سیاسی دباؤ کے باوجود بی سی سی آئی کا فیصلہ برقرار، ایشیا کپ میں شرکت لازمی قرار

ایشیا کپ 2025 کے بائیکاٹ کے لیے بھارتی سیاسی حلقوں کا دباؤ بڑھتا جا رہا ہے، تاہم بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) نے واضح کیا ہے کہ وہ ٹورنامنٹ میں شیڈول کے مطابق شرکت کرے گا۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بی سی سی آئی نے یہ فیصلہ محض ایک دن میں نہیں بلکہ دو ماہ کی مشاورت کے بعد کیا ہے، اور اب اس پالیسی پر قائم رہنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر بھارت ایشیا کپ میں شرکت سے انکار کرتا ہے تو اس سے مستقبل کے اہم بین الاقوامی کھیلوں کے ایونٹس متاثر ہو سکتے ہیں، جن میں بھارت اولمپکس 2036، کامن ویلتھ گیمز 2030 اور یوتھ اولمپکس 2032 کی میزبانی کا خواہشمند ہے۔
ذرائع کے مطابق، ملٹی نیشنل اسپورٹس ایونٹس میں شرکت سے انکار انٹرنیشنل اسپورٹس چارٹر کی خلاف ورزی کے زمرے میں آ سکتا ہے۔ جبکہ باہمی کرکٹ سیریز سے انکار ممکن ہے، لیکن ایشیا کپ جیسے کثیر الملکی ایونٹ کا بائیکاٹ آسان نہیں ہوتا۔
دوسری جانب بھارت کے اندر سے سیاسی رہنما بی سی سی آئی اور حکومت کو ایشیا کپ میں شرکت کے فیصلے پر شدید تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔
شیو سینا کی رکن پارلیمنٹ پریانکا چترویدی نے ایشین کرکٹ کونسل کی پریس ریلیز شیئر کرتے ہوئے بھارتی حکومت اور بی سی سی آئی پر "دوغلا رویہ” اپنانے کا الزام لگایا۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ "جب پاکستان کے ساتھ تجارت سمیت تمام تعلقات معطل ہیں، تو کرکٹ کے میدان میں دوستی کیوں کی جا رہی ہے؟” ان کا کہنا تھا کہ یہ حکومت کی متضاد پالیسی کا ثبوت ہے اور اس پر شرمندگی ہونی چاہیے۔
