کیا کالے جادو کا سسٹم عمران کی مرضی کے بغیر چلتا تھا؟

معروف تجزیہ کار عمار مسعود نے کہا ہے کہ برطانوی جریدے اکانومسٹ نے عمران خان کے دورِ حکومت کا جو نقشہ پیش کیا ہے، وہ صرف ایک فرد کی کہانی نہیں بلکہ پوری حکومتی سوچ، سیاسی انداز اور ریاستی رویے کی عکاسی کرتا ہے۔ لیکن اس کالے جادو کے سارے سسٹم کا بینیفیشری صرف ایک شخص تھا جس کا نام عمران خان ہے۔

انہوں نے یاد دلایا کہ اکانومسٹ کے مطابق عمران خان دور میں تمام بڑے فیصلوں کی بنیاد وہ روحانی اشارے تھے جو سابق خاتونِ اول بشریٰ بی بی تک کبھی مراقبے، کبھی چِلّوں اور کبھی کسی غیر مرئی قوت کے ذریعے پہنچائے جاتے تھے۔ یعنی عمران خان دور میں ریاستی اور حکومتی فیصلے عقل کی بجائے تعویز اور چِلّوں کے ذریعے ہوتے تھے۔ عمار کے مطابق برطانوی جریدے کی رپورٹ واضح کرتی ہے کہ خان دور حکومت میں حکومتی ڈھانچے میں مشاورت، قانون یا ریاستی نظام پسِ پشت چلے گئے تھے۔

اسکے برعکس اہم ترین فیصلوں کا مدار تعویزوں، کالے بکروں کے صدقے، چِلّوں، کالے جادو، بھوت پریت، جنات اور گھڑے میں پرچیاں ڈال کر نام منتخب کرنے جیسے غیر معمولی ذرائع پر رہا۔
ان کا کہنا ہے کہ کچھ حلقے اس تمام ناکامی کا بوجھ کسی ایک فرد پر ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں، مگر تصویر مکمل طور پر واضح ہے: “نہ کوئی یکسر معصوم تھا اور نہ یکسر ناتجربہ کار۔ یہ مکمل طور پر ایک مشترکہ بندوبست تھا جس میں ہر کردار اپنا حصہ ڈال رہا تھا۔ غیر مرئی قوتوں کا حوالہ صرف وہ پردہ تھا جس کے پیچھے سیاسی اختیار چھپایا گیا۔’’

عمار مسعود کے مطابق پنجاب کے وزیراعلیٰ کے طور پر عثمان بزدار کی تقرری، اہم انتظامی تعیناتیاں، بیوروکریسی کی تبدیلیاں اور سیاسی حکمتِ عملی، سبھی کے بارے میں یہ تاثر دیا گیا کہ ان کے پیچھے وہ سرگوشیاں تھیں جو دنیا سے زیادہ کسی اَن دیکھی دنیا سے آتی تھیں۔ کہیں کالے جادو کے ذریعے دشمنوں کو ’’بھسم‘‘ کرنے کی بات کی جاتی تھی، کہیں صدقے کے لیے کالے بکرے کا انتظام کیا جاتا، کبھی چِلّوں میں سنی گئی ہدایات اہم فیصلوں کا رخ طے کرتی تھیں، اور کئی جگہ گھڑے میں ڈالی گئی پرچیاں نام منتخب کرتی دکھائی دیتی تھیں۔

لیکن عمار مسعود نے اہم سوال اٹھایا ہے کہ کیا بطور وزیراعظم عمران خان ان سرگرمیوں سے لاعلم تھے؟ یا وہ اس پورے ماحول کو اپنے سیاسی مفاد کے لیے استعمال کرتے رہے؟ ان کے مطابق عمران خان کی سیاسی شخصیت ہمیشہ اپنی سیاسی حکمتِ عملی اور مفاد کو مقدم رکھنے پر قائم رہی ہے، اس لیے یہ ماننا مشکل ہے کہ وہ اپنی ہی حکومت میں تعویذ، چِلّوں اور ’’غیبی اشاروں‘‘ کے بڑھتے ہوئے اثر سے بے خبر ہوں۔ ان کے مطابق وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والی کوئی سرگرمی اس وقت تک وزن نہیں رکھتی جب تک حکمران خود اسے اہمیت نہ دے۔ اگر یہ سرگرمیاں بشریٰ بی بی کے اردگرد ہو رہی تھیں تو عمران خان کی خاموشی اس بات کا ثبوت ہے کہ فائدہ انہی کے حصے میں آ رہا تھا۔

عثمان بزدار کی بطور وزیراعلیٰ پنجاب تقرری کو عمار مسعود نے اسی پس منظر میں دیکھا ہے۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ ایک سیاسی معمہ تھا، جسے جب روحانی مشوروں یا جنات کے اشاروں سے جوڑا گیا تو گویا عمران خان کی ذمہ داری کو کم ظاہر کرنے کا جواز نکالا گیا۔ مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ پنجاب میں ایک کمزور وزیر اعلیٰ ایک طاقتور وزیر اعظم کو ہمیشہ سوٹ کرتا ہے۔ چاہے فیصلہ کسی مراقبے میں ملا ہو یا گھڑے کی پرچی میں، ’’آخری فیصلہ عمران خان نے ہی کیا اور اس سے سب سے زیادہ سیاسی فائدہ بھی انہی کو ہوا۔‘‘

عمار مسعود کے مطابق اگر سرکاری افسران کی تبدیلی، تعیناتیاں یا انتظامی فیصلے تعویز، صدقے یا چِلّوں کی بنیاد پر ہو رہے تھے تو یہ تبدیلی ہی ممکن تھا جب حکمران پورے نظام کو روکنے کے بجائے اسے جاری رکھے۔ عمار مسعود کا کہنا ہے کہ ”اگر کسی چِلّے کے دوران ملنے والی ہدایت پر کوئی افسر تبدیل ہو رہا تھا، تو عمران خان اس سے غافل نہیں ہو سکتے تھے اور اگر غافل تھے تو یہ معاملہ اور بھی سنگین ہے۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ اگر ایجنسیاں واقعی بشریٰ بی بی کے ذریعے وزیراعظم تک پیغامات پہنچاتی تھیں، تو یہ سب عمران خان کے علم اور اجازت کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ ’’ایسا نہیں ہو سکتا کہ وزیراعظم کی شریکِ حیات تک حساس نوعیت کے پیغامات پہنچ رہے ہوں اور وزیراعظم لاعلم رہیں۔‘‘

عمار مسعود نے اپنی تحریر کے اختتام پر واضح کیا کہ اس پورے معاملے میں کوئی بھی کردار مکمل طور پر بے قصور نہیں تھا۔ نہ تعویز کرنے والے معصوم تھے، نہ وہ حلقے جنہوں نے روحانی مشورے دیے، اور نہ وہ حکمران جو ان اشاروں کو اپنے سیاسی فائدے کے لیے استعمال کرتے رہے۔ ان کے مطابق جنات، کالے بکرے، چِلّے اور گھڑے کی پرچیاں تو چلتی رہیں، مگر سیاسی فائدہ ہمیشہ ایک ہی شخص کے ہاتھ میں آ کر ٹھہرتا تھا اور وہ شخص عمران خان تھا۔ یعنی کالے جادو کے سارے سسٹم کا بینیفیشری صرف ایک شخص تھا جس کا نام عمران خان ہے۔

Back to top button