پاکستان کے تینوں بڑے ائیر پورٹس اوپن بڈنگ سے بیچنے کا فیصلہ

حکومتِ پاکستان نے ملک کے تین بڑے اور مصروف ترین بین الاقوامی ہوائی اڈوں اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ، جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کراچی اور علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئر پورٹ لاہور کی آؤٹ سورسنگ کے عمل کو گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ ماڈل کے بجائے اوپن بڈنگ کے ذریعے مکمل کرنے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے۔ یہ فیصلہ نجکاری کمیشن آف پاکستان نے ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے غیر معمولی دلچسپی سامنے آنے کے بعد کیا ہے، جس کا مقصد بولی کے عمل کو زیادہ مسابقتی، شفاف اور جامع بنانا ہے۔
نجکاری کمیشن کے مطابق ابتدائی طور پر ان ہوائی اڈوں کے لیے گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ بنیاد پر مختلف آپشنز زیر غور تھے، تاہم سرمایہ کاروں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی اور عالمی سطح پر مثبت ردعمل کے باعث اس طریقہ کار میں تبدیلی کی گئی۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ اوپن بڈنگ کے تحت تمام اہل اداروں، خواہ وہ مقامی ہوں یا غیر ملکی، کو مساوی بنیادوں پر بولی میں حصہ لینے کا موقع دیا جائے گا تاکہ کسی بھی قسم کے امتیاز کے بغیر بہترین مالی اور انتظامی تجاویز سامنے آ سکیں۔
نجکاری کمیشن کی جانب سے کہا گیا ہے کہ مجوزہ مسابقتی عمل میں شمولیت کو مرکزی حیثیت حاصل ہوگی اور اس میں دوست ممالک سمیت تمام شراکت دار ریاستوں کے سرمایہ کاروں کو خوش آمدید کہا جائے گا۔ کمیشن کے مطابق یہ حکمتِ عملی نہ صرف شفافیت اور منصفانہ مقابلے کو فروغ دے گی بلکہ پاکستان کی معیشت کے لیے زیادہ فائدہ مند نتائج حاصل کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوگی، جبکہ بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا ذریعہ بھی بنے گی۔
یاد رہے کہ حکومت پاکستان اس وقت ملک کے تینوں بڑے ہوائی اڈوں کے لیے مختلف انتظامی اور کمرشل ماڈلز پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے، جن میں مینجمنٹ کنٹریکٹس اور طویل المدتی کمرشل کنسیشنز شامل ہیں۔ ان ماڈلز کے تحت نجی شعبے کو ہوائی اڈوں کے انتظام، آپریشنز اور تجارتی سرگرمیوں میں کردار دیا جائے گا، جبکہ ملکیت حکومت کے پاس ہی رہے گی۔ اسی پالیسی کے تسلسل میں اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو باضابطہ طور پر ایکٹو نجکاری پروگرام میں شامل کر لیا گیا ہے، جو کراچی اور لاہور کے ہوائی اڈوں کے لیے جاری عمل سے ہم آہنگ ہے۔
