دھمکیوں کے باوجود ایم کیو ایم اسی تنخواہ پر نوکری کرے گی

 

 

 

سندھ کی گورنر شپ سے محرومی کے بعد متحدہ قومی موومنٹ نے اتحادی حکومت سے علیحدگی کی دھمکی تو دے دی ہے، تاہم سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ماضی کی طرح اس بار بھی ایم کیو ایم ممکنہ طور پر احتجاج اور سخت بیانات تک محدود رہے گی اور عملی طور پر حکومت کا ساتھ نہیں چھوڑے گی۔

 

مبصرین کے مطابق ایم کیو ایم اکثر سیاسی دباؤ بڑھانے کے لیے سخت مؤقف اختیار کرتی ہے لیکن بالآخر وہی سیاسی حکمت عملی اپناتی ہے جسے طنزیہ طور پر سابقہ تنخواہ پر نوکری جاری رکھنے سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ سندھ کی سیاست میں اس وقت ہلچل اس وقت پیدا ہوئی جب وفاقی حکومت نے اچانک فیصلہ کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما نہال ہاشمی کو گورنر سندھ مقرر کر دیا۔ اس فیصلے کے نتیجے میں سابق گورنر کامران خان ٹیسوری اپنے عہدے سے فارغ ہو گئے، جس کے بعد اتحادی جماعت شہباز شریف کی قیادت میں وفاقی حکومت اور متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے درمیان تعلقات میں تناؤ پیدا ہو گیا۔

 

وفاقی حکومت کے فیصلے کے مطابق صدر مملکت نے وزیراعظم کی جانب سے بھیجی گئی سمری کی منظوری دیتے ہوئے نہال ہاشمی کو سندھ کا 35واں گورنر تعینات کیا، جس کے بعد انہوں نے اپنے عہدے کا حلف بھی اٹھا لیا۔ تاہم اس فیصلے نے ایم کیو ایم پاکستان کی قیادت کو سخت ناراض کر دیا ہے۔ ایم کیو ایم کے سینئر رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ گورنر کی تبدیلی کا فیصلہ پارٹی کو اعتماد میں لیے بغیر یکطرفہ طور پر کیا گیا، جو اتحادی سیاست کے اصولوں کے منافی ہے۔ اسی طرح سابق میئر کراچی وسیم اختر نے بھی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کم از کم اتحادی جماعت کو فیصلے سے پہلے اعتماد میں لیا جانا چاہیے تھا۔

 

ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم کی قیادت اس وقت مختلف آپشنز پر غور کر رہی ہے جن میں وفاقی حکومت سے فوری علیحدگی، احتجاجی حکمت عملی اختیار کرنا یا حکومت میں رہتے ہوئے سیاسی دباؤ بڑھانا شامل ہے۔ اس حوالے سے پارٹی کی رابطہ کمیٹی کا ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا ہے جس میں وفاقی کابینہ سے استعفوں یا حکومت کی حمایت جاری رکھنے کے معاملے پر غور کیا جائے گا۔

 

سیاسی حلقوں میں اس فیصلے کے پس منظر پر بھی بحث جاری ہے۔ سینیئر صحافی ارمان صابر کے مطابق گورنر کی تبدیلی محض انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ ایک وسیع تر سیاسی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ ان کے مطابق سندھ میں برسراقتدار پاکستان پیپلز پارٹی نے کامران ٹیسوری کی سیاسی سرگرمیوں پر تحفظات ظاہر کیے تھے جبکہ دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ (ن) سندھ میں اپنی سیاسی موجودگی کو مضبوط بنانے کے لیے نہال ہاشمی کو آگے لانا چاہتی تھی۔

 

ایک اور سینیئر صحافی خالد قیوم کے مطابق وزیراعظم نے ایم کیو ایم کو اعتماد میں لیے بغیر یہ فیصلہ کر کے ایک بڑا سیاسی رسک لیا ہے، تاہم ان کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم کی قیادت کو گزشتہ برس نومبر میں ہی اس بات کا عندیہ مل چکا تھا کہ مستقبل میں کامران ٹیسوری کو گورنر کے عہدے سے ہٹایا جا سکتا ہے۔

ادھر قانونی ماہر عادل خان زئی کا کہنا ہے کہ اگر ایم کیو ایم واقعی وفاقی حکومت سے علیحدگی اختیار کرتی ہے تو اس کے نتیجے میں قومی اسمبلی میں حکومت کی عددی اکثریت متاثر ہو سکتی ہے، جس سے اپوزیشن جماعتوں کو سیاسی فائدہ پہنچنے کا امکان پیدا ہوگا۔

کامران ٹیسوری کے خلاف گولڈ سکینڈل کیس دوبارہ کھلنے کا امکان

تاہم سینیئر صحافی فاروق سمیع کے مطابق موجودہ حالات میں ایم کیو ایم کی جانب سے حکومت چھوڑنے کا امکان کم دکھائی دیتا ہے۔ ان کے بقول امکان ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت جلد ہی ایک اعلیٰ سطحی وفد کراچی بھیجے گی جو ایم کیو ایم کی قیادت سے ملاقات کر کے تحفظات دور کرنے کی کوشش کرے گا۔

 

سیاسی تجزیہ کاروں کا مجموعی طور پر یہی مؤقف ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان اس وقت دباؤ کی سیاست کے ذریعے اپنے سیاسی مفادات کا تحفظ چاہتی ہے، تاہم عملی طور پر وہ وفاقی حکومت سے علیحدگی کے بجائے اپنے مطالبات منوانے کی کوشش کرے گی۔ اسی لیے مبصرین کے مطابق آنے والے دنوں میں سخت بیانات اور مذاکرات کا سلسلہ جاری رہے گا لیکن اتحادی حکومت کے خاتمے کا امکان فی الحال کم دکھائی دیتا ہے۔

Back to top button