کیا حکومت KP میں گورنر راج کے نفاذ سے پیچھے ہٹ گئی؟

وفاقی حکومت خیبر پختونخوا میں گورنر راج نافذ کرنے کی دھمکی دینے کے بعد اب بظاہر اس مؤقف سے پیچھے ہٹتی دکھائی دے رہی ہے۔ سیاسی مبصرین اسے ایک ایسا سیاسی شوشہ قرار دے رہے ہیں جس کا مقصد سہیل آفریدی کو علی امین گنڈاپور کے نقشِ قدم پر چلنے سے روکنا تھا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق گورنر راج کے نفاذ کی بات تب شدت اختیار کر گئی جب سہیل آفریدی نے اڈیالہ جیل کے باہر احتجاجی دھرنے کا اعلان کیا تھا۔ وفاق نے اس اعلان کے فوری بعد صوبائی حکومت، خصوصاً وزیراعلیٰ پر دباؤ بڑھانے کے لیے گورنر راج کی آپشن کا ذکر چھیڑا تاکہ خیبر پختونخوا کی حکومت اداروں سے تعاون پر آمادہ ہو جائے۔ تاہم سیاسی اور آئینی ماہرین کہتے ہیں کہ یہ دھمکی عملی طور پر کمزور تھی کیونکہ ماضی میں بھی گورنر راج کے نفاذ کے بعد معاملات بہتری کی بجائے ابتری کی طرف گئے۔
آئینی ماہرین کے مطابق وفاق کی جانب سے خیبر پختون خواہ میں گورنر راج کے نفاذ کا امکان برائے نام تھا، کیونکہ آئین کے تحت صوبائی اسمبلی کو زیادہ سے زیادہ 180 دن یعنی چھ ماہ کے لیے غیر فعال رکھا جا سکتا ہے جسکے بعد وہ خود بخود بحال ہو جاتی ہے، اس کے علاوہ وفاقی حکومت کو ابھی تک کوئی ایسی شخصیت بھی دستیاب نہیں جسے چھ ماہ کے لیے گورنر بنا کر سیاسی گرداب میں جھونکا جا سکے اور جو اپنی سیاسی ساکھ کو داؤ پر لگانے پر آمادہ ہو۔ باوجود اس کے بعض تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اگر سہیل آفریدی نے مستقبل میں بھی علی امین گنڈاپور کے طرز پر احتجاجی مہم چلانے کی کوشش کی تو وفاق دوبارہ دو ماہ کے محدود گورنر راج پر غور کر سکتا ہے تاکہ صوبائی حکومت تبدیل کرنے کے پلان کو عملی شکل دی جا سکے۔
اسلام آباد میں باخبر ذرائع کے مطابق گورنر راج نافذ کرنے کے لیے صدرِ پاکستان کو اعتماد میں لینا ضروری ہوتا ہے، لیکن اسی معاملے میں سب سے بڑی رکاوٹ پیپلز پارٹی کی مخالفت ہو سکتی ہے۔ پیپلز پارٹی گورنر راج کو غیر جمہوری سمجھتی ہے، اس لیے یہ سوال اہم ہو جاتا ہے کہ کیا آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو ایسے کسی فیصلے کا ساتھ دینے پر آمادہ ہوں گے۔ تجزیہ کاروں کے خیال میں اگر پیپلز پارٹی اس فیصلے کی حمایت کرتی ہے تو وہ اپنی سیاسی اور جمہوری ساکھ کو نقصان پہنچا سکتی ہے کیونکہ آج خیبر پختونخوا میں گورنر راج لگے گا تو کل یہ سلسلہ کسی اور صوبے تک بھی پہنچ سکتا ہے۔
سیاسی مبصرین سمجھتے ہیں کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا نفاذ وفاق کے لیے آسان نہیں ہوگا کیونکہ اس کے راستے میں آئینی پیچیدگیاں کھڑی ہیں۔ پاکستان کے صوبائی نظام میں وزیراعلیٰ اور صوبائی اسمبلی عوام کے منتخب نمائندے ہوتے ہیں جو انتظامی اختیار رکھتے ہیں، جبکہ گورنر صرف علامتی حیثیت میں وفاق کا نمائندہ ہوتا ہے۔ تاہم گورنر راج کے نفاذ کی صورت میں صوبائی حکومتی اختیار مکمل طور پر گورنر کے پاس آ جاتا ہے اور وزیراعلیٰ سمیت پوری اسمبلی غیر مؤثر ہو جاتی ہے۔
