احتجاج کا اعلان کر کے خود غائب : کیا آفریدی نے کرسی بچائی

اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی کال دے کر خود غائب ہو جانے والے خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی بھی اپنے پیشرو علی امین گنڈاپور کی طرح اپنا اقتدار بچانے کے لیے طاقتور فیصلہ سازوں کے ساتھ مفاہمت کی راہ اپنانا شروع کر دی ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق خیبر پختون خواہ میں گورنر راج کے نفاذ کی دھمکی کے بعد وزیراعلیٰ کا اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج میں شریک نہ ہونا واضح کرتا ہے کہ وہ وزارتِ اعلیٰ سے محروم ہونے کی بجائے پسپائی اختیار کرنا زیادہ موزوں سمجھتے ہیں، یاد رہے کہ سہیل آفریدی کی جانب سے منگل کو جیل کے باہر احتجاج کے اعلان کے فوراً بعد وفاقی حکومت نے صوبے میں گورنر راج کے نفاذ کا عندیہ دیا تھا، چنانچہ وزیراعلیٰ نے اپنا موقف تبدیل کرتے ہوئے اس احتجاج سے فاصلہ اختیار کر لیا۔ تاہم پی ٹی آئی کارکنان کی ایک بڑی تعداد ان کی اس دوغلی حرکت پر سخت برہم دکھائی دیتی ہے۔ پارٹی کے کارکن سوشل میڈیا پر یہ مؤقف اختیار کیے ہوئے ہیں کہ اگر وزیراعلیٰ نے اسی طرح کے فیصلے کرنے تھے تو علی امین گنڈاپور ان سے کہیں بہتر حکمت عملی رکھتے تھے۔
ادھر وفاقی حکومت نے بھی خود پر بڑھتا ہوا دباؤ کم کرنے کے لیے منگل کو ہی ایک اہم پیش قدمی کی اور عمران کی بہن عظمیٰ خان کی اپنے بھائی سے ملاقات کروادی، ملاقات کے بعد عظمی نے تصدیق کی کہ بانی پی ٹی آئی خیریت سے ہیں اور مکمل صحت مند ہیں۔ یہ ملاقات سوشل میڈیا پر عمران خان کی صحت بارے پھیلنے والی افواہوں کے خاتمے کا باعث بنی ہے کیونکہ پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا بریگیڈ اور بھارتی میڈیا نے تو یہ دعوی کر دیا تھا کہ خان صاحب دوران حراست گزر چکے ہیں۔
یاد رہے کہ سہیل آفریدی نے چند روز قبل اڈیالہ جیل کے باہر دھرنا دیا تھا اور پھر اسلام آباد ہائی کورٹ جا کر چیف جسٹس سے ملاقات کی کوشش کی تھی جو ناکام رہی۔ اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے منگل کے روز عمران خان سے جیل ملاقات کے لیے دوبارہ جیل کے باہر دھرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس اعلان کے بعد اڈیالہ جیل کے اطراف رکاوٹیں کھڑی کر دی گئیں اور پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی، تاہم جب وقت آیا تو پتہ چلا کہ احتجاج کا اعلان کرنے والے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی خود موقع پر موجود نہیں تھے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق سہیل آفریدی کا احتجاج میں شریک نہ ہونا ایک سوچی سمجھی حکمت عملی تھی تاکہ وفاقی حکومت کو خیبر پختونخوا میں گورنر راج نافذ کرنے کا کوئی بہانہ نہ مل سکے۔ لیکن صوبائی وزیر شفیع جان نے اس معاملے پر سرکاری موقف دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ پشاور میں ہونے کے باعث احتجاج میں شرکت نہیں کر سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلی نے اپنے صوبے کے معاملات بھی چلانا ہوتے ہیں اور ویسے بھی انکی عمران خان سے ملاقات جمعرات کے روز طے ہے۔ تاہم انہوں نے اس سوال کا جواب نہیں دیا کہ اگر وزیراعلیٰ خود احتجاج پر نہیں آ سکتے تھے تو پھر انہوں نے منگل کے روز احتجاج کی کال کیوں دی تھی۔
سوشل میڈیا پر یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ احتجاج کی کال دینے والا سب سے اہم شخص خود غیر حاضر ہو تو کارکنان کس بنیاد پر سڑکوں پر نکلیں گے؟ ایک صارف نے لکھا کہ سہیل آفریدی نے علیمہ خانم کے ساتھ اڈیالہ نہ جانے کا فیصلہ کر کے سراسر غلطی کی۔ عوام کو منگل کو بلایا اور خود غائب ہو کر یہ بہانہ بنایا کہ ان کی ملاقات تو جمعرات کو ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ نے ایک بار پھر احتجاج کی ناکام کال دے کر تحریک انصاف کی رہی سہی سیاسی ساکھ کو بھی تباہ کر دیا یے۔
دوسری جانب عمران خان کی اپنی بہن سے ملاقات ہو جانے کے بعد اب ان کی صحت سے متعلق پھیلنے والی افواہیں دم توڑ گئی ہیں۔ سینئر صحافی حامد میر کے پروگرام کیپیٹل ٹاک میں پی ٹی آئی کے سینیٹر بیرسٹر علی ظفر نے دعویٰ کیا کہ عظمیٰ خان نے ملاقات کے بعد صحافیوں کے ساتھ سیاسی گفتگو سے گریز اسی لیے کیا کیونکہ عدالت نے ملاقات کی اجازت اسی شرط پر دی تھی کہ وہ سیاسی بیانات نہیں دیں گی۔ ان کے مطابق عمران خان کی جیل ملاقاتوں پر پابندی بھی اسی وجہ سے لگائی گئی تھی کہ ایسی ملاقاتوں کے بعد جیل کے باہر موجود میڈیا کو عمران خان کے سیاسی عزائم کے بارے میں آگاہ کیا جاتا تھا۔
عمران بارے PTI اور بھارتی میڈیا کا پروپیگنڈا بے نقاب
یاد رہے کہ گزشتہ کئی دنوں سے عمران خان کی صحت اور حتیٰ کہ انتقال سے متعلق جھوٹی خبریں سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر پھیلائی گئی تھیں، اس صورتحال پر عمران خان کے اہلِ خانہ نے شدید تشویش کا اظہار کیا تھا اور ان کے بیٹے قاسم خان نے خدشہ ظاہر کیا کہ حکام ان کے والد کے حوالے سے کسی ناقابلِ تلافی امر کو چھپا رہے ہیں۔
خیال رہے کہ عمران خان اگست 2023 سے جیل میں ہیں۔ انہیں مختلف مقدمات میں سزائیں سنائی جا چکی ہیں جنہیں وہ 2022 میں اپنی برطرفی کے بعد سیاسی انتقام قرار دیتے ہیں۔ ان کی پہلی سزا توشہ خانہ کیس میں سنائی گئی، جبکہ سائفر کیس میں 10 سال اور القادر ٹرسٹ کیس میں 14 سال قید کی سزائیں بھی شامل ہیں۔
