نیوی کلب کے بعد فارمنگ سکیم اور مونال ریسٹورنٹ بھی گرانے کا حکم

اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات کی روشنی میں کیپیٹل ڈیویلپمنٹ اتھارٹی اسلام آباد نے پاکستان نیوی کو 72 گھنٹے کے اندر راول ڈیم کے کنارے تعمیر شدہ سیلنگ کلب کی عمارت خالی کرنے اور وہاں سے تمام قیمتی آلات ہٹا لینے کی ہدایت کی ہے تاکہ بلڈنگ کو مسمار کیا جا سکے۔ اسکے علاوہ سی ڈی اے نے نیوی حکام کو مطلع کیا ہے کہ اس کی سملی ڈیم روڈ پر فارمنگ اسکیم کو بھی غیر قانونی قرار دیا جاچکا ہے اور شہری محکمہ اس زمین کو واپس لینے کا فیصلہ کرچکا ہے لہذا اسے بھی فوری طور پر خالی کر دیا جائے۔ سی ڈی اے کی جانب سے جاری ایک نوٹس کے ذریعے ہدایت کی گئی ہے کہ 72 گھنٹے کے اندر اس جگہ سے تمام قیمتی اور قابل انتقال آلات کو ہٹا دیا جائے۔ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ’برائے مہربانی نوٹ کیا جائے کہ 72 گھنٹے کے اندر حکم کی تعمیل نہ ہونے کی صورت میں پوری عمارت اور اس کا پورا اسٹرکچر، اور اس میں موجود تمام مستقل اور قابل انتقال نصب چیزوں کو سی ڈی اے کی جانب سے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے مسمار کردیا جائے گا یا ہٹادیا جائے گا اور نقصان کی تمام ذمہ داری قبضہ کرنے والے کی ہوگی۔
نوٹس کے مطابق نیوی حکام نے اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری زوننگ ریگولیشن 1992 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے راول جھیل کے ارد گرد ماحولیات کے لحاظ سے حساس قرار دیے گئے علاقے کو سیلنگ کلب بنایا۔ اس کے علاوہ عمارت کی تعمیر بھی تمام حکومتی قوانین کی خلاف ورزی میں کی گئی ہے۔ نوٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ زمین پر تجاوزات اور غیر قانونی، بغیر اجازت تعمیر سے راول جھیل آلودگی کا شکار ہو رہی ہے جو کہ قدرتی ماحول کی بحالی کے لیے بڑا خطرہ ہے۔ سی ڈی اے وقتاً فوقتاً غیر قانونی اقدامات کو روکنے کے لیے نوٹس بھیجتا رہا ہے مگر اس پر عمل در آمد نہیں کیا گیا۔ مزید یہ کہ نہ تو زمین الاٹ کی گئی تھی نہ ہی اس طرح کی کسی تعمیر کی سی ڈی اے کی جانب سے اجازت دی گئی تھی۔ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ایک رٹ پٹیشن پر جاری اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر کلب کو پہلے ہی سی ڈی اے کی جانب سے سیل کیا جا چکا ہے۔ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ اسلام ہائی کورٹ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اور اپنے محکمانہ اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان نیوی کی جانب سے راول جھیل کے کنارے قائم غیر قانونی اور غیر اجازت یافتہ اسٹرکچر کو دیے گئے تین ہفتے کے وقت میں مسمار کردیا جائے گا۔
سی ڈی اے کے ریجنل ڈائریکٹر پلاننگ کی جانب سے ڈائریکٹر نیوی فارمز کو لکھے نوٹس میں کہا گیا ہے کہ 13 مارچ 1993 کو جاری این او سی جس میں سملی ڈیم روڈ زون ٹو کے علاقے میں پاکستان نیوی ایگرو فارمنگ اسکیم کی اجازت دی گئی تھی غیر قانونی ہے۔ نوٹس کے مطابق اسکیم غیر قانونی ہے اور اس این او سی کے تحت حاصل زمین سی ڈی اے نے واپس لینی ہے اور اس سلسلے میں سی ڈی اے آرڈیننس 1960 پر سختی سے عمل کیا جائے گا۔ مزید کہا گیا ہے کہ آپ کو 7 دن کا نوٹس دیا جاتا ہے کہ سی ڈی اے، پی این فارمز کا کنٹرول سنبھال لے گا اور قانون کے مطابق کارروائی کرے گا، اس مقصد کے لیے آپ کو ہدایت کی جاتی ہے کہ آپ تمام متعلقہ دستاویزات، زمین سے متعلق تمام ریکارڈ، کام، الاٹمنٹ اور دیگر معاملات کے لیے تیار رہیں۔