نجکاری کمیشن کے مطابق یہ فیصلہ متحدہ عرب امارات، ترکیہ اور سعودی عرب سمیت مختلف دوست ممالک کے اداروں اور دیگر عالمی سرمایہ کاروں کے ساتھ ہونے والے تفصیلی اور تعمیری مذاکرات کے بعد سامنے آیا ہے۔ ان مذاکرات میں ہوائی اڈوں کے انتظام، سرمایہ کاری کے امکانات اور طویل المدتی تعاون کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ کمیشن نے واضح کیا ہے کہ حکومت کے اس فیصلے کے بنیادی مقاصد ہوائی اڈوں کی آپریشنل کارکردگی میں بہتری لانا، مسافروں کو بہتر اور عالمی معیار کی سہولیات فراہم کرنا، محصولات میں اضافہ کرنا، بنیادی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنا اور نجی شعبے کی سرمایہ کاری کو متحرک کرنا ہیں۔ ان اقدامات کو پاکستان کے ہوابازی کے شعبے کی جدید کاری اور معاشی بحالی کے وسیع تر وژن کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔
ادھر نجکاری کمیشن نے نیویارک میں واقع حکومتِ پاکستان کی ملکیت روز ویلٹ ہوٹل سے متعلق بھی اہم پیش رفت کی ہے۔ کمیشن نے ہوٹل کے لیے فنانشل ایڈوائزر کی تقرری کے لیے تکنیکی اور مالی تجاویز طلب کر لی ہیں، جس کا مقصد مین ہیٹن میں واقع اس قیمتی اثاثے کو مشترکہ منصوبے کے تحت مکسڈ یوز ڈیولپمنٹ کے لیے استعمال کرنا ہے۔ نجکاری کمیشن کی ویب سائٹ کے مطابق فنانشل ایڈوائزر کے انتخاب کے لیے درخواستیں 16 فروری 2026 تک جمع کرائی جا سکتی ہیں، جبکہ حکومت کا ہدف ہے کہ روز ویلٹ ہوٹل سے متعلق مجوزہ لین دین ایک سال کے اندر مکمل کر لیا جائے۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ ہوٹل کو نجکاری کے لیے سب سے موزوں ٹرانزیکشن سٹرکچر اور طریقہ کار کے تحت پیش کیا جائے گا تاکہ سرمایہ کاروں کی زیادہ سے زیادہ دلچسپی حاصل کی جا سکے۔
نجکاری کمیشن کے مطابق منتخب فنانشل ایڈوائزر سرمایہ کاروں کی دلچسپی جانچنے کے لیے مارکیٹ ساؤنڈنگ کرے گا، ممکنہ سرمایہ کاروں کی نشاندہی کرے گا اور سرمایہ کاری کے مختلف آپشنز پر رپورٹ مرتب کرے گا، جس میں سابقہ فنانشل ایڈوائزر کی سفارشات کو بھی مدنظر رکھا جائے گا۔ اس کے علاوہ عالمی سطح پر ایک مؤثر مارکیٹنگ حکمتِ عملی تیار اور نافذ کی جائے گی، جس کے تحت روزویلٹ ہوٹل کی جگہ، حیثیت اور سرمایہ کاری کی صلاحیت کو اجاگر کیا جائے گا تاکہ ممکنہ سرمایہ کاروں کی جانب سے اظہارِ دلچسپی حاصل ہو سکے۔
اسکے علاوہ فنانشل ایڈوائزر ممکنہ سرمایہ کاروں کے ساتھ ملاقاتوں کا اہتمام بھی کرے گا تاکہ انویسٹرز کے پروفائل، سرمایہ کاری کے رجحانات اور عالمی سرمایہ کاری ماحول کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔
واضح رہے کہ نیویارک میں پرائم لوکیشن ہر واقع 19 منزلہ روزویلٹ ہوٹل امریکہ کے اعلیٰ درجے کے ہوٹلز میں شمار ہوتا ہے۔ اس میں ایک ہزار پچیس کمرے موجود ہیں اور اس کا کورڈ ایریا چھ لاکھ مربع فٹ سے زائد ہے۔ روزویلٹ ہوٹل مکمل طور پر پی آئی اے انویسٹمنٹ لمیٹڈ کی ملکیت ہے، جو حکومتِ پاکستان کے زیر انتظام ادارہ ہے، اور یہ اس وقت حکومت کے نجکاری پروگرام میں شامل واحد رئیل اسٹیٹ اثاثہ ہے۔
لاہوریوں کا 20 کلو سونا لوٹنے والا فراڈیا حاجی کیسے گرفتار ہوا ؟
حکومتی ذرائع کے مطابق ہوائی اڈوں اور روزویلٹ ہوٹل سے متعلق فیصلے قومی اثاثوں کے مؤثر استعمال، آمدن میں اضافے، مالی دباؤ میں کمی اور ملکی معیشت کو مستحکم کرنے کی وسیع حکمتِ عملی کا حصہ ہیں۔
