پاکستانی سے شادی کرنے والی انڈین خاتون کی ملک بدری عارضی ہو گی

ایک پاکستانی شہری سے پسند کی شادی کرنے والی انڈین سکھ خاتون سربجیت کور کی ’فارنرز ایکٹ 1946‘ کے تحت ویزے کی معیاد ختم ہونے پر ملک بدری کا عمل جاری ہے، تاہم حکام نے انہیں آگاہ کر دیا ہے کہ ان کی ملک بدری عارضی ہوگی اور وہ انڈیا جا کر ’سپاؤز ویزہ‘ لینے کے بعد دوبارہ پاکستان آ کر یہاں مستقل رہائش اپلائی کرنے کی مجاز ہوں گی۔ یاد رہے کہ سفری اور قانونی پیچیدگیوں کے باعث سربجیت کور کی انڈیا واپسی تاحال ممکن نہیں ہو سکی۔

یاد رہے کہ پاکستانی شہری ناصر حسین سے شادی کرنے والی انڈین خاتون سربجیت کور نے اسلام قبول کرنے کے بعد اپنا اسلامی نام نور فاطمہ رکھا ہے۔

پنجاب کے وزیر برائے اقلیتی امور سردار رمیش سنگھ اروڑہ کے مطابق سربجیت کور کو 5 جنوری کو پاکستان سے ملک بدری کے لیے واہگہ بارڈر پہنچایا گیا تھا تاہم انکے سفری کاغذات میں تکنیکی مسائل سامنے آئے۔ ان کے مطابق وفاقی وزارت داخلہ کی جانب سے تاحال انڈیا واپسی کے لیے این او سی جاری نہیں کیا گیا کیونکہ سربجیت کور نے پاکستان میں ویزے کی معیاد سے زائد قیام کیا ہے، جس کے باعث وہ وزارت داخلہ کی اجازت کے بغیر قانوناً ملک سے باہر نہیں جا سکتیں۔

واہگہ بارڈر پر موجود ذرائع نے بھی تصدیق کی کہ سربجیت کور کو بارڈر لایا گیا تھا تاہم چونکہ ان کا ویزا ختم ہو چکا تھا، اس لیے وزارت داخلہ کی اجازت لازمی تھی۔ اجازت نامہ نہ ملنے پر انہیں واپس بھجوا دیا گیا اور واضح کیا گیا کہ کاغذات مکمل ہونے کے بعد ہی امیگریشن کا عمل ممکن ہو گا۔

دوسری جانب سربجیت کور کے وکیل احمد حسن پاشا نے کہا ہے کہ سربجیت کور کو ان کی مرضی کے مطابق انڈیا واپس بھجوایا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق فارنرز ایکٹ 1946 کے تحت سربجیت کور فی الحال پاکستان میں قیام کی مجاز نہیں تھیں، اسی لیے انہیں واپس انڈیا روانہ کیا جا رہا ہے۔ وکیل کے مطابق سربجیت انڈیا جا کر ’سپاؤز ویزہ‘ حاصل کریں گی، جس کے بعد وہ دوبارہ پاکستان آ کر مستقل رہائش کی درخواست دے سکیں گی۔

اس سے پہلے سربجیت کور اور ان کے پاکستانی شوہر ناصر حسین کو حراست میں لینے کے بعد 48 سالہ سربجیت کور کو انڈیا واپس بھیجنے اور ناصر حسین کے خلاف ملکی قوانین کے تحت کارروائی کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ پاکستانی حکام کے مطابق سربجیت کور 4 نومبر کو سکھ یاتریوں کے ایک جتھے کے ہمراہ پاکستان آئی تھیں اور ان کا ویزا 13 نومبر تک کارآمد تھا، تاہم وہ مقررہ مدت کے بعد انڈیا واپس نہ گئیں اور وسطی پنجاب کے شہر شیخوپورہ کے رہائشی ناصر حسین سے شادی کر لی، جس کے بعد وہ مسلسل پاکستان میں مقیم رہیں۔

