عدم اعتماد پر ووٹنگ میں تاخیر کپتان کی فراغت کا ثبوت

عدم اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ کے لیے قومی اسمبلی کا اجلاس جلد از جلد بلانے کی بجائے اسے لٹکا کر وزیر اعظم عمران خان نے اپوزیشن کے اس دعوے کو تقویت فراہم کی ہے کہ انہیں 342 کے ایوان میں 172 اراکین کی حمایت میسر نہیں رہی ہے۔
وزیراعظم نے اپوزیشن کی کامیابی کے دعوؤں کے حق میں دوسرا ثبوت اپنے 10 لاکھ حامیوں کو تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ سے ایک روز پہلے اسلام آباد میں جمع کرنے کا اعلان کر کے دیا یے۔ ان کے بلائے گئے اجتماع کی رونق بڑھانے کے لئے مولانا فضل الرحمن اور شہباز شریف نے بھی 25 مارچ کو اپنے حامیوں کو اسلام آباد پہنچنے کی کال دے دی ہے جس کے بعد دونوں فریقین میں تصادم کے خطرات پیدا ہو گئے ہیں۔
تاہم سینئر صحافی نصرت جاوید کہتے ہیں کہ دونوں جانب سے اسلام آباد کو بپھرے ہجوم کے حوالے کرنے کی ضد وطن عزیز میں امن وامان کے حتمی ذمہ دار ادارے کو لاتعلق نہیں رہنے دے گی۔ اپنی تازہ تحریر میں وہ یاد دلاتے ہیں کہ 1993 میں نواز شریف کی پہلی حکومت کے دوران محترمہ بے نظیر بھٹو لانگ مارچ کی صورت اسلام آباد پہنچ رہی تھیں۔ دوسری جانب نواز شریف اور غلام اسحاق خان میں تلخیاں عروج پر پہنچ چکی تھیں، چنانچہ تب کے آرمی چیف جنرل وحید کاکڑ متحرک ہونے پر مجبور ہو گے۔ انکی مداخلت ’’کاکڑ فارمولہ‘‘ پر منتج ہوئی جس کے مطابق وزیر اعظم نواز شریف اور صدر غلام اسحاق خان دونوں کو اپنے عہدوں سے مستعفی ہونا پڑا۔ بقول نصرت جاوید، مجھے خدشہ ہے کہ 27 مارچ کے دن اسلام آباد میں ’’دس لاکھ‘‘ افراد جمع کرنے کی عمرانی ضد 1993 کی تاریخ دہرانے کو مجبور کر دے گی۔
نصرت جاوید کہتے ہیں کہ ہمارا آئین تحریری طور پر مرتب ہوا ہے۔ وزیر اعظم کو ہمارے تحریری آئین نے ”چیف ایگزیکٹو“ قرار دے رکھا ہے۔ اسے منتخب کرنے یا وزارت عظمیٰ کے منصب سے ہٹانے کے ضوابط بھی واضح انداز میں بیان کردیے گئے ہیں۔ ان تحریری ضوابط سے ابہام کی گنجائش نکالنا ممکن نظر نہیں آتا۔ لیکن ہمارے ہر حکمران کو خواہ وہ منتخب ہو یا وردی میں ملبوس، ایسے نورتن ماہرین قانون ہمیشہ مل جاتے ہیں جو تحریری آئین کو بھی موم کی ناک بنا دیتے ہیں۔
ان دنوں بھی ایسا ہی کھلواڑ برپا ہے۔ 8 مارچ کو اپوزیشن جماعتوں نے مل کر قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کروائی۔ ہمارے تحریری آئین کا آرٹیکل 95۔ Aواضح انداز میں بیان کرتا ہے کہ اگر اراکین قومی اسمبلی کی مختص تعداد تحریری صورت میں وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کردے تو زیادہ سے زیادہ سات دنوں کے درمیان قومی اسمبلی کا اجلاس بلواکر اس کی بابت گنتی کروالی جائے گی۔ نصرت کہتے ہیں کہ آرٹیکل 95۔ Aکئی بار پڑھنے کے بعد مجھ سادہ لو ح نے فرض کر لیا کہ قومی اسمبلی کے سیکرٹریٹ میں تحریک عدم اعتماد جمع ہوجانے کے بعد زیادہ سے زیادہ 15 مارچ 2022 تک یہ فیصلہ ہو جائے گا کہ عمران خان کو وزارت عظمیٰ کے منصب پر برقرار رکھنے والی اکثریت میسر ہے یا نہیں۔ سیانوں نے مگر سمجھایا کہ ”سات دن“ کا آغاز درحقیقت اس روز سے ہوتا ہے جب قومی اسمبلی کے رواں اجلاس کے دوران وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد ایوان میں بھی پیش کردی جائے۔
