرے ڈال دیئے اور کارروائی سے بچنے کیلئے بیشتر افغان خاندانوں نے واپس اپنے وطن جانے کے لئے رجسٹریشن کرانا شروع کر دی۔ لیکن اب بھی صوبے کے مختلف اضلاع اور پشاور کے دیہاتی علاقوں میں افغانوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے جنہوں نے خانہ بدوشوں جیسی زندگی بسر کرنا شروع کر دی ہے۔ تاہم پولیس نے مرتب کردہ ڈیٹا اور ریکارڈ کے مطابق کارروائیوں کی اجازت ملنے کے بعد یکم اگست سے کریک ڈاؤن کی تیاری مکمل کر لی ہے جس کے بعد غیر قانونی طریقے اور ذرائع استعمال کر کے واپس نہ جانے والے افغان باشندوں کا قانون کی گرفت سے بچنا ممکن نہیں ہو گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت پاکستان کی جانب سے دی جانے والی پہلی ڈیڈ لائن کے بعد ہی سیکورٹی اداروں  نے تمام ریکارڈ مختلف ذرائع اور بلدیاتی نمائندوں کی مدد سے حاصل کر لیا تھا جس سے معلوم ہوا تھا کہ پشاور کے مضافات میں غیر قانونی طور پر مقیم افغانوں میں ایک بڑی تعدا د افغان تاجروں کی بھی ہے جو پشاور سمیت صوبے کے مختلف اضلاع میں رہائش پذیر ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض افغان تاجروں نے جائیداد اور کاروبار فروخت نہ ہونے کی وجہ سے اپنے گھروں کو تالے لگا کر رشتہ داروں کے گھروں کا رخ کیا ہے۔ تاہم حکومت اور پولیس کی جانب سے سخت اقدامات کے تحت ان کے گھروں کے بھی سیل کئے جانے کے امکانات موجود ہیں جبکہ غیر قانونی طریقے سے پاکستان میں رہنے والے افغان باشندوں کو پناہ دینے والے پاکستانیوں کے خلاف بھی قانون کے مطابق کارروائی کی جاسکتی ہے۔ اس لئے حکام کی جانب سے پاکستانی عوام کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس حوالے سے حکومت اور پولیس کے ساتھ تعاون کریں اور جو افغان باشندے غیر قانونی طور پر پاکستان میں رہ رہے ہیں ان کو پناہ دینے یا سہولیات فراہم کرنے سے گریز کریں۔

ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے غیر رجسٹرڈ اور غیر قانونی طور پر مقیم افغان مہاجرین کے خلاف یکم اگست سے آپریشن پر غور شروع کر دیا ہے جبکہ ڈیڈ لائن گزرنے کے باوجود کاروبار کرنے والے غیر رجسٹرڈ افغانیوں کے خلاف بھی کارروائی کی منصوبہ بندی مکمل کر لیہے ۔ ذرائع کے بقول پشاور سمیت ملک بھر میں غیر قانونی طور پر پاکستانی شناختی کارڈز حاصل کرنے والے افغان شہریوں کی بھی نشاندہی کی جارہی ہے اور اس کے علاوہ غیر قانونی طور پر پاکستانی گاڑیوں کے رجسٹریشن نمبر استعمال کرنے والے افغان شہریوں کی فہرستیں بھی تیار کئے جانے کا عمل مکمل ہو چکا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم اگست سے غیر قانونی طور پر پاکستان میں رہنے والے افغان شہریوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کا امکان ہے اور اس دوران گرفتاریاں بھی عمل میں لائی جاسکتی ہے اور قانونی کارروائی کے بعد انہیں واپس اپنے وطن بھیج دیا جائے گا۔ ذرئع کے مطابق نئی پالیسی کے تحت اب افغان شہریوں کو اپنے قانونی دستاویزات درست کرنے کا موقع دیا جائے گا بصورت دیگر انہیں گرفتاری کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ذرائع کے مطابق پشاور کے مضافاتی علاقوں اور دیہات میں ایسے افغان باشندوں کی بڑی تعداد موجود ہے جو واپس جانے کے لئے تیار نہیں اور جن کا کاروبار وغیرہ پاکستان میں ہی موجود ہے۔

دوسری جانب ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ پنجاب میں سخت کارروائیوں کے ڈر سے افغان مہاجرین کی ایک بڑی تعداد پہلے سے ہی پشاور سمیت مختلف اضلاع اور مضافاتی علاقوں کو پہنچ چکی ہے اور یہاں پر انہیں فی الحال کسی سخت کارروائی کا خوف نہیں۔ تاہم حکومت پاکستان کی جانب سے یکم اگست کی تاریخ دیئے جانے کے بعد پشاور اور صوبے کے دیگر اضلاع کی پولیس بھی حرکت میں آگئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ غیر قانونی افغان باشندوں کے خلاف بلاتفریق کارروائی کے تحت بڑے پیمانے پر گرفتاریوں کا امکان بھی موجود ہے جبکہ اس حوالے سے چھاپوں کا سلسلہ یکم اگست سے شروع کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق سیکورٹی اداروں کی جانب سے پشاور کے ایسے مضافاتی علاقوں اور دیہاتوں کو ٹارگٹ کر لیا گیا ہے جہاں پر خانہ بدوش خیموں میں زندگی گزار رہے ہیں، یکم اگست کے بعد کی جانے والی کارروائیوں کے دوران ایسے مقامات کی سخت جانچ پڑتال اور چھان بین بھی کی جائے گی اور اس بات کی تصدیق کی جائے گی کہ کہیں خانہ بدوشوں کے روپ میں افغان مہاجرین تو کیمپوں میں نہیں رہ رہے تا کہ غیر قانونی طریقے استعمال کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جاسکے۔

Back to top button