کیا پرویز الٰہی نے یو ٹرن لیکر اپوزیشن کو دھوکا دے دیا؟

پاکستانی سیاست میں موقع پرستی کے علمبردار چودھری پرویزالٰہی کی جانب سے وزیر اعظم عمران خان کو چارج شیٹ کیے جانے کے اگلے ہی روز اب حکومتی حلقوں نے یہ بڑا دعویٰ کر دیا ہے کہ کپتان نے عثمان بزدار کی جگہ پرویز الہی کو وزیر اعلی پنجاب بنانے کا مطالبہ تسلیم کر لیا ہے جسکے بعد انہوں نے حکومتی اتحاد چھوڑ کر اپوزیشن کا حصہ بننے پر یو یوٹرن لے لیا ہے۔ حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اسی لئے پرویز الہی نے اپنے سابقہ موقف سے یو ٹرن لیتے ہوئے یہ اعلان کیا ہے کہ نہ ہی انہوں نے حکومتی اتحاد چھوڑا ہے اور نہ ہی اپوزیشن کے ساتھ ہاتھ ملایا ہے۔ تاہم یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ آیا پرویز الہی کو وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد سے پہلے ہی وزارت اعلیٰ سونپ دی جائے گی یا ایسا بعد میں یو گا؟
اپوزیشن ذرائع نے ابھی تک اس حکومتی دعوے کی تصدیق نہیں کی لیکن قاف لیگ ذرائع بتا رہے ہیں کہ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی اور مونس الہی کے مابین معاملات طے پا گئے ہیں اور پرویز الٰہی نے ایک مرتبہ پھر اپنا جاگا ہوا ضمیر سلا کر اپوزیشن کو جھنڈی دکھانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ قاف لیگی ذرائع کا کہنا ہے کہ چوہدری برادران کے مابین حکومت چھوڑنے اور اپوزیشن کے ساتھ جانے پر ایک مرتبہ پھر اختلاف پیدا ہو چکا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ چوہدری شجاعت، طارق بشیر چیمہ، چوہدری سالک حسین اور کامل علی آغا حکومتی اتحاد چھوڑ کر اپوزیشن کے ساتھ جانے کے وعدے پرقائم رہنے کے خواہاں ہیں جبکہ چوہدری پرویز الہی اور انکے بیٹے مونس الہی نے حسب سابق ایک بار پھر اپنی زبان سے پھرتے ہوئے اور موقع پرستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے حکومتی یقین دہانیوں پر اعتبار کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
قاف لیگی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر پرویزالٰہی اپوزیشن کے ساتھ کی گئی کمٹمنٹ سے بھاگ جاتے ہیں تو یہ صورت حال چوہدری شجاعت حسین کے لیے شرمندگی کا باعث بنے گی جنہوں نے اس مرتبہ خود اسلام آباد جا کر آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمن کو ساتھ چلنے کی پیشکش کی تھی۔ بعد ازاں اپوزیشن قیادت نے دوبارہ سے شریف برادران کو اس بات پر آمادہ کیا تھا کہ پرویز الہی کو پنجاب کی وزارت اعلی سونپ دی جائے تاکہ مرکز میں عمران خان سے جان چھڑائی جا سکے۔ لیکن اب اگر پرویز الہی اپنے برے بھائی چوہدری شجاعت حسین کو بھی دھوکہ دے دیتے ہیں تو ان کی عزت کا بھی جنازہ نکل جائے گا۔
لیکن چوہدری پرویز الہی کو اپوزیشن سے گلہ ہے کہ وعدے کے باوجود ابھی تک ان کو وزارت اعلی کے لئے نامزد نہیں کیا گیا۔ دوسری جانب وہ مسلسل عمران خان پر بھی دباؤ ڈال رہے تھے کہ اگر انہیں مرکز میں قاف لیگ کی حمایت چاہیے تو انہیں فوری طور پر وزارت اعلیٰ سونپ دی جائے۔ عمران خان کی جانب سے چوہدری پرویز الہی کو وزیر اعکہ بنانے کا اشارہ تو دیا گیا تھا لیکن یہ کہا گیا تھا کہ مرکز میں تحریک عدم اعتماد کو ناکام بنانے کے بعد ہی اس پر عمل کیا جائے گا۔ لیکن پرویز الہی اس وعدے پر یقین کرنے کو تیار نہیں تھے اور طارق بشیر چیمہ نے کہا تھا کہ ہم کوئی بچے نہیں جو اب ایسے لولی پوپ لیں گے۔