گزشتہ ہفتے اسلام آباد ہائی کورٹ نے نیوی کلب اور فارم ہاؤس کی نیشنل پارک کی زمین پر تعمیر کو غیر قانونی قرار دیا تھا اور اس کو منہدم کرنے کا حکم دیا تھا۔ عدالت نے سابق نیول چیف ظفر محمود عباسی اور دیگر حکام کے خلاف غیر قانونی تعمیر کی اجازت دینے پر مجرمانہ کارروائی کا مقدمہ شروع کرنے کی بھی ہدایت دی تھی۔
45 صفحات پر مشتمل فیصلے میں چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے سی ڈی اے کو نیول فارم قبضے میں لینے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ نیوی نے راول جھیل کے کنارے پر واقع زمین پر ناجائز قبضہ کیا ہے جو کہ نیشنل پارک قرار دیا گیا علاقہ ہے۔
فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سیکنگ کلب کی عمارت کی ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے میں تعمیر کو کئی لازمی قابل عمل قوانین کی خلاف ورزیوں کی وجہ سے کلب کو کسی بھی صورت ریگولرائز نہیں کیا جاسکتا۔ عدالت نے قرار دیا ہے کہ زمین کا قبضہ بغیر کسی قانونی اختیار اور دائرہ کار کے غیر قانونی تھا اور نیوی کو راول جھیل پر اپنی تمام سرگرمیوں کو روکنے اور زمین اسمال ڈیمز آرگنائزیشن کے حوالے کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
کیا تحریک لبیک اگلے الیکشن میں کوئی جادو دکھا پائے گی؟
عدالت نے راول جھیل اور ماحولیاتی نقصانات کا باعث بننے والی وجوہات جاننے کے لیے قائم ماحولیات کمیشن کی سفارشات پر عمل درآمد کے لیے ماہر ماحولیات ڈاکٹر پرویز حسین پر مشتمل ایک رکنی کمیشن تشکیل دیا اور اسلام آباد وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ کو راول جھیل کے گرد و نواح میں قدرتی ماحول بحال کرنے کی ہدایت کی ہے۔
ایک تازہ ترین پیش رفت میں 11 جنوری کے روز اسلام آباد ہائیکورٹ نے مارگلہ ہلز پر قائم فوج کی سرپرستی میں چلنے والے معروف ریسٹورنٹ مونال کو فوری سیل کرنے اوراسکا قبضہ لینے کا حکم بھی دے دیا۔ ساتھ ہی عدالت نے ملٹری ڈائریکٹوریٹ فارمز کا 8 ہزار ایکڑ اراضی پر دعویٰ بھی غیرقانونی قرار دیتے ہوئے حکم دیا کہ 8 ہزار ایکڑ زمین مارگلہ نیشنل پارک کا حصہ سمجھی جائے۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے مارگلہ ہلز نیشنل پارک میں غیرقانونی تعمیرات اور تجاوزات کے خلاف کیسز پر سماعت کی۔
اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ وزیراعظم کے مشیر برائے موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم کا کورونا ٹیسٹ مثبت آ گیا ہےاس لیے وہ پیش نہیں ہو سکے۔ عدالت نے سیکریٹری موسمیاتی تبدیلی کو مخاطب کرکے کہا کہ کیا آپ کا کام صرف درخت لگانا ہے، وزارت نے خود مانا ہے کہ ریاست کی زمین پر پرائیویٹ لوگوں نے تجاوزات کیں، یہ عدالت کیا کرے، جو کچھ ہو رہا ہے حیران کن ہے۔ سیکریٹری داخلہ سے مکالمے میں چیف جسٹس نے کہا کہ اس 14 سو مربع میل میں لاقانونیت ہے، مسلح افواج کے 3 سیکٹرز بن گئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مسلح افواج کو کسی طور متنازع نہیں ہونا چاہیے، یہ عوامی مفاد میں نہیں، قانون میں موجود ہے کہ مسلح افواج کی زمینیں کیسے اور کون مینیج کرے گا، یہ عدالت کسی کو مسلح افواج کو متنازع نہیں بنانے دے گی۔
