کیا عمران اپنے اتحادیوں کو ساتھ رکھنے میں کامیاب ہو گئے؟

اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے لئے جہانگیر ترین سے رابطوں کے بعد اب کپتان نے بھی مجبورہوکر اپنی سابقہ اے ٹی ایم سے فون پر رابطہ کیا ہے اور انکی خیریت دریافت کی یے۔ رابطے کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ کہیں ترین اپوزیشن کے ساتھ نہ مل جائیں، جس کا اشارہ وزیر اعظم کے خلاف ممکنہ تحریک عدم اعتماد کی حمایت کرنے کے لیے ترین سے اپوزیشن قائدین کے رابطوں سے ظاہر ہوتا ہے۔

خیال رہے کہ جہانگیر ترین خفیہ طور پر نہ صرف شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمن سے ملاقات کر چکے ہیں بلکہ آصف علی زرداری سے بھی رابطے میں ہیں۔ ان رابطوں کے بعد وزیراعظم پر اپنے ساتھیوں کی جانب سے دباؤ تھا کہ وہ انا پسندی چھوڑیں اور حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے حکومت بچانے کی خاطر ترین سے رابطہ کریں تاکہ ان سے معاملات بہتر بنائے جا سکیں۔

کچھ حکومتی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ عمران کے جہانگیر ترین کے رابطے کے نتیجے میں ہی وہ علاج کی خاطر بیرون ملک روانہ ہوئے ہیں تاکہ تحریک عدم اعتماد کے عمل کا حصہ بننے سے بچ سکیں۔ دوسری جانب کچھ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ عمران خان نے جہانگیر ترین سے رابطہ ان کے لندن پہنچنے کے بعد کیا جس کا مقصد صرف ان کی صحت بارے دریافت کرنا تھا۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ یہ عمران خان کا ایک اچھا سیاسی قدم تھا جس سے دونوں کے درمیان کشیدہ تعلقات کی بحالی میں مدد مل سکتی ہے۔ تاہم اپوزیشن ذرائع کا کہنا ہے کہ جہانگیر ترین اور عمران خان میں فاصلے اتنا زیادہ بڑھ چکے ہیں کہ اب ان کا ختم ہونا ممکن نہیں اور ویسے بھی مومن ایک سوراخ سے ایک ہی مرتبہ ڈسا جاتا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ نواز شریف اور جہانگیر ترین کی لندن میں موجودگی کے دوران انکا ایک دوسرے سے براہ راست رابطہ بھی ہو سکتا ہے اور تحریک عدم اعتماد کے معاملات آگے بھی بڑھ سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ اپوزیشن جماعتیں تحریک عدم اعتماد کے اعلان کے بعد سے یہ امید لگائے بیٹھی ہیں کہ بہت جلد حکمران جماعت میں ایک عمران مخالف فارورڈ بلاک سامنے آجائے گا جس کے بعد کپتان کی اتحادی جماعتیں بھی ان سے علیحدگی اختیار کرنا شروع کر دیں گی۔

وزیراعظم عمران خان سے آرمی چیف کی ملاقات

اپوزیشن ذرائع تو یہ دعوی بھی کر رہے ہیں کہ اگلے چند روز میں تحریک انصاف کے اندر سے ایک عمران مخالف دھڑا جلد سامنے آنے والا ہے اور ترین بھی اسی وجہ سے بیرون ملک روانہ ہوئے ہیں تا کہ انتقامی کاروائی کے نتیجے میں انہیں شوگر سکینڈل میں گرفتار نہ کیا جا سکے۔ یاد رہے کہ شوگر اسکینڈل کے بعد ہی عمران اور ترین کے تعلقات خراب ہوئے تھے۔

