پنجاب میں قدیم فوجداری قوانین کو تبدیل کرنے کا فیصلہ

حکومت پنجاب نے قدیم فوجداری قوانین کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے ”قانونی اصلاحات کمیٹی“ تشکیل دےدی ہے جو فوجداری قوانین میں ضروری ترامیم اور بہتری کےلیے سفارشات مرتب کرے گی۔
محکمہ داخلہ پنجاب کی تشکیل کردہ کمیٹی قومی سلامتی کے قانون کا مسودہ بھی تیار کرےگی اور جرائم کی روک تھام، قانون کے مؤثر نفاذ اور امن عامہ کی بحالی کےلیے قانونی اصلاحات تجویز کرےگی۔
خصوصی طور پر خواتین اور بچوں کےتحفظ کے قوانین میں ترامیم کی جائیں گی، جب کہ انسداد دہشت گردی،سائبر کرائم،سائبر سکیورٹی اور بین الصوبائی روابط کے قوانین کو بھی جدید دور کےمطابق بنایا جائےگا۔
کمیٹی جدید سائنسی تکنیک،قوانین اور معاشرتی ضروریات کو مدنظر رکھتےہوئے ترامیم تجویز کرےگی۔ ڈی آئی جی کامران عادل کمیٹی کے سربراہ ہوں گے جب کہ ایڈیشنل سیکرٹری (جوڈیشل) محکمہ داخلہ عمران حسین رانجھا کمیٹی کے سیکرٹری مقرر کیےگئے ہیں۔
دیگر اراکین میں ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ قانون،ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب اور پراسییوٹر جنرل پنجاب کے نمائندےشامل ہیں۔
پلڈاٹ نے پارلیمنٹ کے پہلے سال کی کارکردگی رپورٹ جاری کردی
کمیٹی تین ماہ کے اندر اپنی رپورٹ محکمہ داخلہ کو پیش کرےگی۔محکمہ داخلہ پنجاب نے کمیٹی کے قیام کا باضابطہ نوٹی فکیشن جاری کردیا ہے۔
