کیا پاکستان کی قیادت میں جنگ بندی مذاکرات ناکام ہو گئے؟

پاکستان کی زیر قیادت امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے لیے کی جانے والی کوششیں فی الحال ناکام ہو گئی ہیں اور ایران نے باضابطہ طور پر بتا دیا ہے کہ اسے امریکی شرائط قبول نہیں۔ معروف امریکی اخبار دی وال سٹریٹ جنرل نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کی اپنی شرائط پر جنگ بندی کی خواہش کو تب بڑا دھچکا لگا جب تہران نے واشنگٹن کی پیش کردہ شرائط ماننے سے صاف انکار کر دیا۔
اخبار کے مطابق ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ نہ صرف امریکی شرائط کو مسترد کرتا ہے بلکہ انکے حوالے سے کسی طرح کے مذاکرات کا حصہ بھی نہیں بنے گا۔ ایران نے امریکی شرائط کے جواب میں اپنی شرائط پیش کی ہیں اور اس کا موقف ہے کہ جب تک ان شرائط کو تسلیم نہیں کیا جاتا اور چین یا روس جیسے ممالک جنگ بندی معاہدے کے ضامن نہیں بنتے، ایران کسی صورت امریکہ کے ساتھ مذاکرات نہیں کرے گا۔
وال سٹریٹ جنرل کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی قیادت میں علاقائی ممالک کی جانب سے امریکہ اور ایران کے درمیان فوری جنگ بندی کے لیے کی جانے والی حالیہ ثالثی کوششیں نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو سکیں۔ ثالثوں نے تصدیق کی ہے کہ ایران نے باضابطہ اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اسلام آباد میں امریکی حکام سے ملاقات نہیں کرے گا اور موجودہ شرائط پر کسی پیش رفت کا امکان نہیں۔ تہران نے پاکستانی ثالثی کو بھی مسترد کر دیا ہے۔ ایرانی مؤقف کے مطابق پاکستان کے بعض بااثر حلقے، جو ماضی میں امریکی ایلچی سٹیو وٹکوف کے قریب ہیں، مکمل غیرجانبداری برقرار نہیں رکھ سکتے۔
ادھر سفارتی ذرائع کے مطابق قطر کا دارالحکومت دوحہ اب دونوں فریقین کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے لیے ایک متبادل مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے، جیسا کہ ماضی میں بھی ہوتا رہا ہے۔ قطری سفارت کاری، جس کی قیادت وزیر اعظم محمد بن عبدالرحمن التھانی کر رہے ہیں، تعطل کو ختم کرنے کے لیے سرگرم عمل ہے۔ اس کے علاوہ ترکی اور مصر بھی نئی تجاویز کے ذریعے نئے مقامات پر مذاکرات کی بحالی کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں، جن میں استنبول اور دوحہ سرفہرست ہیں۔
سفارتی پیش رفت کے حوالے سے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پاکستانی سفارت کار مکمل طور پر اس عمل سے باہر نہیں ہوئے۔ پاک فوج کے سابق کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ محمد عامر دوحہ میں رابطوں کے تسلسل کو برقرار رکھیں گے اور قطر میں موجود مذاکراتی ٹیم کے ساتھ قریبی روابط میں رہیں گے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ تہران کو بعض بھارتی سفارت کاروں کی خاموش حمایت حاصل ہے، جو ایرانی تیل کی ترسیل کو محفوظ بنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں اور نہیں چاہتے کہ ان کا علاقائی حریف پاکستان امن عمل میں کلیدی کردار ادا کرے۔ تاہم پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے ان رپورٹس کی سختی سے تردید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا، بالخصوص سوشل میڈیا پر، نام نہاد سرکاری ذرائع کے حوالے سے جو دعوے کیے جا رہے ہیں وہ بے بنیاد اور من گھڑت ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ وزارت خارجہ کی حالیہ بریفنگ کو غلط انداز میں پیش کیا گیا اور ایسے نکات شامل کیے گئے جن پر کوئی بات نہیں ہوئی تھی۔
ترجمان نے زور دیا کہ خطے کی موجودہ حساس صورتحال میں ذمہ دارانہ صحافت نہایت اہم ہے، اس لیے میڈیا کو چاہیے کہ قیاس آرائیوں سے گریز کرے اور مستند معلومات کے لیے صرف سرکاری بیانات پر انحصار کرے۔
ایران پر حملہ کر کے اسرائیل گہری دلدل میں کیسے پھنس گیا؟
تاہم پاکستانی سفارتی حلقوں نے تصدیق کی ہے کہ خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں سفارتی کوششیں تاحال تعطل کا شکار ہیں جن کی بنیادی وجہ امریکہ اور ایران دونوں کی جانب سے پیش کردہ سخت مطالبات ہیں، تاہم ثالثوں کی جانب سے متبادل تجاویز کے ذریعے مذاکرات کی بحالی کی کوششیں جاری ہیں۔