چند روز قبل وزیر داخلہ شیخ رشید نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے وزیراعظم سے اپنے پرانے دوست ترین سے بات کرنے کی درخواست کی تھی لیکن پی ٹی آئی کے کچھ ارکان نے اس خیال کی تائید نہیں کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایک دوسرے کے سخت سیاسی مخالف مسلم لیگ (ن) اور مسلم لیگ (ق) 14 سال بعد مل سکتے ہیں تو دو پرانے دوست عمران خان اور جہانگیر ترین کیوں نہیں مل سکتے۔

تاہم جہانگیرترین کے فیملی ذرائع کا اصرار ہے کہ ان کی لندن روانگی کا واحد مقصد اپنا علاج کروانا ہے اور اس کے پیچھے کوئی سیاسی ایجنڈا کارفرما نہیں۔ فیملی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کو جگر اور معدے کی تکلیف لاحق ہے اور ابتدائی طور پر معلوم ہوا ہے کہ انکے جسم میں سوڈیم کی شدید کمی ہو چکی ہے جس وجہ سے وہ بار بار غنودگی کا شکار ہو جاتے ہیں۔

لیکن یاد رہے کہ ترین کافی عرصے سے کینسر کے مرض کا علاج کروا رہے ہیں اس لیے انکی ایک ایسے وقت اچانک لندن روانگی معنی خیز یے جب اپوزیشن جماعتیں عمران کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے لیے ان پر تکیہ کیے ہوئے تھیں۔ سوال یہ بھی ہے کہ کیا موجودہ سیاسی صورتحال کے تناظر میں جہانگیر ترین بیماری کا بہانہ بنا کر سیاسی منظر نامہ سے غائب تو نہیں ہوئے تاکہ کوئی پوزیشن لینے سے بچا جا سکے خصوصا جب فوجی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے بھی کوئی عمران مخالف واضح اشارہ سامنے نہیں آ سکا؟

ان سوالوں سے قطع نظر جہانگیر ترین کے ایک قریبی ساتھی کا کہنا ہے کہ ترین کو پیٹ اور جگر کی تکلیف لاحق ہے۔ انہوں نے پاکستان میں اپنے ٹیسٹ بھی کروائے، جن میں سے بعض ٹیسٹ لاہور کے شوکت خانم ہسپتال سے کروائے گئے۔ تاہم اب پتہ چلا ہے کہ انہیں سوڈیم کی شدید کمی کا سامنا ہے۔

جب لاہور میں ہونے والے ٹیسٹوں کی رپورٹس بارے انہوں نے لندن میں اپنے ڈاکٹر کو آگاہ کیا تو اس نے انہیں فورا برطانیہ آ جانے کا مشورہ دیا تاکہ انکے مزید ٹیسٹ بھی کروائے جا سکیں۔ چنانچہ جہانگیر ترین اپنی فیملی کے ساتھ لندن روانہ ہو گئے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ جہانگیر ترین ایک ہفتہ سے زائد لندن میں قیام کریں گے اور ہو سکتا ہے کہ وہ تحریک عدم اعتماد پیش ہونے کے بعد ہی ملک واپس آئیں جو کہ اپوزیشن کے لیے ایک بری خبر ہو گی۔

لیکن حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ جہانگیر ترین پر گذشتہ کچھ دنوں سے ان کے پرانے اور عمران خان کے مشترکہ دوستوں کی جانب سے شدید دباو تھا کہ وہ اپوزیشن جماعتوں کی تحریک عدم اعتماد میں عمران خان کے خلاف چلنے سے باز رہیں۔

عمران خان کی جانب سے جہانگیر ترین کو فون کرکے ان کی طبیعت بارے پوچھنے کا مقصد بھی یہی تھا کہ وہ وہ اپوزیشن کے ساتھ چلنے سے باز رہیں۔ چنانچہ اب حکومتی ذرائع اد امید کا اظہار کر رہے ہیں کہ اپوزیشن کو اپنی وزیراعظم مخالف تحریک عدم اعتماد میں ترین کا ساتھ نہیں ملے گا۔ لیکن اپوزیشن ذرائع اب بھی پر امید ہیں کہ اشارہ ملتے ہی جہانگیر ترین اور عمران کی اتحادی جماعتیں اپوزیشن کے ساتھ کھڑی ہو جائیں گی۔