پنجاب کے صوبائی وزیر برائے اقلیتی امور سردار رمیش سنگھ اروڑہ کے مطابق 4 جنوری کو ننکانہ صاحب کے ایک گاؤں ’پہرے والی‘ میں جوڑے کی موجودگی کی اطلاع ملنے پر خفیہ ادارے نے کارروائی کی، اور سربجیت کور اور ناصر حسین کو حراست میں لے کر ننکانہ صاحب پولیس کے حوالے کیا گیا۔ دونوں اس وقت تھانہ صدر ننکانہ صاحب میں زیرِ حراست ہیں۔

پولیس اور انٹیلیجنس بیورو کی مشترکہ تفتیش میں یہ بات سامنے آئی کہ سربجیت کور اور ناصر حسین کی ملاقات 2016 میں ٹک ٹاک کے ذریعے ہوئی تھی۔ 4 نومبر 2025 کو ناصر حسین گوردوارہ جنم استھان ننکانہ صاحب گئے جہاں سے وہ سربجیت کور کے ہمراہ فاروق آباد ضلع شیخوپورہ اپنے آبائی علاقے چلے گئے جہاں دونوں نے شادی کر لی۔ تحقیقات کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ سربجیت کور کو ملک بدری کی کارروائی کے لیے متروکہ وقف املاک بورڈ کے حوالے کیا جائے گا، جو انہیں قانون کے مطابق انڈیا واپس بھجوائے گا، جبکہ ناصر حسین بدستور زیرِ تفتیش رہیں گے۔

واضح رہے کہ نومبر میں لاہور ہائیکورٹ نے سربجیت کور کی درخواست پر پنجاب پولیس کو جوڑے کو ہراساں نہ کرنے کا حکم دیا تھا۔ سربجیت کے وکیل کے مطابق پولیس نے 8 نومبر کو ان کے گھر پر چھاپہ مارا اور شادی ختم کرنے کے لیے دباؤ ڈالا، جس پر عدالت سے رجوع کیا گیا۔ جسٹس فاروق حیدر نے سماعت کے بعد آئی جی پنجاب کو احکامات جاری کرتے ہوئے پولیس کو کسی بھی قسم کی ہراسانی سے روک دیا تھا۔

تاہم شیخوپورہ پولیس کے ترجمان رانا یونس نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ پولیس نے نہ تو کسی انڈین خاتون کو ہراساں کیا اور نہ ہی اس کے شوہر سے کوئی غیر قانونی رویہ اختیار کیا گیا، جبکہ ان کے مطابق معاملہ حساس ہونے کے باعث مختلف ادارے اسے دیکھ رہے ہیں۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق سربجیت کور نے پاکستان آمد کے بعد اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا اور حافظ رضوان بھٹی کے ہاتھوں کلمہ پڑھ کر اسلامی نام ’نور فاطمہ‘ رکھا۔ 5 نومبر کو انہیں قبولِ اسلام کی سند جاری کی گئی۔ شیخوپورہ کی یونین کونسل میں ان کا نکاح ناصر حسین سے رجسٹرڈ کیا گیا، جس کے مطابق ناصر حسین کی عمر 43 سال جبکہ سربجیت کور کی عمر ساڑھے 48 سال درج ہے۔ نکاح نامے میں حق مہر دس ہزار روپے مقرر کیا گیا اور یہ بھی درج ہے کہ ناصر حسین پہلے سے شادی شدہ ہیں۔

سربجیت کور نے عدالت میں دائر بیان میں مؤقف اختیار کیا کہ انہوں نے اپنی آزاد مرضی سے شادی کی، انہیں اغوا نہیں کیا گیا اور وہ صرف تین کپڑوں میں اپنے والدین کا گھر چھوڑ کر آئی تھیں۔ انہوں نے پولیس پر دھمکیاں دینے اور زبردستی گھر میں داخل ہونے کے الزامات بھی عائد کیے اور عدالت سے تحفظ فراہم کرنے کی استدعا کی۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی پاکستان کے داخلی معاملات میں کھلی مداخلت

سربجیت کور کا تعلق انڈین ریاست پنجاب کے ضلع کپور تھلہ سے ہے، سربجیت طلاق یافتہ ہیں، ان کے دو بیٹے ہیں اور ان کے سابق شوہر طویل عرصے سے برطانیہ میں مقیم ہیں۔ دوسری جانب ناصر حسین پیشے کے اعتبار سے زمیندار ہیں جبکہ دونوں کے درمیان رابطہ انسٹاگرام کے ذریعے ہوا۔

Back to top button