جرمنی نے پاکستانی نوجوانوں کیلئے یورپ آنا آسان بنا دیا

حکومت نے پاکستانی نوجوانوں کیلئے بغیر ورک ویزا کے یورپ جانا ممکن بنا دیا۔ وزارت برائے اوورسیز پاکستانیز نے ہنرمند اور پڑھے لکھے پاکستانیوں سے جرمنی کے اپرچونٹی کارڈ کے حصول کے لیے درخواست طلب کر لیں،’اپرچونٹی کارڈ‘ سکیم کے تحت پاکستانی نوجوان نہ صرف ملازمت کا لیٹر حاصل کیے بغیر جرمنی جا سکتے ہیں بلکہ جرمنی پہنچ کر وہاں ایک سال کے دوران کسی کمپنی کے ساتھ باقاعدہ ملازمت حاصل کر کے مستقل رہائش بھی اختیار کر سکتے ہیں۔
دوسری جانب پاکستان اٹلی سے 10 ہزار 500 نوکریوں کا کوٹہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔ وزارت اوورسیز کے مطابق اٹلی کی جانب سے پاکستان کو آئندہ تین سال کے لیے نوکریوں میں کوٹہ الاٹ کیا گیا ہے۔ ’اگلے تین برس تک 3500 پاکستانی ہر سال روزگار کیلئے سیزنل اور نان سیزنل کوٹہ پر اٹلی جائیں گے’1500 پاکستانی سیزنل کوٹہ جبکہ دو ہزار نان سیزنل کوٹہ پر ہر سال اٹلی جائیں گے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان کو شپ بریکنگ، ہاسپٹیلی، ہیلتھ کیئر اور زراعت کے شعبوں میں نوکریوں کا کوٹہ الاٹ کیا گیا ہے پاکستانیوں کے لیے ویلڈرز، ٹیکنیشنز، شیفس، ویٹرز، ہاؤس کیپنگ اسٹاف، نرسنگ، میڈیکل ٹیکنیشنز، فارمنگ اور کاشت کاری جیسے شعبوں میں بھی روزگار کے وسیع مواقع دستیاب ہوں گے۔ واضح رہے کہ اٹلی یورپ کا پہلا ملک ہے جس نے پاکستان کے لیے نوکریوں میں کوٹہ الاٹ کیا۔
خیال رہے کہ جرمن اپرچونٹی کارڈ نسبتاً ایک نیا اور لچکدار رہائشی ویزا ہے جو غیر یورپی یونین کے ہنرمند پیشہ ور افراد کو جرمنی میں داخل ہونے میں مدد دینے کے لیے بنایا گیا ہے، اس ویزے کے تحت آپ کو کسی مقررہ ملازمت کے معاہدے کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ آپ 12 ماہ تک جرمنی میں رہ کر ملازمت تلاش کر نے کے علاوہ ٹرائل ورک اور اپنی غیرملکی تعلیمی یا پیشہ ورانہ اہلیت کو تسلیم کرانے کے لیے انٹرن شپ بھی کر سکتے ہیں۔ ایک سال کے دوران آپ ہفتے میں 20 گھنٹے کام کرنے کے علاوہ مناسب ملازمت ملنے پر جرمنی میں مستقل رہائش کے لیے درخواست بھی دے سکتے ہیں۔
وزارت اوورسیز کے مطابق جرمنی کی جانب سے متعارف کردہ اپرچونٹی کارڈ کا مقصد غیر یورپی ممالک سے آنے والے ہنرمند افراد کو جرمنی میں نوکری تلاش کرنے کے لیے داخلے کی سہولت دینا ہے۔ تاہم عام ویزوں کے برعکس اس کے لیے پہلے سے نوکری کا لیٹر لازمی نہیں ہوتا، اپرچونٹی کارڈ رکھنے والے افراد جرمنی آکر قانونی طور پر رہتے ہوئے نوکری ڈھونڈ سکتے ہیں، انٹرویوز دے سکتے ہیں اور ٹرائل جاب بھی کر سکتے ہیں۔ اپرچونٹی کارڈ حاصل کرنے والے افراد کو ایک برس تک جرمنی میں قیام کی اجازت ملتی ہے تاکہ وہ اچھی اور موزوں نوکری تلاش کر سکیں۔ اس دوران وہ ہفتے میں 20 گھنٹے تک پارٹ ٹائم کام کر سکتے ہیں اور مختصر مدت کی ٹرائل ملازمتیں بھی کر سکتے ہیں۔ حکام کے مطابق یہ نظام خاص طور پر اُن لوگوں کے لیے متعارف کروایا گیا ہے جن کے پاس اچھی قابلیت، تجربہ یا جرمن لیبر مارکیٹ میں کام کرنے کی مضبوط صلاحیت موجود ہو۔
ایسے میں سوال ہیدا ہوتاہے کہ اپرچونٹی کارڈ حاصل کرنے کی اہلیت کیا ہے؟ ماہرین کے مطابق اپرچونٹی کارڈ کے لیے اہل ہونے کے لیے درخواست گزار کو کچھ بنیادی شرائط پوری کرنا ہوتی ہیں۔ سرکاری چانسن کارٹے کے معیار کے مطابق آپ کے پاس کم از کم دو سالہ پیشہ ورانہ تربیت یا یونیورسٹی کی ڈگری ہونی چاہیے۔ مزید یہ کہ آپ کے پاس بنیادی زبان کی مہارت ہونی چاہیے جو یا تو جرمن (A1) یا انگریزی (B2) لیول تک آتی ہو۔ اس کے علاوہ آپ کو 12 ماہ کے قیام کے دوران اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے مالی وسائل ثابت کرنا ہوں گے۔اگر آپ خودکار طور پر ہنرمند کارکن کے زمرے میں نہیں آتے تو پوائنٹس پر مبنی نظام استعمال کیا جاتا ہے۔ کارڈ حاصل کرنے کے لیے آپ کو کم از کم چھ پوائنٹس حاصل کرنا ضروری ہیں۔ پوائنٹس مختلف عوامل پر دیے جاتے ہیں جیسا کہ آپ کی اہلیت کا جزوی تسلیم ہونا، کام کا تجربہ، عمر اور کئی دیگر امور شامل ہیں۔
ماہرین کے مطابق پاکستان میں مقیم نوجوانوں کیلئے درخواست دینے کا عمل جرمن ایمبیسی کے آن لائن قونصلر سروسز پورٹل کے ذریعے آسان بنایا گیا ہے۔ اپرچونٹی کارڈ کے لیے آپ کو اپنی تمام دستاویزات بشمول ڈگری / پیشہ ورانہ سرٹیفکیٹ، زبان کا سرٹیفکیٹ، مالی ثبوت وغیرہ اس پورٹل پر اپ لوڈ کرنا ہوں گی۔سب سے اہم ثبوت مالی وسائل ہیں۔ فی الحال آپ کو یہ دکھانا ہوگا کہ آپ کے پاس کم از کم 13 ہزار سے زائد یورو موجود ہیں یعنی تقریباً ایک ہزار بیس یورو فی مہینہ بلاکڈ اکاؤنٹ میں موجود ہونے چاییں،جو جرمنی میں مقیم کسی فرد یا کمپنی کی طرف سے رسمی ضمانت کے ذریعے بھی ظاہر کیے جا سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ کے پاس ہیلتھ انشورنس ہونا ضروری ہے جو پورے سال کے لیے قابلِ قبول ہو۔ حکام کے مطابق شرائط پوری کرنے والے نوجوانوں کو فوری اپرچونٹی کارڈ جاری کر دیا جاتا ہے۔ اس لئے ماہر نوجوانوں کو ڈنکی لگانے یا یورپ جانے کیلئے غیر قانونی طریقے استعمال کرنے کی بجائے جرمنی کی طرف سے متعارف کردہ اپرچونٹی کارڈ کے آپشن کو استعمال کرنا چاہیے۔
