ڈیجیٹل کرنسی سے پاکستان کا FATF کی گرے لسٹ میں جانے کا خطرہ

 

 

 

ملکی معیشت کے لیے نجات دہندہ اور گیم چینجر قرار پانے والی ڈیجیٹل کرنسی نے پاکستان کیلئےخطرے کی گھنٹی بجا دی۔پاکستان پر ایک بار پھر ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں جانے کے حوالے سے بادل منڈلانے لگے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے خبردار کیا ہے کہ اگر ڈیجیٹل کرنسی اور ورچوئل اثاثوں کے غیر قانونی لین دین کو مؤثر انداز میں کنٹرول نہ کیا گیا تو پاکستان دوبارہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس یعنی ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں جا سکتا ہے۔

 

خیال رہے کہ پاکستان کو 2018 میں ایف اے ٹی ایف نے منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے میں ناکامی پر گرے لسٹ میں شامل کیا گیا تھا۔ چار سال کی سخت نگرانی، قانونی ترامیم اور انسداد منی لانڈرنگ اقدامات کے بعد اکتوبر 2022 میں پاکستان اس فہرست سے نکلنے میں کامیاب ہوا۔ تاہم اب ایک بار پھر پاکستان کے اس لسٹ میں دوباہ جانے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ وزیر خزانہ کا بیان ظاہر کرتا ہے کہ کرپٹو کرنسی اور ڈیجیٹل اثاثوں کا غیر منظم لین دین پاکستان کیلئے نئی مشکلات کھڑی کر سکتا ہے۔

 

وفاقی وزیر خزانہ کی جانب سے یہ انتباہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے کہ جب پاکستان میں ڈیجیٹل کرنسی کے شعبے کے لیے کرپٹو کونسل اور ورچوئل ایسٹ اتھارٹی قائم کیے جا چکے ہیں۔ پاکستان کرپٹو کونسل کے سربراہ بلال بن ثاقب کے مطابق ملک میں قریب دو کروڑ افراد کرپٹو کرنسی میں لین دین کرتے ہیں۔اگرچہ ملک میں کرپٹو تجارت کے لیے صدارتی آرڈیننس کے ذریعے نئی اتھارٹی قائم کی گئی ہے مگر اسے مستقل قانونی تحفظ دینے کے لیے پارلیمان سے قانون سازی درکار ہے۔حکومت نے ورچوئل ایسٹ اتھارٹی اور کرپٹو کونسل قائم کر کے ریگولیشن کی کوشش شروع کی ہے لیکن یہ اقدامات صدارتی آرڈیننس تک محدود ہیں۔ مستقل قانونی ڈھانچے کے لیے پارلیمان کی منظوری ناگزیر ہے۔ماہرین کے مطابق اگر اس شعبے کو مکمل قانونی تحفظ نہ ملا تو پاکستان عالمی ریگولیٹرز کے معیار پر پورا نہیں اتر سکے گا۔ یہی وجہ ہے کہ وزیر خزانہ نے "ڈیجیٹل لین دین میں زیادہ شفافیت” پر زور دیا ہے تاکہ مشکوک ٹرانزیکشنز کو روکا جا سکے۔

 

واضح رہے کہ ایف اے ٹی ایف کی اپریل 2025 کی رپورٹ کے مطابق دنیا کے 138 ممالک میں سے صرف 40 ممالک نے کرپٹو کرنسی کے حوالے سے معیاری ریگولیشنز نافذ کی ہیں۔ ان میں بھی صرف بہاماس واحد ملک ہے جو مکمل طور پر ایف اے ٹی ایف کے تقاضوں پر پورا اترا جبکہ باقی ممالک ڈیجیٹل کرنسی کے حوالے سے ابھی تک عمل درآمد کے مراحل میں ہیں۔ پاکستان کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل کرنسی بارے حکومت کے اقدامات غیر واضح اور سست روی کا شکار ہیں۔ ایک طرف دعویٰ کیا جاتا ہے کہ پاکستان کرپٹو کرنسی میں عالمی لیڈر بن سکتا ہے، دوسری جانب بنیادی تقاضے جیسے خطرے پر مبنی فریم ورک، لائسنسنگ، صارفین کے تحفظ اور عالمی تعاون ابھی تک مؤثر انداز میں موجود نہیں۔

 

تاہم بعض ماہرین ڈیجیٹل کرنسی بارے وزیر خزانہ کے بیان کو "غیر ذمہ دارانہ” قرار دیتے ہیں ان کا ماننا ہے کہ اس طرح کے خدشات سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متزلزل کرتے ہیں۔ جب تک جامع قانون سازی اور سخت ریگولیٹری نظام نافذ نہیں ہوتا، یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ پاکستان دوبارہ گرے لسٹ میں جائے گا یا نہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ وزیر خزانہ کے خدشے کی ایک بڑی وجہ آئی ایم ایف کی حالیہ رپورٹ کو قرار دیا، جس میں پاکستان کے انسداد منی لانڈرنگ اقدامات میں خامیوں کی نشاندہی کی گئی تھی۔ماہرین کے بقول  پاکستان میں ورچوئل اثاثہ جات آرڈیننس 2025 کے نفاذ کے بعد ملک میں باضابطہ طور پر کرپٹو کرنسی کے لیے ریگولیشنز متعارف کرا دیے گئے ہیں اور لائسنس کے تقاضے بھی واضح کر دیے گئے ہیں۔تاہم انھوں نے تسلیم کیا کہ کرپٹو ریگولیشن کے تمام پہلوؤں کو جامع انداز میں حل کرنے کے لیے اہم قوانین میں اب بھی ترامیم درکار ہیں۔پاکستان میں کرپٹو کرنسی کے ریگولیٹری نظام کے تاحال نہ ہونے کے بعد اس کے ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں دوبارہ جانے کے خدشات کے بارے میں ان کا کہنا تھا اس سوال کا جواب دینا ابھی قبل از وقت ہے، کیونکہ اس کا انحصار اس بات پر ہو گا کہ ڈیجیٹل کرنسی بارے پاکستان کا حتمی قانونی فریم ورک کتنا مؤثر ثابت ہوتا ہے۔ اس لیے یہ دعویٰ کہ ملک دوبارہ ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں جا رہا ہے، محض قیاس آرائی ہے۔’

 

ماہرین کے مطابق پاکستان نے ورچوئل اثاثہ جات آرڈیننس 2025 نافذ کر کے ابتدائی قدم ضرور اٹھایا ہے، مگر یہ واضح ہے کہ مکمل کامیابی کے لیے مزید قانون سازی، سخت لائسنسنگ، اینٹی منی لانڈرنگ نظام اور عالمی ریگولیٹرز کے ساتھ قریبی تعاون ناگزیر ہے۔ بصورت دیگر، غیر قانونی لین دین کا پھیلاؤ پاکستان کو ایک بار پھر عالمی دباؤ کا شکار بنا سکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے بقول وزیر خزانہ کا انتباہ محض ایک سیاسی بیان نہیں بلکہ حقیقت میں اس خطرے کی طرف اشارہ ہے جس سے پاکستان مستقبل قریب میں دوچار ہو سکتا ہے۔ اگرچہ فی الحال یہ کہنا مشکل ہے کہ پاکستان دوبارہ ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں شامل ہوگا یا نہیں، لیکن اس بات میں شک نہیں کہ ڈیجیٹل کرنسی بارے ریگولیٹری کمزوریوں کو دور کرتے ہوئےڈیجیٹل اثاثوں کو شفاف قانونی دائرے میں لایا گیا تو پاکستان کسی بڑی مشکل میں پھنس سکتا ہے۔

 

 

 

Back to top button