کیا دورہ روس میں عمران خان اپنا ڈی این اے دے آئے؟

وزیراعظم عمران خان کے حالیہ دورہ روس میں صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ ون آن ون ملاقات کے موقع پر دونوں رہنماؤں کے درمیان رکھی گئی چھوٹی سی میز کے حوالے سے سوشل میڈیا پر دلچسپ بحث ہو رہی ہے اور ہر کوئی اس کی علامتی اہمیت کے حوالے سے من مانی تاویلیں دیتا نظر آتا ہے۔
یاد رہے کہ عمران خان 23 فروری کو جب روس پہنچے تو ہوائی اڈے پر ریڈ کارپٹ پر ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا اور جمعرات 24 فروری کو ان کی صدر پوتن سے تین گھنٹے طویل ملاقات ہوئی۔ یہ وہی تاریخی لمحہ تھا جب روس نے ہمسایہ ملک یوکرین پر حملہ بھی کر دیا جس کی مغربی ممالک خصوصا امریکہ کی جانب سے سخت مذمت کی جا رہی ہے۔ اس اہم سوال کا جواب ڈھونڈنے کی بجائے کہ روس اور یوکرین کے تنازعے میں وزیراعظم عمران خان روس کا ساتھ دیں گے یا نہیں، ٹوئٹر پر جاری بحث اُس میز پر جا اٹکی ہے جو صدر پوتن اور عمران خان کی ملاقات کے دوران دونوں کے درمیان رکھی گئی تھی۔
لیکن سقال یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر یہ میز زیر بحث کیوں ہے؟ ہوا کچھ یوں کہ گذشتہ دنوں صدر پوتن نے روس اور ایران سمیت جن ممالک کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں وہ ایک بڑی میز کے گرد بیٹھ کر کئی میٹر کے فاصلے سے کی گئیں، لیکن عمران سے ملاقات میں پوتن انکے انتہائی قریب بیٹھے دکھائی دیے۔
مخدوم شہاب الدین نامی صارف نے طنزاً لکھا ’عمران خان کے لیے کرونا کا کوئی پروٹوکول نہیں۔ پوتن کی جانب سے واضح پیغام‘۔ لیکن جواب میں صارف سلمان خان نے خبر رساں ادارے روئٹرز کی خبر کا لنک شیئر کیا اور مشورہ دیا کہ انھیں اسے پڑھنے کی ضرورت ہے۔ جس خبر کا حوالہ دیا گیا تھا اس کے مطابق فرانسیسی صدر میخواں نے صدر پوتن سے ملاقات کے لیے روس میں اپنا کرونا ٹیسٹ کروانے سے انکار کر دیا تھا۔
حکومت قندیل کے قاتل کی بریت کیخلاف عدالت جانے کا
روئٹرز کے مطابق ذرائع نے تصدیق کی تھی کہ اس ٹیسٹ سے انکار کی وجہ دراصل یہ خدشہ تھا کہ کہیں اس ٹیسٹ کے ذریعے روس میخواں کا ڈی این اے نہ حاصل کر لے۔ نتیجتاً یہ ہوا کہ ماسکو میں یوکرین کے بحران پر ہونے والی بات چیت کے دوران فرانسیسی لیڈر میخواں کو روسی لیڈر پوتن سے فاصلے پر رکھا گیا۔ روسی ترجمان نے تب کہا تھا کہ ٹیسٹ نہ کروانے پر ہمیں کوئی مسئلہ نہیں لیکن اس کا مطلب ہوگا دونوں رہنماؤں کے درمیان 6 میٹر یعنی 20 فٹ کا فاصلہ جس کی وجہ روسی صدر کی صحت کا تحفظ بتائی گئی۔ خیال رہے کہ یہ ملاقات 11 فروری کو ہوئی تھی۔
اس خبر کی روشنی میں یہ تاثر ابھرتا ہے کہ شاید عمران خان نے دورہ روس کے دوران صدر پیوٹن سے ملاقات کے لیے اپنا کرونا ٹیسٹ کروانے پر آمادگی ظاہر کر دی تھی جس کے ذریعے ان کا ڈی این اے بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اور ظاہر ہے جب عمران نے اپنا کرونا ٹیسٹ کروا لیا اور وہ منفی بھی آ گیا تو صدر پوتن نے ان سے بلا خوف قربت ڈالنے کا فیصلہ کیا اور ملاقات کے دوران ایک جہازی سائز میںز کی بجائے ایک بہت چھوٹا سا ٹیبل رکھا گیا۔
جہازی سائز ٹیبل کے دو اطراف بیٹھے پوتن اور میخواں کی تصاویر وائرل ہونے کے بعد جب عمران اور پوتن کی چھوٹی ٹیبل کے ساتھ تصاویر جاری ہوئیں تو صارفین نے دلچسپ تبصرے کیے۔ کسی نے کہا کہ شاید یہ اس لیے ہے کہ پوتن عمران کو پسند کرتے ہیں، کسی نے کہا کہ شاید عمران اپنا ڈی این اے دینے کو راضی ہو گے ہوں۔ ایک صارف نے لکھا کہ روسی انٹیلیجنس ایجنسی ’کے جی بی‘ نے پوتن کو رپورٹ دی ہے کہ خان جھکنے والا ہے اور نہ بکنے والا. چونکہ موجودہ حالات کی وجہ سے پوتن کو مورل سپورٹ کی ضرورت ہے اس لیے پوتن نے خان کو ساتھ والی کرسی پر بٹھایا۔
یہاں دنیا میں ہر کوئی مطلبی ہے۔ لیکن ایک اعر صارف نے کہا شاید کرسیاں اس لیے قریب رکھی تھیں کیونکہ پوتن عمران کے کان میں کہنا چاہتے تھے، ’تم گھر چلے جاؤ، مجھے اس وقت اور بھی اہم کام کرنے ہیں۔ نوید نامی صارف کے ٹوئٹر ہینڈل سے یہ پیغام سامنے آیا کہ مشہور گیت ’چن سجنا وے نیڑے نیڑے ہو‘، میڈم نورجہاں نے انہی دونوں کے لیے گایا تھا۔اس بحث کے دوران ایک صارف نے ٹوئٹر پر پاکستانی عوام سے سوال کیا ’ادھر جنگ لگی ہے تم لوگوں کی سوچ میزوں سے آگے نہیں بڑھ رہی۔۔۔‘ روس نے یوکرین پر حملہ کر دیا ہے۔ افسوس کہ کرونا سے جنگ لڑنے کی بجائے دنیا میں تیسری عالمی جنگ کا طبل بجنے کی باتیں ہو رہی ہیں۔