دوسری جانب جب یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اپوزیشن کے ساتھ معاملات تقریبا طے کر لینے کے بعد اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے کلیئرنس نہ ملنے کے باعث اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہی بھی اب اپوزیشن سے دوری اختیار کر رہے ہیں۔ لاہور میں چیئرمین سینیٹ سے ملاقات کے بعد پرویز الٰہی کا ایک ٹوئیٹ میں کہنا تھا کہ عوام نے پی ٹی آئی حکومت کو 5 سال کا مینڈیٹ دیا ہے اور ہم پارلیمانی روایات کو پامال نہیں ہونے دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہر جمہوری حکومت کو عوامی خدمت کے لیے دی گئی مدت پوری کرنے کا حق حاصل ہے، ان کا کہنا تھا کہ جاری مشاورت اور ملاقاتیں سیاسی عمل کا حصہ ہیں، اور کوئی بھی حتمی فیصلہ پارلیمانی پارٹی سے مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ سیاسی صورتحال میں قومی مفاد سب سے اہم ہے اور بدلتی سیاسی صورتحال پر ہماری گہری نظر ہے، انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ حکومت مہنگائی کی چکی میں پسنے والے عوام کو فوری ریلیف فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کرے۔ پرویز الہی سے ملاقات کے بعد سینیٹ کے چیئرمین صادق سنجرانی نے امید ظاہر کی کہ چوہدری برادران بدلتے سیاسی منظرنامے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور وہ سیاسی ماحول بہتر بنانے کا کوئی راستہ نکال لیں گے۔

اسی دوران مسلم لیگ نواز نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے اپوزیشن کی عدم اعتماد کی تحریک کے پیش نظر قومی اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری تیار کر لی ہے۔ مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر رانا ثنا اللہ خان نے کہا تھا کہ عمران نے تحریک عدم اعتماد کے پیش نظر قومی اسمبلی کو تحلیل کرنے کے لیے ایک پچھلی تاریخ کی سمری پر دستخط کیے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور جے یو آئی (ف) نے تحریک عدم اعتماد سے متعلق اپنا ہوم ورک مکمل کر لیا ہے اور نواز شریف کی جانب سے حتمی فیصلے کا انتظار ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کے کئی ارکان اپوزیشن سے رابطے میں ہیں اور کسی بھی وقت کوئی بڑا اعلان سامنے آ سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر داخلہ شیخ رشید نے آنے والے دنوں میں جس سیاسی ڈرون حملے کا دعویٰ کیا تھا، وہ درحقیقت عمران خان کی جانب سے اسمبلی تحلیل کرنا ہے۔

اس سے پہلے یہ خبر بھی آئی تھی کہ وزیراعظم عمران خان نے صدر عارف علوی سے آرمی چیف کے حوالے سے ایک سمری پر بھی دستخط کروا لیے ہیں لیکن بعد ازاں صدر علوی نے اس خبر کی تردید کر دی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ابھی موجودہ آرمی چیف کی ریٹائرمنٹ میں کافی مہینے باقی ہیں اور وزیراعظم نے اس حوالے سے ان کے ساتھ کوئی مشاورت نہیں کی۔ لیخن اسلام آباد میں اس طرح کی اطلاعات بھی ہیں کہ عمران خان نے حالیہ دنوں میں فوجی قیادت کو اپنے خطرناک ہو جانے کی دھمکی پر عمل درآمد کی وارننگ دے دی تھی جسکے بعد اسٹیبلشمنٹ نے اپوزیشن کے سر سے ہاتھ اٹھا لیا ہے اور تحریک عدم اعتماد کا مستقبل تاریک ہو گیا ہے۔

Back to top button