وزیردفاع نےپاک فوج سے متعلق اپوزیشن لیڈرکےبیان کوغیرذمہ دارانہ قرار دیدیا

وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں لیڈر آف اپوزیشن محمود خان اچکزئی کے پاک فوج سے متعلق بیان کو بڑا غیر ذمہ دارانہ عمل قرار دے دیا۔

قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ لیڈر آف اپوزیشن نے کہا کہ پاکستان کی فوج چار اضلاع کی فوج ہے، اس سے بڑا غیر ذمہ دارانہ بیان نہیں ہوسکتا، محمود خان اچکزئی سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی تھی، اس وقت پاکستانی فوج کا تشخص قومی ہے۔

وزیر دفاع نے کہا کہ پانچ سال میں تین ہزار ایک سو اکتالیس اہلکار شہید ہوئے، کشمیر، بلوچستان، گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا، پنجاب اور سندھ کے افسران اور جوان شہید ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ محمود اچکزئی نظریات رکھیں لیکن اٹیک نہ کریں، پاک فوج کسی صوبے یا ضلع کی فوج نہیں ہے، دہشت گردی کی اس جنگ میں ہم روزانہ نقصان اٹھا رہے ہیں جبکہ بلوچستان میں 200 سے زیادہ دہشت گرد مارے گئے ہیں۔

وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ اسلام میں خون خرابے کی کوئی اجازت نہیں ہے ہمارے فوجیوں کی گردنیں تنوں سے جدا کر دی جاتی ہیں، پاک فوج اپنے خون سے اپنے حلف کی تائید کر رہے ہیں۔

خواجہ آصف نے کہا کہ ہم سیاست دان گرے ایریاز میں رہ رہے ہوتے ہیں، ہم پارٹیاں بدلتے ہیں لیکن ان شہیدوں نے پارٹیاں نہیں بدلیں۔

خواجہ آصف نے کہا کہ ہم اپنے مفادات اور اقتدار کی جنگ لڑ رہے ہیں اگر میں خون سے کھینچی ہوئی لکیر کراس کرتا ہوں تو ایوان میں بیٹھنے کا حق نہیں، میرا محمود خان اچکزئی سے پرانا تعلق ہے اور میں نے ان کی طرح محمود اچکزئی کی نقل نہیں اتاری۔

خواجہ آصف نے کہا کہ کیا پاکستانی فوج چار ضلعوں کی فوج ہے؟ انہوں نے کہا کہ پنجابیوں کے شناختی کارڈ دیکھ کر پنجابی مزدوروں کو قتل کیا جاتا ہے، لیکن اس کو صوبائیت کا رنگ نہیں دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ میرے اعداد و شمار کو چیلنج کریں کہ یہ چار ضلعوں کی فوج ہے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ اس قسم کا غیر ذمہ دارانہ بیان اس عہدے کی تذلیل ہے، یہ پورے قوم کی جنگ ہے، کسی ضلع کی نہیں۔

Back to top button