بعد ازاں اپنے انٹرویو میں پرویزالٰہی نے انکشاف کیا تھا کہ وزیراعظم نے مونس الہی سے کہا تھا کہ اگر قاف لیگ کو تحریک انصاف میں ضم کر دیا جائے تو پھر وزارت کی اعلی دی جا سکتی ہے۔ لیکن ہم نے یہ شرط ماننے سے انکار کر دیا تھا اور اسے ایک مذاق قرار دیا تھا۔ اپنے اس انٹرویو میں پرویز الہی نے عمران خان کو باقاعدہ چارج شیٹ کر دیا اور کہا کہ وہ پچھلے ساڑھے تین برس سے اپنی نیپیاں لوگوں سے تبدیل کروا رہے ہیں۔ انہوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ عمران خان نے مونس الہی کو نیب کے ہاتھوں گرفتار کروانے کے احکامات بھی جاری کیے۔
5 سال کے لیے مائنس پی ٹی آئی نیشنل گورنمنٹ کی تجویز
تاہم حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس انٹرویو کے اگلے ہی روز پرویز الہی سے رابطہ کر لیا گیا اور انہیں وزارت اعلیٰ کے علاوہ کچھ مالی یقین دہانیاں بھی کروا دی گئیں جس کے بعد انہوں نے حزب اختلاف کے ساتھ نہ جانے کا وعدہ کر لیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ اپنے والد کو عمران خان کا ساتھ دینے پر آمادہ کرنے میں مونس الہی نے مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ حکومتی ذرائع کا دعوی ہے کہ اس یقین دہانی کے بعد وزیر اعظم کے لیے جذبہ خیر سگالی کے تحت پرویز الہی نے عمران خان کو ‘سو فیصد مشکل میں’ قرار دینے کے اپنے بیان سے یو ٹرن لیتے ہوئے یہ بیان داغ دیا کی انہوں نے نہ تو حکومت چھوڑی ہے اور نہ ہی اپوزیشن جوائن کی ہے۔ ان کا مذید کہنا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان ایماندار انسان ہیں اور ان کی نیت بھی اچھی ہے۔ حکومتی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ پرویز الہی کا بدلا ہوا موقف اس بات کا غماز ہے کہ ان کے حکومت کے ساتھ معاملات طے پا گئے ہیں جن پر جلد عمل درآمد ہو جائے گا۔
دوسری جانب اپوزیشن ذرائع ایسی کسی ڈویلپمنٹ کے بارے میں اظہار لاعلمی کر رہے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ قاف لیگ کے علاوہ بلوچستان عوامی پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ بھی حزب اختلاف کا ساتھ دینے کی یقین دہانی کروا چکے ہیں اور اس حوالے سے معاہدے بھی طے پا چکے ہیں۔ لیکن دوسری جانب اپوزیشن کے دعووں پر قاف لیگی ذرائع سے آنے والی یہ اطلاع سوال کھڑا کرتی ہے کہ چوہدری برادران میں حکومت کے ساتھ جانے یا نہ جانے پر اختلاف پیدا ہو چکا ہے اور شجاعت حسین کے برعکس پرویز الہی ایک مرتبہ پھر عمران خان کے ساتھ کھڑے رہنے پر مصر ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پنجاب کی وزارت اعلی کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے اور پرویز الہی کو وزیر اعلی اپوزیشن بناتی ہے یا حکومت؟
