مخصوص نشستوں پر حلف میں تاخیر: مسلم لیگ ن کا پشاور ہائی کورٹ سے رجوع

مسلم لیگ (ن) نے خیبرپختونخوا اسمبلی میں مخصوص نشستوں پر کامیاب ارکان سے حلف نہ لینے کے خلاف پشاور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر دی ہے۔

مخصوص نشستوں پر نامزد 6 خواتین اور ایک اقلیتی رکن کی جانب سے الیکشن کمیشن کو ارسال کردہ خط میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ان سے حلف لینے میں غیر ضروری تاخیر کی جا رہی ہے، جو بدنیتی پر مبنی لگتی ہے۔

اراکین کے مطابق، الیکشن کمیشن نے 2 جولائی کو مخصوص نشستوں پر کامیاب ہونے والے افراد کی فہرست جاری کر دی تھی، جب کہ سپریم کورٹ 27 جون کو اس حوالے سے واضح ہدایات جاری کر چکی ہے۔ آئینِ پاکستان 1973 کے تحت ایوان میں بیٹھنے اور ووٹ ڈالنے کے لیے حلف اٹھانا لازمی ہے۔

سانحہ سوات : انکوائری رپورٹ میں ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو ادارے ذمہ دار قرار

خط میں کہا گیا ہے کہ مخصوص نشستوں پر منتخب ارکان کئی بار خیبرپختونخوا اسمبلی کے اسپیکر کو حلف کے لیے درخواست دے چکے ہیں، لیکن اب تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

اراکین نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ الیکشن کمیشن پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے رابطہ کرے تاکہ وہ آئین کے آرٹیکل 255 کے تحت کسی موزوں شخصیت کو حلف لینے کے لیے نامزد کریں۔

واضح رہے کہ خیبرپختونخوا میں سینیٹ انتخابات 21 جولائی کو منعقد ہوں گے، اور مسلم لیگ ن کا مؤقف ہے کہ مخصوص نشستوں پر منتخب ارکان کو بروقت حلف نہ دلوانا انتخابی عمل کو متاثر کر سکتا ہے۔

Back to top button