موٹر سائیکل اور رکشہ والوں کو سبسڈی پر پیٹرول فراہمی کا فیصلہ

 

 

 

 

وفاقی حکومت نے موٹر سائیکلوں اور رکشہ والوں کو موبائل ایپ کے ذریعے سستا پیٹرول فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کا مقصد کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف فراہم کرنا، سرکاری وسائل کے ضیاع کو روکنا اور شفاف نظام کے ذریعے سبسڈی کی مؤثر تقسیم یقینی بنانا ہے۔

 

وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں ایک اعلیٰ سطحی مشاورتی اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کی۔ اجلاس میں چاروں صوبوں کے نمائندوں، وزارت پیٹرولیم، وزارت آئی ٹی اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی دستیابی، قیمتوں کی صورت حال، سبسڈی کے نظام اور آئندہ حکمت عملی پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس کے دوران پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے بریفنگ دی گئی جس میں بتایا گیا کہ ملک بھر میں ایندھن کی فراہمی اس وقت مستحکم اور تسلی بخش ہے۔ تاہم عالمی منڈی میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے پیش نظر حکومت ایسے اقدامات پر غور کر رہی ہے جن سے عوام کو ریلیف دیا جا سکے جبکہ مالیاتی استحکام بھی برقرار رہے۔

 

اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ موٹرسائیکل اور رکشا صارفین کے لیے ایک موبائل ایپ پر مبنی کوٹہ سسٹم متعارف کرایا جائے گا۔ اس نظام کے تحت صارفین اپنی شناختی معلومات، یعنی گاڑی کے رجسٹریشن نمبر اور کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ کے ذریعے ایپ میں رجسٹر ہوں گے۔ اسکے بعد انہیں مخصوص مقدار میں سبسڈی والا پیٹرول فراہم کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق اس نظام کے تحت دو الگ الگ ایپس تیار ہوں گی، ایک ایپ صارفین کے لیے جبکہ دوسری ایپ پیٹرول پمپس اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے لیے ہو گی۔ صارف ایپ کے ذریعے ڈیجیٹل واؤچر حاصل کرے گا جسے پیٹرول پمپ پر سکین یا درج کیا جائے گا، اور سسٹم خودکار طریقے سے صارف کے کوٹے کی تصدیق کرے گا۔ اگر صارف کے کوٹے سے زیادہ پیٹرول کی درخواست کی جائے تو صرف مقررہ مقدار ہی فراہم کی جائے گی۔

 

اس منصوبے پر عملدرآمد کے لیے نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ نے 24 ہزار سمارٹ فونز کی خریداری کے لیے اظہار دلچسپی طلب کر لیا ہے۔ یہ فونز ملک بھر کے پیٹرول پمپس پر فراہم کیے جائیں گے تاکہ ایپ کے ذریعے نظام کو مؤثر انداز میں چلایا جا سکے۔ وزارت آئی ٹی کے مطابق یہ فونز نئے، پی ٹی اے سے منظور شدہ اور کم از کم ایک سال وارنٹی کے حامل ہوں گے۔ منتخب سپلائر کو 12 ہزار فونز فوری طور پر 12 سے 18 گھنٹوں کے اندر فراہم کرنا ہوں گے جبکہ باقی 12 ہزار فونز چھ دن کے اندر فراہم کیے جائیں گے۔ تمام فونز میں حکومتی ایپ پہلے سے انسٹال ہوگی۔ اہم بات یہ ہے کہ اس منصوبے کے لیے سرکاری خزانے پر بوجھ نہیں ڈالا جائے گا۔

 

وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے مطابق موبائل فونز کی خریداری آئل مارکیٹنگ کمپنیاں  کریں گی، جبکہ حکومت صرف اس نظام کی نگرانی اور پالیسی سازی کا کردار ادا کرے گی۔ وزارت خزانہ نے اجلاس میں واضح کیا کہ حکومت کے پاس مالی گنجائش محدود ہے اور زیادہ تر وسائل پیٹرولیم لیوی سے حاصل ہو رہے ہیں۔ اس لیے کسی بھی ریلیف پیکیج کو انتہائی احتیاط سے ترتیب دینا ضروری ہے تاکہ معیشت پر دباؤ نہ بڑھے۔

ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے صوبوں، خصوصاً پنجاب اور سندھ، سے بھی درخواست کی ہے کہ وہ عالمی منڈی میں قیمتوں میں اضافے کے بوجھ کو مشترکہ طور پر برداشت کریں تاکہ ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ نہ کرنا پڑے۔

 

وزارت آئی ٹی کے مطابق اس منصوبے کے تحت اوگرا کا ڈیش بورڈ بھی فعال کیا جائے گا، جس سے پیٹرولیم سپلائی چین کی نگرانی، ڈیٹا اکٹھا کرنے اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ میں مدد ملے گی۔ اس نظام کے ذریعے نہ صرف تیل کے موجودہ بحران سے نمٹنے میں مدد ملے گی بلکہ مستقبل میں بھی توانائی کے شعبے کو زیادہ مؤثر اور شفاف بنایا جا سکے گا۔

پاکستانی ثالثی: بھارتی قیادت ایک دوسرے کے خلاف کھڑی ہو گئی

موبائل ایپ کے ذریعے سبسڈی کی فراہمی کا یہ منصوبہ پاکستان میں ڈیجیٹل گورننس کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ اگر یہ نظام مؤثر انداز میں نافذ ہو جاتا ہے تو نہ صرف مستحق افراد کو براہ راست فائدہ پہنچے گا بلکہ کرپشن، بدعنوانی اور وسائل کے ضیاع میں بھی نمایاں کمی آئے گی، جس سے معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہونے کی توقع ہے۔

Back to top button