کیا شہباز حکومت نے پاکستان کو معاشی تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا؟

جیو ٹی وی کے معروف اینکر پرسن سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ عمران خان کو وزیراعظم بنوانے والی اسٹیبلشمنٹ نے ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد اس لیے کامیاب ہونے دی تھی کہ ملک معاشی دیوالیہ پن کے دہانے پر آن کھڑا ہوا تھا، لیکن افسوس کی بات ہے کہ آج تین برس بعد وزیراعظم شہباز شریف کی زیر قیادت پاکستان ایک مرتبہ پھر معاشی تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔
روزنامہ جنگ کے لیے اپنے سیاسی تجزیے میں سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ پاکستان کی موجودہ صورتحال ایک گہرے تضاد کی عکاس ہے۔ ایک طرف پاکستان سفارتی اور دفاعی سطح پر دنیا میں اپنی حیثیت منوا چکا ہے جبکہ دوسری طرف معاشی حالات مسلسل ابتری کا شکار ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں ملک کو سب سے بڑا چیلنج مضبوط معیشت کی بحالی ہے کیونکہ قومی وقار اور دفاعی طاقت کو برقرار رکھنے کے لیے معاشی استحکام ناگزیر ہوتا ہے۔
سہیل وڑائچ کے مطابق نون لیگ کو دوبارہ اقتدار ملنے کی سب سے بڑی وجہ یہی تھی کہ عمران دور میں پاکستانی معیشت ڈیفالٹ کے دہانے تک پہنچ چکی تھی۔ فوجی حلقوں کا یہ خیال تھا کہ مسلم لیگ (ن) ماضی میں ایسی معاشی پالیسیاں بناتی رہی ہے جن سے ملک کی معیشت بہتر ہوتی رہی، اسی تصور کے تحت نون لیگ کو دوبارہ اقتدار دیا گیا تاکہ وہ معیشت کو ماضی کی طرح پٹڑی پر چڑھا سکے۔
وہ کہتے ہیں کہ حکومت نے معیشت کو کسی حد تک مستحکم کیا اور ڈالر کے ریٹ کو بھی قابو میں رکھا، تاہم نہ قرضے لینے کا سلسلہ بند ہوا اور نہ ہی ایسا کوئی بڑا معاشی قدم اٹھایا گیا جس سے معیشت تیزی سے آگے بڑھنے لگتی۔ ان کے بقول پاکستان کی معیشت اس وقت بھی آکسیجن ٹینٹ میں ہے۔
فوجی قیادت کی جانب سے توقع کی جا رہی تھی کہ نواز شریف، شہباز شریف اور اسحاق ڈار پر مشتمل معاشی ٹیم معیشت کو دوبارہ کھڑا کر دے گی مگر تاحال اس میں مکمل کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔ سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ حکومت کے عالمی دورے اور مختلف معاہدوں کے باوجود عام آدمی کی زندگی میں بہتری نظر نہیں آ رہی۔ پاکستان مسلسل قرضوں پر قرضے لے رہا ہے اور آئی ایم ایف کی سخت شرائط سکڑتی معیشت کے لیے ایک بھاری بوجھ بن چکی ہیں۔ ملک کی آدھی سے زیادہ صنعتیں بند پڑی ہیں جبکہ تیل اور بجلی کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔ تین سال کی مسلسل کوششوں کے باوجود بیرون ملک سے بڑی سرمایہ کاری آنے کا کوئی واضح امکان نظر نہیں آ رہا۔
ان کے مطابق بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے اور ملازمت پیشہ طبقے پر ٹیکسوں کا بوجھ اس قدر بڑھ چکا ہے کہ ان کی حقیقی آمدنی تقریباً دس سال پہلے کی سطح تک محدود ہو گئی ہے۔ تعمیراتی شعبہ جسے بیس سے زائد صنعتوں کا انجن سمجھا جاتا ہے بھاری ٹیکسوں کے باعث سرمایہ کاروں کے لیے غیر پرکشش ہو چکا ہے۔ کئی صنعت کار اپنا کاروبار بیرون ملک منتقل کر رہے ہیں جبکہ پاکستانی نوجوان بھی اپنا مستقبل دوسرے ممالک میں تلاش کر رہے ہیں۔ ان کے بقول مجموعی طور پر معیشت نے معاشرے کے ہر طبقے کو متاثر کر رکھا ہے۔
