کیا بلوچ دہشت گردوں کو انڈیا کے بعد اسرائیل کی مدد بھی حاصل ہو گئی؟

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار عاصمہ شیرازی نے کہا ہے کہ پنجاب سے تعلق رکھنے والوں کا بسوں سے اتار کر بہیمانہ طریقے سے قتل کیا جانا بلوچستان کو نفسیاتی طور پر باقی ملک سے الگ کرنے کا ایک ایسا حربہ ہے جو غیر محسوس علیحدگی کی جانب دھکیل رہا ہے۔ ان دہشت گرد حملوں میں تیزی پریشان کُن ہے اور اسکے تانے بانے انڈیا سے ملتے ہیں۔
بی بی سی اردو کے لیے اپنے تجزیے میں عاصمہ شیرازی کہتی ہیں کہ انڈین میڈیا کے مطابق بلوچستان میں دہشت گردی کی تازہ لہر کو بلوچستان لبریشن آرمی نے ’آپریشن بام‘ کا نام دیا ہے۔ اس آپریشن کے تحت گذشتہ چند ہفتوں میں کئی حملے کئے گئے جن کے مخصوص اہداف ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ انڈین میڈیا پر ممبئی حملوں کے بعد اجیت دوول کی جانب سے دس سال قبل دی گئی بلوچستان کی علیحدگی کی دھمکی کو بار بار نشر کیا جاتا ہے اور بلوچستان میں دہشت گرد کارروائیوں کے بعد اُس بیان کو بطور ’فاتحانہ تقریر‘ دکھایا جاتا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ پراکسی وار میں انڈیا کے کردار کو کسی طور فراموش نہیں کیا جا سکتا مگر ان عناصر کے خلاف جنگ کے ساتھ ساتھ چند عملی اقدامات بھی کرنا ہوں گے۔ اندرونی محاذ پر تقسیم کی سیاست کا فروغ بھی اسی ایجنڈے کا حصہ دکھائی دیتا ہے۔ میڈیا کی ترجیحات بھی دہشت گردی جیسے معاملات پر گفتگو نہیں جبکہ موضوعات محدود اور مخصوص ہیں۔
عاصمہ کا کہنا ہے کہ ماضی کی ناکام پالیسیوں نے پاکستان کو اندرونی لڑائی میں جھونکا ہے، تاہم اب بھی اس ’بھوت‘ کو دوبارہ بوتل میں بند کرنے کے لئے بلوچ عوام کو اعتماد میں لینا ہو گا جس کے لیے جامع منصوبہ بندی کہیں نظر نہیں آتی۔ گلی محلے میں لڑی جانے والی اس جنگ میں نیشنل ایکشن پلان جبکہ بلوچستان میں آغاز حقوق بلوچستان جیسے منصوبوں پر عمل اور لاپتہ افراد کا مسئلہ حل کرنا اہم ہو گا۔ بلوچستان میں ایک بڑا طبقہ جبری گمشدگیوں سے متاثر ہے اُن کے پیاروں کا پتہ مل جائے تو کسی حد تک زخموں کی پیوند کاری ہو پائے گی۔ جو دہشت گرد سرگرمیوں کا حصہ ہیں اُنہیں عدالتوں میں پیش کیا جائے تاکہ اُن کے لواحقین کو قرار تو آئے۔ عوام کا دل جیتنے کے لئے وہ سب اقدامات کرنا ہوں گے جن سے دل کی خلش دور ہو۔
عاصمہ شیرازی کہتی ہیں کہ ریاست کو بلوچستان کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے آئین پسند سیاسی رہنماؤں سردار اختر مینگل، نیشنل پارٹی کے ڈاکٹر مالک بلوچ اور دیگر بلوچ رہنماؤں سے بات کرنا ہو گی۔ ریاست کو چاہئے کہ وہ نوجوان بلوچ قیادت کو مذاکرات کا حصہ بنائے اور اُن کے ساتھ مکالمے کا آغاز کرے۔ اس عمل کی ابتدا کرنے کے لیے ریاست کو ترجیحات طے کرنا ہوں گی۔ یہ مشکل عمل ضرور ہے مگر نامکمن ہر گز نہیں۔
سینیئر اینکر پرسن کا کہنا ہے کہ سامنے نظر آنے والے خوف کی آنکھوں میں آنکھیں تو ڈالی جا سکتی ہیں مگر جو نظر نہ آئے اُس دشمن پر وار خود کو ہی زخمی کر دیتا ہے۔ اس وقت بلوچستان میں ایک اَن دیکھی چوُمکھی لڑائی جاری ہے جو دست بدست ہے، گریبان کسی کا ہے اور شہ کسی اور کی، دستار کسی کی ہے اور سر کسی اور کا، ہتھیار کسی کا ہے اور چلانے والے کوئی اور۔۔ ایسے میں یقین ہو چلا ہے کہ ملک میں لڑی جانے والی لڑائی کے کردار مقامی مگر اصل ماسٹر مائنڈ کہیں اور بیٹھے آپریٹ کر ریے ہیں۔
90 روز کے اعلان پر جنید اکبر بھی گنڈا پور کے خلاف کھڑے ہو گئے
انکا کہنا ہے کہ لڑائی کے تمام انداز بدلے گئے ہیں۔ ایک بار پھر سرد جنگ سے نکل کر دُنیا روایتی جنگوں کے دور میں آ کھڑی ہوئی ہے تو دوسری جانب ’پراکیسز‘ کے ذریعے لڑائی کے ہتھیار بھی آزمائے جا رہے ہیں۔ انڈیا نے حال ہی میں پاکستان پر حملہ کیا، تاہم نظر آنے والے دُشمن کو دو بدو جنگ میں شکست فاش ہوئی، تاہم بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں بدامنی اور پراکسیز کی جنگ جاری ہے۔
عاصمہ شیرازی کہتی ہیں کہ جعفر ایکسپریس پر حملہ کرنے والوں نے پنجابی مسافروں کے شناختی کارڈ دیکھنے کے بعد انکا قتل عام کیا۔ اب بلوچستان میں چند اور لوگوں کا خون بہا ہے۔ وہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے غریب سپاہی تھے، جو شناخت دیکھ کر مارے گئے۔ لیکن وہ سب انسان تھے، بالکل ویسے ہی عام انسان جن کا نہ تو عالمی سیاست سے کوئی تعلق تھا اور نہ ہی کسی سے دشمنی۔ وہ کسی کی نفرت کی بھینٹ چڑھ گے۔
یہ سب ایک منظم منصوبہ بندی کا حصہ نظر آتا ہے، تاہم یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ صرف ایک ہفتہ پہلے کورکمانڈرز کانفرنس میں ’پراکسیز‘ کے خلاف انکے خاتمے تک جنگ جاری رکھنے کے عہد کا اعادہ کیا گیا اور پہلی بار دو ملکوں کی جنگ میں تیسرے فریق کی شمولیت کی طرف اشارہ کیا گیا۔ کیا یہ تیسرا فریق اسرائیل ہے؟ اگر ایسا ہے تو یہ جنگ اب دو فریقین تک محدود نہیں رہی۔