نصرت جاوید کہتے ہیں کہ یہ دلیل سنتے ہوئے میرے جھکی ذہن میں سوال اٹھتا رہا کہ اگر تحریک عدم اعتماد قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران ہی پیش کی جا سکتی ہے تو اپوزیشن نے اسے قومی اسمبلی کے سیکرٹریٹ میں جمع کروانے کی ضرورت کیوں محسوس کی۔ اس کے علاوہ خیال یہ بھی آیا کہ اگر کوئی وزیر اعظم اکثریت کھو دینے کے باوجود کئی ہفتوں تک قومی اسمبلی کا اجلاس منعقد کروانے کی اجازت ہی نہ دے تو اسے لگام کیسے ڈالی جائے۔ میرے اس سوال کا جواب دینے کے بجائے حکومتی سیانوں کی جانب سے یاد دلایا گیا کہ قومی اسمبلی کے سیکرٹریٹ میں فقط وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد ہی جمع نہیں کروائی گئی ہے۔ ایک اور درخواست کے ذریعے تقاضا یہ بھی ہوا کہ قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کیا جائے۔
ہمارے آئین میں یہ بھی لکھ دیا گیا ہے کہ اگر اراکین قومی اسمبلی کی مختص تعداد قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے کا تقاضا کرے تو اسے ہر صورت 14 دنوں کے درمیان بلانا پڑے گا۔ اس شق کا جائزہ لیں تو قومی اسمبلی کا اجلاس 22 مارچ سے قبل ہر صورت منعقد کیا جانا چاہیے۔ لیکن سپیکر قومی اسمبلی نے ابھی تک عدم اعتماد پر ووٹنگ کے لیے اجلاس بلانے کی کوئی تاریخ نہیں دی لیکن 27 مارچ کو وزیر اعظم کی جانب سے اسلام آباد میں 10 لاکھ افراد اکٹھے کرنے کا مطلب یہ ہے کہ عدم اعتماد پر رائے شماری 28 مارچ کو کروائی جائے گی۔
پرویز الٰہی کو وزیراعلیٰ بنانے کیلئے پنجاب میں بینرز کی بہار
نصرت جاوید کہتے ہیں کہ عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد اگر کامیاب ہو جاتی ہے تو وہ عوام کے پاس جائیں گے اور بتائیں گے کہ اپوزیشن نے یکسو ہو کر انہیں کیوں نکالا۔ یوں وہ آئندہ الیکشن کی تیاری شروع کر دیں گے۔ دوسری جانب ان کی جگہ لینے والے وزیر اعظم کے لیے کپتان حکومت کے ہاتھوں تباہ حال پاکستانی معیشت کو سنبھالنا ایک چیلنج ہوگا جس میں کامیابی ایک معجزے سے کم نہیں ہوگی۔
نئی حکومت کے لیے سب سے بڑا مسئلہ آئی ایم ایف کے ساتھ قرض کے عوض کیے گے وہ معاہدے ہیں جنہوں نے پاکستان میں مہنگائی کا ایک طوفان کھڑا کر دیا ہے۔ چونکہ ان بین الاقوامی معاہدوں کو منسوخ کرنا نا ممکن ہے اس لئے مہنگائی کی شدت میں مزید اضافہ ہو گا اور عمران خان کی فراغت کے بعد ”تیری یاد آئی تیرے جانے کے بعد“ والی صورت حال بھی بن سکتی ہے۔ یوں عمران خان حکومت نے اپنے دور اقتدار میں پاکستانی معیشت کو جس طرح تباہ کیا ہے اس کی ذمہ داری اگلی حکومت کے گلے پڑ جائے گی۔
