قرض واپسی کا مطالبہ: UAE پر ہونے والی تنقید جائز ہے یا ناجائز؟

معروف لکھاری اور تجزیہ کار عمار مسعود نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات نے مشکل وقت میں پاکستان کو دیا گیا دو ارب ڈالرز کا قرضہ واپس کیا مانگا، بد خواہوں نے یو اے ای پر جھوٹے الزامات عائد کرنا شروع کر دیے۔ انکا کہنا ہے کہ قرض کی واپسی کو سازش یا بے وفائی قرار دینا حقیقت سے انحراف کے مترادف ہے۔ ان کے مطابق قرض کی ادائیگی ایک اصولی تقاضا ہے جسے جذباتی نعروں کی نذر نہیں کیا جانا چاہیے۔
اپنے سیاسی تجزیے میں عمار مسعود نے واضح کیا کہ جب کوئی ملک مشکل وقت میں دوسرے ملک کی مدد کرتا ہے تو یہ احسان کے زمرے میں آتا ہے، لیکن اس رقم کی واپسی ایک طے شدہ عمل ہوتا ہے۔ اس لیے متحدہ عرب امارات کے اقدام کو تنقید کا نشانہ بنانا غیر منصفانہ ہے بلکہ یہ طرزِ عمل خود پاکستان کے مالیاتی تشخص کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ عمار مسعود کے مطابق سوشل میڈیا پر بعض حلقوں کی جانب سے یو اے ای کے خلاف چلائی جانے والی مہم نہ صرف غیر ذمہ دارانہ ہے بلکہ اس سے دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ تعلقات کو بھی ٹھیس پہنچنے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن ممالک نے مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا، ان کے خلاف زبان درازی کسی طور مناسب نہیں۔
انہوں نے اس پہلو کی جانب بھی توجہ دلائی کہ متحدہ عرب امارات میں لاکھوں پاکستانی محنت مزدوری کر رہے ہیں، جو ہر سال اربوں ڈالر کا زرمبادلہ وطن بھیجتے ہیں۔ یہ افراد نہ صرف اپنی روزی کما رہے ہیں بلکہ ملکی معیشت کو سہارا دینے میں بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
عمار مسعود نے کہا کہ ایسے حالات میں یو اے ای کے خلاف منفی جذبات کو ہوا دینا دراصل اپنے ہی مفادات کے خلاف کام کرنے کے مترادف ہے۔ ان کے مطابق ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان ان تعلقات کو مزید مستحکم کرے اور سفارتی سطح پر کسی بھی غلط فہمی کو فوری طور پر دور کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں ملک کو ایک نازک توازن برقرار رکھنا پڑ رہا ہے۔ ایک طرف امریکہ اور اس کے اتحادی ہیں تو دوسری جانب خطے کی دیگر اہم طاقتیں خصوصا سعودی عرب اور ایران، جن کے ساتھ تعلقات کو بیک وقت سنبھالنا ایک مشکل مرحلہ ہے۔
عمار مسعود کے بقول پاکستان نے حالیہ عرصے میں مختلف عالمی قوتوں کے درمیان توازن قائم رکھنے کی کوشش کی ہے، جسے عالمی سطح پر سراہا بھی جا رہا ہے۔ تاہم اس توازن کو برقرار رکھنے کے لیے فیصلہ سازوں کے لیے اندرونی سطح پر سنجیدہ طرزِ فکر اپنانا ناگزیر ہے۔ انہوں نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کو خصوصی اہمیت دیتے ہوئے کہا کہ یہ رشتہ محض سفارتی نہیں بلکہ مذہبی، نظریاتی اور تاریخی بنیادوں پر استوار ہے۔ ان کے مطابق پاکستانی عوام کے دلوں میں سعودی عرب کے لیے عقیدت کا جذبہ پایا جاتا ہے، جو کسی بھی وقتی صورتحال سے متاثر نہیں ہونا چاہیے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ جب بھی پاکستان کو مشکل پیش آئی، سعودی عرب نے فراخ دلی سے مدد فراہم کی۔ اس لیے ان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے، نہ کہ انہیں وقتی جذبات کی بھینٹ چڑھایا جائے۔
عمار مسعود نے زور دیا کہ دنیا اس وقت ایک نئے عالمی نظام کی جانب بڑھ رہی ہے جہاں مبہم پالیسیوں کے لیے کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔ اب ہر ملک کو واضح اور دوٹوک مؤقف اختیار کرنا ہوگا، ورنہ اسے عالمی دباؤ اور تنقید کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں بہت سے سوالات کو نظر انداز کیا جاتا رہا، لیکن اب حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں جہاں ان سوالات کے جوابات دینا ناگزیر ہو گیا ہے۔ دنیا اب فوری اور واضح فیصلوں کا تقاضا کر رہی ہے۔ عمار مسعود کے مطابق پاکستان اس وقت ایک حساس مرحلے سے گزر رہا ہے جہاں اسے بیک وقت اپنے دیرینہ اتحادیوں کے ساتھ تعلقات کو برقرار رکھنا ہے اور نئے عالمی تقاضوں کے مطابق اپنی پالیسیوں کو بھی ترتیب دینا ہے۔ یہ ایک ایسا توازن ہے جس میں معمولی غلطی بھی بڑے نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔
امریکی سٹنگر میزائل ٹیکنالوجی ایران کے ہاتھ کیسے لگی؟
انہوں نے اس بات کی ضرورت پر زور دیا کہ پاکستان کو جذباتی ردعمل سے گریز کرتے ہوئے حقیقت پسندانہ اور ذمہ دارانہ رویہ اپنانا ہوگا۔ ان کے مطابق قرض کی واپسی جیسے معاملات کو تنازع بنانے کے بجائے انہیں ایک مالیاتی ذمہ داری کے طور پر دیکھنا چاہیے، کیونکہ یہی طرز عمل ایک مضبوط اور باوقار ریاست کی پہچان ہوتا ہے۔
