کھلاڑی نے پاکستان اور کامیڈین نے یوکرین کیسے تباہ کیا؟

پاکستان میں 1992 کا کرکٹ ورلڈ کپ جیتنے والے عمران خان کے وزیراعظم بننے اور یوکرین میں ایک ٹی وی سیریز سے بطور کامیڈین ملک گیر مقبولیت حاصل کر کے صدر منتخب ہونے والے ولادیمیر زیلنسکی کے طرز حکومت کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ کبھی کسی کھلاڑی یا اداکار کو ملک کی باگ ڈور نہیں سونپنی چاہیے ورنہ وہی ہوگا جو پاکستان اور یوکرین میں ہو رہا ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان کے کرکٹر وزیراعظم عمران خان کی طرح روسی جارحیت کا شکار یوکرین کے نوجوان صدر ولادیمیر زیلنسکی کو بھی عملی سیاست کا کوئی تجربہ نہیں بلکہ وہ پیشہ ور کامیڈین تھے۔ ایک سپر ہٹ ٹی وی سیریز میں جذباتی تقریر کرنے کے بعد وہ 2019 کے انتخابات میں اتفاقیہ طور پر ملک کے صدر منتخب ہو گئے۔
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی بار بار تنبیہ کے باوجود وہ یوکرین کو یورپی یونین اور نیٹو کا ممبر بنانے کی کوشش کرتے رہے اور کشیدگی کو اس حد تک لے گئے کہ روس نے یوکرین پر جنگ مسلط کر دی۔ پاکستان میں کرکٹر وزیراعظم عمران خان اور یوکرین میں صدر ولادیمیر زیلنسکی کے ناکام تجربے کے بعد ناقدین کہتے ہیں کہ کھلاڑیوں اور اداکاروں کو انکی پیشہ ورانہ سرگرمیوں تک ہی محدود رکھنا چائیے اور عملی سیاست میں کسی صورت نہ گھسنے دیا جائے ورنہ وہ پورے ملک کا بیڑا غرق کر دیتے ہیں۔
خیال رہے کہ یوکرین کے موجودہ صدر ولادیمیر زیلنسکی جب پہلی بار صدر کے طور پر ٹی وی سکرین پر نظر آئے تو تب وہ ایک کامیڈی سیریز میں بطور اداکار صدر کا کردار نبھا رہے تھے۔ لیکن وہ 2019 میں حقیقی صدر بن گئے۔ اب وہ چار کروڑ چالیس لاکھ لوگوں کے لیڈر ہیں اور ان کے ملک پر روس نے کئی سمتوں سے حملہ کر رکھا ہے۔
عمران خان کے گھر جانے تک لانگ مارچ جاری رہے گا
ولادیمیر زیلنسکی ٹی وی سیریز ’سرونٹ آف دی پیپل‘ میں ایک استاد کے کردار میں نظر آئے جسکی ایک ویڈیو وائرل ہو گئی۔ اس ویڈیو میں وہ ملک میں کرپشن کے خلاف ایک جذباتی تقریر کرتے ہیں جو لوگوں کو پسند آتی ہے اور وہ الیکشن میں کھڑے ہونے کے بعد ملک کی صدارت تک پہنچ جاتے ہیں۔
ولادیمیر زیلنسکی نے اپنی جماعت کا نام بھی اسی ٹی وی پروگرام کے نام پر ’سرونٹ آف دی پیپل‘ رکھا تھا۔ انہوں نے اپنی انتخابی مہم بھی عمران خان کی طرح سیاست میں کرپشن ختم کرنے اور امن بحال کرنے کے نعرے پر چلائی لیکن جب اقتدار ملا تو ملک کو جنگ میں جھونک دیا۔
اب روس کی فوج یوکرین کی سرحدیں عبور کر چکی ہے اور ولادیمیر زیلنسکی ایک ایسے بحران سے دوچار ہو چکے ہیں جسے سرد جنگ کے خاتمے کے بعد سے یورپ میں سب سے بڑا بحران قرار دیا جا رہا ہے۔ 44 سالہ زیلنسکی کی صدارت کا سفر روایتی نہیں تھا۔ یوکرین کے شہر کریویرخ میں یہودی والدین کے ہاں پیدا ہونے والے ولادیمیر زیلنسکی نے کیئو کی نیشنل اکنامک یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کی لیکن ان کا شوق انھیں اداکاری کی طرف کھینچ کر لے گیا۔ وہ ایک نوجوان کے طور پر روسی ٹی وی کے کامیڈی شوز میں حصہ لیتے تھے۔
انھوں نے 2003 میں ایک پروڈکشن کمپنی بنائی جسے انھوں نے اپنی کامیڈی ٹیم ’کروٹل 95‘ کا نام دیا۔ زیلنسکی کی پروڈکشن کمپنی کے پروگرام یوکرین کے ون پلس ون نیٹ ورک پر نشر ہوتے تھے۔ جب انھوں نے صدارتی انتخابات میں حصہ لیا تو چینل ون پلس ون کے ارب پتی مالک کلوموسکی نے ان کی حمایت کی۔ 2010 تک ولادیمیر زیلنسکی کی ساری توجہ اپنے ٹی وی کیریئر پر تھی۔
ولادیمیر زیلنسکی کا مشہور ڈرامہ ’سرونٹ آف دی پیپل‘ 2015 میں چینل ون پلس ون پر نشر ہوا جس میں انھوں نے ویزلی گولوبورو کا کردار ادا کیا۔ اسی شو میں کی جانے والی ایک جذباتی تقریر نے انھیں صدارت تک پہنچا دیا۔ زیلنسکی 2019 میں صدر پیٹرو پوروشینکو کو واضح مارجن سے شکست دے کر حقیقی صدارت تک پہنچے۔ انھوں نے 73 فیصد ووٹ حاصل کیے اور 20 مئی 2019 کو ملک کے چھٹے صدر کا حلف اٹھا لیا۔
جب زیلنسکی نے یوکرین کو یورپی یونین اور نیٹو میں شامل کرنے کی باتیں شروع کیں تو روسی صدر ناراض ہوئے۔ ان کے مخالفین نے ان پر ناتجربہ کاری کے الزامات بھی لگائے۔ انھوں نے یوکرین کی اشرافیہ کی سب سے نمایاں شخصیت وکٹر میدودیچک کو گھر میں نظر بند کر دیا اور ان پر ملک سے غداری کا مقدمہ بھی درج کرایا۔ پھر ایک ایسا قانون متعارف کرایا جس میں یہ بتایا گیا کہ اشرافیہ کون ہیں اور ان پر پابندیاں عائد کی گئیں۔
صدر زیلنسکی کے مخالفین نے ان کے کریشن کے خلاف اقدامات کو مصنوعی قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ وہ صرف امریکی انتظامیہ سے اپنے تعلقات کو مضبوط کرنے کی کوشش کر رہے ہین۔ یوکرین پر روسی حملے کے بعد اب یہ اطلاعات ہیں کہ امریکہ نے انہیں یوکرین سے بحفاظت نکالنے کی آفر تو کی ہے لیکن ان کی فوجی مدد کرنے سے گریزاں ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ زیلنسکی روس کے خلاف ڈٹے رہتے ہیں یا ملک سے فرار ہو جاتے ہیں۔