آئینِ پاکستان کے دسویں باب میں موجود آرٹیکلز 232 اور 234 کے تحت گورنر راج یا ایمرجنسی لگانے کا طریقہ کار واضح کیا گیا ہے۔ آرٹیکل 232 اس صورت میں لاگو ہو سکتا ہے جب صدرِ پاکستان سمجھیں کہ ملک یا کسی حصے کو جنگ، بیرونی حملے یا ایسی اندرونی شورش کا سامنا ہے جو صوبائی حکومت کے بس میں نہ ہو۔ اس صورت میں صدر ایمرجنسی کا نفاذ کر سکتے ہیں مگر اگر ایمرجنسی اندرونی حالات کی وجہ سے لگائی جا رہی ہو تو اس کی صوبائی اسمبلی سے توثیق ضروری ہوتی ہے۔ اگر صدر مملکت اپنی صوابدید پر ایمرجنسی نافذ کریں تو انہیں دس دن کے اندر پارلیمان سے منظوری لینا لازمی ہوتا ہے۔ اس صورت میں صوبے کے انتظامی امور اور قانون سازی کا اختیار صوبے سے اٹھ کر وفاقی پارلیمان کو منتقل ہو جاتا ہے۔
آئین کے آرٹیکل 234 کے مطابق اگر صوبائی گورنر صدر کو یہ رپورٹ دے کہ صوبائی حکومت آئینی طریقہ کار کے مطابق کام کرنے سے قاصر ہے تو صدر گورنر راج نافذ کر سکتے ہیں۔ اس صورت میں تمام انتظامی اختیارات صدر کے پاس یا ان کے مقرر کردہ نمائندے یعنی گورنر کو منتقل ہو جاتے ہیں، جبکہ صوبائی اسمبلی کے اختیارات پارلیمان کو منتقل ہو جاتے ہیں۔ تاہم صوبے کی ہائی کورٹ کے اختیارات برقرار رہتے ہیں اور انہیں وفاق یا گورنر کے پاس منتقل نہیں کیا جا سکتا۔ آئین کے مطابق گورنر راج کے نفاذ کی ابتدائی مدت دو ماہ ہوتی ہے، جسے پارلیمان کے مشترکہ اجلاس کی منظوری سے مزید دو ماہ کے لیے بڑھایا جا سکتا ہے، تاہم گورنر راج کی مجموعی مدت چھ ماہ سے زائد نہیں ہو سکتی۔ اگر اس دوران قومی اسمبلی تحلیل ہو جائے تو گورنر راج تین ماہ تک برقرار رہ سکتا ہے جب تک نئی اسمبلی وجود میں نہ آجائے یا سینیٹ اس حوالے سے فیصلہ نہ کر لے۔
اگرچہ آئین کے دسویں باب کی شق 236 کے تحت ایمرجنسی یا گورنر راج سے متعلقہ فیصلے عدالت میں چیلنج نہیں کیے جا سکتے، لیکن معتوف قانونی ماہر احمد بلال محبوب کے مطابق پاکستان میں ماضی میں لگنے والی تقریباً تمام ایمرجنسیوں اور گورنر راج کو عدالتوں میں چیلنج کیا گیا۔ ان کے مطابق اگرچہ آئین کے تحت ان فیصلوں پر براہِ راست سوال نہیں اٹھایا جا سکتا، لیکن یہ ممکن ہے کہ کوئی بھی شہری اپنی بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کے عنوان سے عدالت میں رٹ دائر کر دے۔
احتجاج کا اعلان کر کے خود غائب : کیا آفریدی نے کرسی بچائی
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ ثابت کرتی ہے کہ جب بھی کسی صوبے میں وفاق نے گورنر راج نافذ کیا، اسے شدید تنقید اور سیاسی ردِعمل کا سامنا کرنا پڑا۔ 1988 میں بلوچستان میں گورنر راج ہو یا 1998 اور 2009 میں پنجاب میں ہونے والی صدارتی مداخلت، ہر بار ان فیصلوں نے سیاسی بے چینی میں اضافہ ہی کیا۔ اسی وجہ سے آج بھی وفاق کے لیے یہ قدم اٹھانا نہ صرف سیاسی طور پر خطرناک بلکہ عملی طور پر بھی نہایت مشکل ہے۔
