ناراض امیدواروں کی ضد برقرار، پی ٹی آئی کی سیاسی حکمت عملی تبدیل ہونے کا امکان

تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے فیصلہ کیا ہے کہ اگر ناراض امیدواروں نے سینیٹ انتخابات کے لیے جمع کرائے گئے کاغذات نامزدگی واپس نہ لیے، تو پارٹی اپوزیشن کے خلاف براہِ راست انتخابی میدان میں اترے گی۔ ذرائع کے مطابق اس صورت میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سینیٹ کی 5 یا 6 نشستوں پر طے شدہ بلامقابلہ انتخاب کا معاہدہ بھی ختم ہو جائے گا۔

ذرائع کے مطابق ناراض امیدواروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اتوار سے قبل اپنے کاغذات نامزدگی واپس لے لیں، بصورت دیگر ان کے خلاف پارٹی کی جانب سے کارروائی کا امکان ہے۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ ناراض امیدواروں کو منانے کے لیے دو ملاقاتیں کی گئیں، جن میں سے ایک وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کی زیرِ صدارت ہوئی، جبکہ دوسری ویڈیو کال پر رکھی گئی، جس میں ناراض امیدوار شریک نہیں ہوئے۔ ناراضگی برقرار رہنے پر معاملہ پارٹی کی پولیٹیکل کمیٹی کو سونپ دیا گیا۔

پارلیمانی فیصلوں کی توثیق

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ پولیٹیکل کمیٹی نے پارٹی کے بانی چیئرمین کی جانب سے نامزد امیدواروں کو سینیٹ کی 6 نشستیں دینے کے فیصلے کی توثیق کر دی ہے، ساتھ ہی بلامقابلہ انتخابات کے لیے حکومتی حکمت عملی کی بھی حمایت کی گئی ہے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ باقی امیدوار بھی پارٹی پالیسی کا احترام کریں گے۔ اگر کسی نے کاغذات واپس نہ لیے تو پولیٹیکل کمیٹی دوبارہ اجلاس بلا کر مستقبل کا لائحہ عمل طے کرے گی۔

اس معاملے پر پی ٹی آئی کے ناراض امیدوار عرفان سلیم نے کہا ہے کہ وہ کاغذات نامزدگی واپس لینے سے متعلق پارٹی کی پولیٹیکل کمیٹی کے فیصلے پر کارکنان سے مشاورت کے بعد حتمی فیصلہ کریں گے۔

Back to top button