اسلام آباد کےبلدیاتی انتخابات میں تاخیر، وزیر داخلہ ذاتی حیثیت میں طلب

وفاقی دارالحکومت میں بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کے معاملے پر الیکشن کمیشن آف پاکستان نے وزیر داخلہ کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا جبکہ سیکریٹری داخلہ کو توہین کمیشن کا نوٹس جاری کیا گیا۔
کیس کی سماعت چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے کی۔ سماعت کے دوران چیف کمشنر اسلام آباد علی رندھاوا پیش ہوئے، لیکن سیکریٹری داخلہ پیش نہ ہوئے۔
چیف الیکشن کمشنر نے استفسار کیا کہ سیکریٹری داخلہ کہاں ہیں اور ہدایت دی کہ اگلی سماعت پر وزیر داخلہ خود ذاتی حیثیت میں پیش ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اگر سیکریٹری تعاون نہیں کر رہے تو سخت اقدامات کیے جائیں گے۔ الیکشن کمیشن نے سیکریٹری داخلہ کو چٹھی بھیجی تھی، لیکن کوئی جواب نہیں آیا، جس پر توہین کمیشن کا نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
سماعت کے دوران الیکشن کمیشن کے حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ ڈی مارکیشن نوٹی فکیشن جاری کیا جائے اور اسلام آباد کے میپ اور ممبر یونین کونسل کی تعداد طے کی جائے تاکہ ڈی لیمیٹیشن کا عمل شروع ہو سکے۔ چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ آئی سی ٹی انتظامیہ معاملے کو ہلکا لے رہی ہے اور یہ انتخابات براہِ راست آئی سی ٹی کی ذمہ داری ہیں۔
چیف کمشنر نے مزید کہا کہ تین وفاقی وزرا پہلے کمیشن میں آئے اور یقین دہانی کر کے گئے تھے، اور کہا کہ کمیشن کو مجبور نہ کیا جائے کہ سخت کارروائی کی جائے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ منگل تک چیف کمشنر اسلام آباد پیش رفت سے آگاہ کریں۔
