ایرانی مزاحمت نے ٹرمپ اور نیتن یاہو کو ذہنی مریض بنا دیا؟

 

 

 

ایران پر حملے اور آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایرانی مزاحمت کاروں کی جانب سے داغے جانے والے میزائلوں اور ڈرونز نے نہ صرف خطے میں طاقت کا توازن ہلا کر رکھ دیا ہے بلکہ امریکی صدر ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم کو شدید ذہنی دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے جس کے بعد دونوں نے مذہبی عبادات شروع کر دی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد ایران نے جس شدت اور تسلسل کے ساتھ عسکری ردعمل دیا ہے، اس نے واشنگٹن اور تل ابیب دونوں کے لیے صورتحال غیر متوقع بنا دی ہے ۔

 

معروف اینکر پرسن جاوید چوہدری اپنے تجزیے میں ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ایران کے سخت ردعمل نے عالمی قیادت کی نفسیاتی کیفیت کو بھی متاثر کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صدر ٹرمپ بھی ایک غیر معمولی انداز میں پادریوں سے رجوع کرتے ہوئے مذہب کی طرف جھکتے نظر آ رہے ہیں۔ دوسری طرف اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو بھی روایتی یہودی مذہبی لباس اور سیاہ ٹوپی پہننے لگے ہیں۔ جاوید چوہدری کے مطابق اس صورتحال کو اگر خوف کی سیاست کہا جائے تو غلط نہ ہوگا، کیونکہ بظاہر مذہب کے نام پر دکھائی دینے والی یہ جنگ دراصل خوف اور طاقت کے توازن کی جنگ ہے، مذہب کی نہیں۔

 

سینیئر اینکر پرسن کہتے ہیں کہ چھ مارچ کو وائٹ ہاؤس میں پیش آنے والا ایک واقعہ عالمی میڈیا میں خاصی توجہ کا مرکز بنا۔ امریکی صدر ٹرمپ نے امریکا بھر سے معروف عیسائی پادریوں کو مدعو کیا۔ اوول آفس میں ہونے والی اس تقریب میں ٹرمپ صدارتی کرسی پر بیٹھے رہے جبکہ پادری ان کے پیچھے کھڑے ہو کر ان کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر ایران کے خلاف کامیابی کے لیے دعا کرتے رہے۔ انکا کہنا ہے کہ یہ منظر امریکی سیاست کے لیے غیر معمولی تھا اور اس سے ٹرمپ کی ذہنی کیفیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ بعض امریکی سینیٹرز، جن میں لنڈسے گراہم بھی شامل ہیں، نے یہاں تک کہنا شروع کر دیا کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی دراصل مذہبی جنگ ہے۔ تاہم بیشتر تجزیہ کار اس مؤقف سے اتفاق نہیں کرتے اور اسے طاقت، وسائل اور سیاسی اثر و رسوخ کی لڑائی قرار دیتے ہیں۔

 

جاوید چوہدری کے مطابق امریکی تاریخ میں ایسا منظر اس سے پہلے بھی دیکھنے میں آ چکا ہے۔ امریکا کے سابق صدر رچرڈ نکسن کے دور میں پیش آنے والا مشہور واٹر گیٹ سکینڈل اس کی مثال ہے۔ 1972 میں ڈیموکریٹک پارٹی کے دفتر میں خفیہ آلات نصب کیے جانے کا انکشاف ہوا تو یہ معاملہ امریکی سیاست کا سب سے بڑا سکینڈل بن گیا۔ اس بحران کے عروج پر ایک رات نکسن نے اپنے وزیر خارجہ ہنری کسینجر کو اچانک وائٹ ہاؤس طلب کیا۔ کسینجر جب اوول آفس پہنچے تو نکسن نے دروازہ بند کر کے کہا کہ اگر دونوں مل کر دعا کریں تو شاید خدا ان کے مسائل آسان کر دے۔ اس کے بعد نکسن گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے اور بائبل کی آیات پڑھنے لگے جبکہ کسینجر نے بھی عبرانی زبان میں دعا مانگی۔

 

سینیئر اینکر پرسن کہتے ہیں کہ یہ واقعہ انسانی نفسیات کی ایک بنیادی حقیقت کو ظاہر کرتا ہے۔ جب طاقتور ترین حکمران بھی شدید بحران میں گھر جاتے ہیں تو وہ بالآخر مذہب اور دعا کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جنگوں اور بحرانوں میں حکمران اکثر روحانی سہارا تلاش کرتے رہے ہیں۔ سکندر اعظم اپنی فتوحات کے دوران دیوتاؤں کے نمائندوں کو ساتھ رکھتا تھا۔ چنگیز خان بظاہر کسی ایک مذہب کا پیروکار نہیں تھا مگر جنگوں سے پہلے مختلف مذاہب کے علما سے دعائیں کرواتا تھا۔ اسی طرح تیمور جنگ سے پہلے نماز پڑھتا اور بعد میں بھی عبادت کرتا تھا۔

 

جاوید چوہدری کے مطابق پاکستان کی سیاسی تاریخ میں بھی اس رجحان کی مثالیں ملتی ہیں۔ سابق صدر ایوب خان روحانی شخصیات سے رجوع کرتے رہے، جبکہ سابقہ وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو، میاں نواز شریف، آصف علی زرداری اور عمران خان کے بارے میں بھی مختلف اوقات میں روحانی شخصیات سے تعلق کی خبریں سامنے آتی رہی ہیں۔ ان کے مطابق امریکا اور اسرائیل کو توقع تھی کہ آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایران اندرونی انتشار کا شکار ہو جائے گا اور حالات ان کے حق میں ہو جائیں گے۔ لیکن اس کے برعکس ایران میں قومی یکجہتی پیدا ہو گئی اور مزاحمتی قوتوں نے شدید جوابی کارروائیاں شروع کر دیں۔

کیا ایران کے خلاف جنگ میں امریکہ کو شکست ہونے والی ہے؟

سینیئر اینکر پرسن کا کہنا ہے کہ دوسرے ہفتے میں داخل ہو جانے والی جنگ کے دوران ایران کی جوابی کارروائی نے نہ صرف عسکری دباؤ بڑھایا ہے بلکہ سیاسی اور نفسیاتی سطح پر بھی واشنگٹن اور تل ابیب کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اسی تناظر میں صدر ٹرمپ کا پادریوں کو بلانا اور دعا کروانا محض مذہبی سرگرمی نہیں بلکہ ایک سیاسی اور نفسیاتی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ صورتحال کو گہرائی سے دیکھا جائے تو یہ واضح ہو جاتا ہے کہ یہ جنگ دراصل وسائل، طاقت اور اثر و رسوخ کی جنگ ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں تیل اور گیس کے وسیع ذخائر عالمی طاقتوں کے لیے ہمیشہ کشش کا مرکز رہے ہیں۔

 

جاوید چوہدری کے مطابق موجودہ تنازع کو مذہبی جنگ کہنا حقیقت سے زیادہ سیاسی بیانیہ ہے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ جب طاقتور ترین رہنما بھی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہوتے ہیں تو وہ مذہب میں پناہ تلاش کرتے ہیں۔ یوں موجودہ منظرنامہ ظاہر کرتا ہے کہ عالمی سیاست میں طاقت کے کھیل کے پیچھے کبھی کبھی خوف کا عنصر بھی اتنا ہی طاقت ور ہوتا ہے جتنا کہ ہتھیار اور فوجی قوت۔

 

Back to top button