سال 2022 میں ’’بٹ کوائن‘‘ کی قدر میں کمی کا خدشہ کیوں؟

ڈیجیٹل کرنسی کتنی بھی مہنگی اور اہمیت کی حامل کیوں نہ ہو، اس کے زوال کا خدشہ ہمیشہ ہی موجود رہتا ہے، 2021 میں تو ’’بٹ کوئن‘‘ کی قیمت میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے لیکن سال 2022 میں اس کی قدر کم ہونے کے خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ دسمبر 2020 اور اپریل کے درمیان بٹ کوائن کی قیمت تین گنا زیادہ ہو کر 60 ہزار ڈالر ہو گئی تھی تاہم نئے سال کے آغاز سے قبل اس نے اپنی قدر کچھ حد تک کھو دی ہے اور اب اس کی قیمت 50 ہزار ڈالر پر آ چکی ہے۔ کرپٹو کرنسی انویسٹمنٹ فنڈ اے آر کے 36 کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر لوکاس لاگوڈس کا کہنا ہے کہ قیمت میں حالیہ اتار چڑھاؤ کی وجہ سے ڈیجیٹل سرمائے کی مارکیٹ میں غیریقینی کی کیفیت پیدا ہو گئی ہے۔ اپریل کے دوران بٹ کوائن کی قدر میں تب اضافہ ہوا رھس جب کرپٹو کرنسی کی خرید و فروخت کرنے والی کمپنی کوائن بیس نے سٹاک مارکیٹ میں ڈیبیو کیا تھا، اکتوبر میں بٹ کوائن کی قدر اپنی انتہا کو پہنچی اور 66 ہزار ڈالر سے تجاوز کر گئی تھی۔
https://googlynews.tv/147202/2-%d8%ac%d9%86%d9%88%d8%b1%db%8c-%d8%b3%db%92-%d9%85%d9%84%da%a9-%d8%a8%da%be%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a8%d8%a7%d8%b1%d8%b4%d9%88%da%ba-%da%a9%d8%a7-%d8%a2%d8%ba%d8%a7%d8%b2-%db%81%d9%88%da%af/latest-breaking-news-urdu-pakistan/
امریکا کی معروف ٹیکنالوجی کمپنی ٹیسلا اور سیپس ایکس کے بانی سربراہ ایلن ماسک نے بٹ کوائن کے حوالے سے کچھ متنازع ٹویٹس کی تھیں جس کے بعد بٹ کوائن کی قیمت میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا تھا۔ بٹ کوائن کی قیمت میں گراوٹ تب دیکھنے میں آئی جب چین نے اس کی مائننگ پر جون 2021 میں پابندی عائد کی، چینی حکام کا کہنا تھا کہ کرپٹو کرنسی اور منی لانڈرنگ کے درمیان مضبوط تعلق موجود ہے۔
بعض ماہرین کے مطابق 2022 میں داخل ہوتے ہی بٹ کوائن کا اپنی حریف کرنسی ایتھیریم کے ساتھ مقابلہ بڑھنے کا امکان ہے، کرپٹو کرنسی مارکیٹ کے حوالے سے معلومات فراہم کرنے والی سائٹ کوائن گیکو کے مطابق کرپٹو کرنسی سیکٹر کی مجموعی مارکیٹ ویلیو دو ٹریلین ڈالر ہے جس میں بٹ کوائن کی قدر 900 بلین ڈالر ہے۔
