پی ٹی آئی کے متحرک رہنماؤں،کارکنوں کی نظربندی کےاحکامات واپس

ڈپٹی کمشنر لاہور نے تحریک انصاف کے 487 متحرک کارکنوں اور رہنماؤں کے نظر بندی کے احکامات واپس لے لئے۔

  میڈیا رپورٹس کے مطابق کارکنوں کی نظر بندی کے احکامات لاہور پولیس کی درخواست پر جاری کیے گئے تھے، ڈی سی لاہور کی ہدایات پر نظر بندی کینسل کردی گئی۔

گزشتہ روز پی ٹی آئی کے کاہنہ روڈ کے کنارے مویشی منڈی میں ہونے والے جلسے کے دوران پولیس نے 100 سے زائد کارکنوں کو حراست میں لیا اور زیر حراست افراد میں سے متعدد کو نظر بندی کے تحت جیل بھجوا گیا تاہم نظر بندی کے احکامات واپس لیے جانے پر تمام افراد کو رہا کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ ڈی سی لاہور کی جانب سے 30 دن کی نظر بندی کے احکامات 17، 19 اور 20 ستمبر کو جاری کیے گئے تھے۔

واضح رہے کہ لاہور پولیس نے گزشتہ روز پاکستان تحریک انصاف کےجلسہ میں آنےوالے12 اشتہاری ملزمان کو گرفتارکرنےکادعوٰی کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پنجاب پولیس نےکاہنہ جلسےکےموقع پر9 مئی2023 کے پرتشدد واقعات میں ملوث ملزمان کی گرفتاریوں کےلیےشکنجہ تیارکیا تھا اورجلسہ گاہ کےاطراف فیس ڈیٹیکشن کیمرےنصب کردیے تھے۔

لاہور پولیس نےبتایا کہ گرفتارکیےجانےوالے12 اشتہاریوں کومختلف تھانوں میں منتقل کردیا گیا۔

یاد رہےکہ9 مئی2023 کوالقادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان کی اسلام آباد ہائی کورٹ کےاحاطے سےگرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کی طرف سےملک گیراحتجاج کیا گیا تھا جس کےدوران لاہورکےعلاقےماڈل ٹاؤن میں9مئی کومسلم لیگ (ن)کے دفتر کو جلانے کےعلاوہ فوجی،سول اورنجی تنصیبات کو نذرآتش کیا گیا۔سرکاری و نجی املاک کو شدید نقصان پہنچایا گیاتھا جب کہ اس دوران کم از کم8افرادہلاک اور 290زخمی ہوئے تھے۔

مظاہرین نےلاہور میں کور کمانڈر کی رہائش گاہ پربھی دھاوا بول دیا تھا جسے جناح ہاؤس بھی کہا جاتا ہےاورراولپنڈی میں واقع جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو)کاایک گیٹ بھی توڑ دیا تھا۔

فضل الرحمان نے اداروں کو آئینی حدود میں رہنے کا مشورہ دیدیا

اس کے بعدملک بھرمیں قانون نافذ کرنےوالے اداروں کےساتھ لڑائی،توڑ پھوڑاور جلاؤ گھیراؤمیں ملوث1900 افرادکو گرفتار کرلیا گیا تھا جب کہ عمران خان اور ان کی پارٹی رہنماؤں اور کارکنان کےخلاف مقدمات بھی درج کیےگئے تھے۔

Back to top button