ڈیپ فیک ٹیکنالوجی پر نئی بحث کیوں چھڑ گئی؟

بھارتی اداکارہ رشمیکا مندانا کی قابل اعتراض لباس میں جعلی ویڈیو سامنے آنے کے بعد ڈیپ فیک ٹیکنالوجی پر نئی بحث کا آغاز ہو گیا، رشمیکا نے سپرہٹ فلم ’’پشپا‘‘ سے اپنی پہچان بنائی جس کے بعد انھوں نے کئی بڑی فلموں میں کام کیا، ڈیپ فیک ویڈیو کے ذریعے تیار کردہ اس ویڈیو میں نظر آنے والی خاتون کو رشمیکا مندانا کے طور پر دکھانے کی کوشش کی گئی ہے۔رشمیکا نے اس واقعے پر ’دکھ‘ کا اظہار کیا ہے اور جلد از جلد اس کا حل تلاش کرنے کی اپیل کی تاکہ کسی اور کو ان کی طرح ’دُکھ‘ کا سامنا نہ کرنا پڑے، رشمیکا نے سوشل پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ سچ میں، اس طرح کی کوئی بھی چیز بہت خوفناک ہے، نہ صرف میرے لیے بلکہ ہم سب کے لیے۔انھوں نے مزید لکھا کہ آج جس طرح ٹیکنالوجی کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے، اس سے نہ صرف انھیں بلکہ بہت سے دوسرے لوگوں کو بھی بڑا نقصان ہو سکتا ہے۔رشمیکا نے لکھا کہ آج ایک عورت اور ایک اداکار ہونے کے ناطے، میں اپنے خاندان، دوستوں اور خیر خواہوں کی شکر گزار ہوں جو میرے محافظ اور میرا سپورٹ سسٹم ہیں لیکن اگر ایسا کچھ اس وقت ہوا ہوتا جب میں سکول یا کالج میں تھی تو میں واقعی یہ سوچ بھی نہیں سکتی کہ میں اس کا سامنا کیسے کرتی۔اس ویڈیو کا حوالہ دیتے ہوئے بالی وڈ کے ’شہنشاہ‘ امیتابھ بچن نے کہا ہے کہ ’اس معاملے میں قانونی کارروائی کی جانی چاہئے، وزیر راجیو چندر شیکھر نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو اس بات کو یقینی بنانا چاہئے کہ ان کے پلیٹ فارم پر غلط معلومات نہ شیئر کی جائيں۔حقائق کی جانچ کرنے والی ویب سائٹ ’آلٹ نیوز‘ سے وابستہ ابھیشیک نے ٹوئٹر پر لکھا یہ ویڈیو ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے بنائی گئی ہے اور ویڈیو میں نظر آنے والی خاتون رشمیکا مندانا نہیں ہیں، ڈیپ فیک ایک ایسی تکنیک ہے جو ویڈیوز، تصاویر اور آڈیوز کو جوڑ توڑ کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتی ہے۔اس ٹیکنالوجی کی مدد سے کسی دوسرے شخص کی تصویر یا ویڈیو کو استعمال کرتے ہوئے اس پر کسی دوسرے شخص کا چہرہ لگا کر تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ڈیپ فیک ایک بہت ہی پیچیدہ ٹیکنالوجی ہے۔ اس کے لیے مشین لرننگ یعنی کمپیوٹر میں مہارت ہونی چاہئے۔ڈیپ فیک مواد دو الگورتھم کا استعمال کرتے ہوئے بنایا گیا ہے۔ ایک کو ڈیکوڈر کہتے ہیں اور دوسرے کو انکوڈر کہتے ہیں، ہر بار جب ڈیکوڈر مواد کو اصلی یا جعلی کے طور پر درست طریقے سے شناخت کرتا ہے، تو نقص کو درست کرکے اگلے ڈیپ فیک کو بہتر بنانے کے لیے اس معلومات کو انکوڈر کو بھیجتا ہے۔

Back to top button