لندن میں شہزاد اکبرپرحملہ:اسٹیبلشمنٹ پرلگاالزام جھوٹانکلا

لندن میں عمرانڈو رہنما شہزاد اکبر اور بھگوڑےمیجر عادل راجہ کی دھلائی اور ٹھکائی میں فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ملوث ہونے کے الزامات جھوٹے نکلے۔ برطانوی پولیس نے برمنگھم سے تعلق رکھنے والے حملوں کے چیف منصوبہ ساز اور مبینہ ’ہٹ مین‘ لوئس ریگن کو عدالت میں پیش کر دیا۔ مبصرین کے مطابق برطانوی عدالت میں سامنے آنے والے شواہد اور فردِ جرم کی تفصیلات نے اس بیانیے کو شدید دھچکا پہنچایا ہے جس کے تحت پی ٹی آئی حلقوں کی جانب سے شہزاد اکبر اور میجر عادل راجہ پر ہونے والے حملوں کو پاکستان کی “ریاستی کارروائی” کے طور پر پیش کیا جا رہا تھا تاہم اب برطانوی پولیس کی جانب سے عدالت میں پیش کیے گئے مبینہ ’ہٹ مین‘ اور دیگر مقامی ملزمان سے واضح ہوتا ہے کہ یہ حملے کسی خفیہ عالمی سازش کا حصہ نہیں تھے بلکہ برطانیہ میں موجود افراد کی جانب سے بنایا گیا ایک انفرادی مجرمانہ منصوبہ تھا، جس میں تاحال پاکستانی ریاست یا فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ملوث ہونے کا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا۔
برطانوی دارالحکومت لندن کی ویسٹ منسٹر مجسٹریٹ عدالت میں پولیس کی جانب سے پیش کی گئی تفصیلات کے مطابق 25 سالہ لوئس ریگن نے گزشتہ سال کرسمس کے موقع پر شہزاد اکبر اور عادل راجہ کے گھروں پر حملوں کی منصوبہ بندی کی۔ ریگن نے باقاعدہ جاسوسی کے بعد دونوں مقامات کا انتخاب کیا اور حملے کے لیے مقامی افراد پر مشتمل ایک گروہ تشکیل دیا۔
پراسیکیوٹرز کے مطابق ریگن نے شہزاد اکبر کے گھر پر حملے کے وقت مزدور کا یونیفارم، ہیلمٹ اور ماسک پہن رکھا تھا۔ دروازہ کھٹکھٹانے کے بعد جیسے ہی شہزاد اکبر نے اپنی شناخت ظاہر کی، ان پر حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں ان کی ناک کی ہڈی ٹوٹ گئی اور چہرے پر شدید چوٹیں آئیں۔ دوسری جانب اسی وقت ایک اور گروہ عادل راجہ کے گھر پہنچا، تاہم وہ اس وقت گھر پر موجود نہیں تھے، جس کے باعث بھگوڑا میجر دھلائی اور ٹھکائی سے بچ گیا۔ عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ ان حملوں سے قبل دونوں رہنماؤں کے گھروں کی باقاعدہ ریکی کی گئی تھی اور ریگن کی طرف سے حملوں کی تمام تر منصوبہ بندی برطانیہ میں بیٹھ کر کی گئی۔ پولیس کے مطابق اس کیس میں شامل تمام ملزمان برطانوی شہری یا برطانیہ میں مقیم افراد ہیں اور تاحال تحقیقات میں کسی غیر ملکی ریاست، ادارے یا خفیہ نیٹ ورک کے ملوث ہونے کا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا۔
برطانوی پولیس حکام کے مطابق اولڈ بیلی عدالت میں جلد لوئس ریگن کے علاوہ حملوں میں ملوث مزید تین شریک ملزمان کو بھی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ ان میں سے ایک ملزم پر شہزاد اکبر کے گھر کے باہر آتش زنی اور ممنوعہ اسلحہ رکھنے کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے۔ عدالت نے اس پورے نیٹ ورک کو ’’تشدد کے لیے پیسوں کے عوض کام کرنے والا گروہ‘‘ قرار دیا ہے۔
مبصرین کے مطابق برطانوی عدالت میں سامنے آنے والے شواہد اور فردِ جرم کی تفصیلات نے پی ٹی آئی کے اس بیانیے کو شدید نقصان پہنچایا ہے جس کے تحت پی ٹی آئی سے وابستہ حلقوں کی جانب سے ان حملوں کو پاکستان کی مبینہ ’’ریاستی کارروائی‘‘ قرار دیا جا رہا تھا اور حملوں میں فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ملوث ہونے کے الزامات عائد کئے جا رہے تھے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر واقعی کسی ریاستی یا فوجی ادارے کی مداخلت ہوتی تو اس کے شواہد برطانوی پولیس کی تحقیقات میں ضرور سامنے آتے، جو اب تک نہیں آ سکے۔
ملکو کا نک دا کوکا پنجاب حکومت کی پابندی کی زد میں کیوں؟
واضح رہے کہ شہزاد اکبر عمران خان کے دورِ حکومت میں احتساب اور داخلہ امور کے مشیر رہ چکے ہیں جبکہ بھگوڑے میجر عادل راجہ کو نومبر 2023 میں پاکستان میں کورٹ مارشل کے بعد سزا سنائی گئی تھی۔ دونوں اس وقت برطانیہ میں مقیم ہیں اور پاکستان کی جانب سے ان کی حوالگی کی درخواست بھی دی جا چکی ہے، تاہم شہزاد اکبر اور عادل راجہ پر حملوں کی وجہ سے حوالگی کا معاملہ تاحال تاخیر کا شکار ہے۔ تاہم برطانوی عدالت میں سامنے آنے والے حقائق اس تاثر کو تقویت دیتے ہیں کہ لندن میں ہونے والے یہ حملے نہ تو کسی بین الاقوامی سازش کا حصہ تھے اور نہ ہی ان کا پاکستانی ریاست یا فوجی اسٹیبلشمنٹ سے کوئی ثابت شدہ تعلق ہے، بلکہ یہ برطانیہ میں موجود افراد کی جانب سے تشکیل دیا گیا ایک انفرادی اور مجرمانہ منصوبہ تھا۔