سہیل وڑائچ کے مطابق موجودہ صورتحال میں وزیر اعظم شہباز شریف کے لیے فیصلہ کن لمحہ آ پہنچا ہے کہ وہ اپنی کاروباری تربیت اور انتظامی تجربے کو بروئے کار لاتے ہوئے معیشت کو ایک بڑا معاشی انجکشن دیں تاکہ رکا ہوا معاشی نظام دوبارہ چل پڑے۔ وہ کہتے ہیں کہ شہباز شریف اس کام کے لیے موزوں شخصیت ہیں کیونکہ انہوں نے اپنے والد میاں محمد شریف سے صنعت اور مینجمنٹ کی تربیت حاصل کی اور اتفاق گروپ اور شریف گروپ جیسے کاروباری اداروں کو برسوں تک سنبھالتے رہے۔ اس تجربے کی بنیاد پر وہ معاشی نفع و نقصان کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔
سہیل وڑائچ نشاندہی کرتے ہیں کہ موجودہ وقت میں پاکستان سفارتی اور دفاعی لحاظ سے نمایاں مقام حاصل کر چکا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں پاکستان فیصلہ کن مرحلے پر کھڑا ہے جبکہ عالمی سطح پر اس کی دفاعی صلاحیتوں کا اعتراف بھی کیا جا رہا ہے۔ بھارت کے حملوں کا مؤثر جواب دینے کے بعد پاکستان کے مضبوط دفاع کی دھاک دوستوں اور دشمنوں دونوں پر بیٹھ چکی ہے۔ ان کے مطابق عالمی رہنما بھی پاکستان کی دفاعی حکمت عملی کی تعریف کرتے نظر آتے ہیں اور اسی پس منظر میں سعودی عرب نے پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدہ کیا کیونکہ اسے یقین ہے کہ پاکستان عالم اسلام کا وہ ملک ہے جو حرمین شریفین کے دفاع کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ پاکستان نے ایران کے ساتھ اپنے برادرانہ تعلقات کو بھی متاثر نہیں ہونے دیا جبکہ چین اور امریکہ کے ساتھ تعلقات کو متوازن رکھنا بھی کامیاب سفارت کاری کی ایک مثال ہے۔
سہیل وڑائچ کے مطابق اگرچہ پاکستان کے امریکہ سے اچھے تعلقات ہیں لیکن آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے قرضوں کے علاوہ کوئی بڑا معاشی معاہدہ یا دفاعی امداد سامنے نہیں آئی۔ وہ مثال دیتے ہیں کہ جس طرح سعودی عرب اور امریکہ نے مصر کو اربوں ڈالر کی امداد اور قرضوں میں ریلیف فراہم کیا تھا ویسی کوئی خوشخبری پاکستان کے لیے ابھی تک سامنے نہیں آئی۔
اسی طرح چین کے ساتھ جاری منصوبے بھی توقعات کے مطابق رفتار نہیں پکڑ سکے۔ ان کے بقول سڑکوں کے جال اور معاشی انقلاب کے جو خواب دیکھے گئے تھے وہ مکمل طور پر پورے نہیں ہو سکے اور کئی منصوبے سست رفتاری کا شکار ہیں۔ خلیجی ممالک کے متعدد دوروں کے باوجود ان سے حاصل ہونے والے معاشی فوائد بھی ابھی تک واضح نہیں ہو سکے۔
سہیل وڑائچ کے بقول تاریخ یہ سبق دیتی ہے کہ مضبوط دفاع کے لیے مضبوط معیشت لازمی ہوتی ہے۔ وہ سوویت یونین کی مثال دیتے ہیں جو سینکڑوں ایٹمی ہتھیاروں کے باوجود معاشی تباہی کے باعث ٹوٹ کر بکھر گیا تھا۔ ان کے مطابق جدید دفاعی صلاحیتوں اور فوج کی تیاری کے لیے بھاری مالی وسائل درکار ہوتے ہیں، اس لیے پاکستان کے دفاعی وقار کو برقرار رکھنے کے لیے معاشی استحکام ناگزیر ہے۔
تجزیہ کار کے مطابق امریکہ۔ایران کشیدگی کے بعد خطے میں پاکستان کو جو سفارتی اور دفاعی اہمیت حاصل ہوئی ہے اگر اس موقع سے معاشی فائدہ نہ اٹھایا جا سکا تو یہ ایک بڑا موقع ضائع ہونے کے مترادف ہوگا۔ وہ لکھتے ہیں کہ شہباز حکومت کو دو سال گزر چکے ہیں اور اگر پی ڈی ایم کے دور کو شامل کیا جائے تو یہ مدت تین سال سے زیادہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق اب وہ مرحلہ آ چکا ہے جب معیشت میں واضح بہتری نظر آنی چاہیے کیونکہ عوام مسلسل قربانیاں دیتے دیتے تھک چکے ہیں۔
دھمکیوں کے باوجود ایم کیو ایم اسی تنخواہ پر نوکری کرے گی
سہیل وڑائچ کے مطابق اگر تو مسلسل مہنگائی کی چکی میں پسنے والے عوام کو معاشی ریلیف ملتا ہے تو شہباز شریف کی اتحادی حکومت کو کامیاب سمجھا جائے گا، بصورت دیگر اسے بھی عمران خان کی طرح ایک ناکام حکومت قرار دیا جائے گا۔
