مردان ڈرون حملے میں ہلاکتوں پر وفاق اور KPK حکومت میں تنازعہ

خیبر پختونخوا کے ضلع مردان کی تحصیل کاٹلنگ کے علاقے بابزئی کے پہاڑوں میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے ایک ڈرون حملے میں دہشت گردوں کی ہلاکت کے بعد وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے مابین تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے۔ وفاق کا دعوی ہے کہ مارے جانے والے افراد دہشت گرد تھے جو حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے جبکہ خیبر پختون خواہ حکومت کا کہنا ہے کہ اس ڈرون حملے میں سویلینز مارے گئے۔
وزیر اعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور اور مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما رانا ثنا اللہ نے دعوی کیا ہے کہ مردان کے علاقے کاٹلنگ میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن میں ’انہی دہستگردوں کی ہلاکتیں ہوئیں جو کہ ڈرون حملے کا ٹارگٹ تھے۔ لیکن انکا کہنا تھا کہ اگر شدت پسند اپنے بیوی بچوں کو بطور ڈھال اپنے ساتھ رکھیں گے تو پھر وہ بھی جوابی کاروائی کی زد میں آئیں گے۔ خیبر پختونخوا کی حکومت کے ترجمان بیرسٹر سیف نے ڈرون حملے میں خواتین اور بچوں سمیت عام شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ کاٹلنگ میں عسکریت پسندوں کی موجودگی کی مصدقہ اطلاعات پر ایک انسداد دہشت گردی آپریشن کیا گیا، لیکن بعدازاں ملنے والی معلومات کے مطابق ڈرون حملے کے مقام کے اطراف میں بعض غیر مسلح خواتین اور بچے بھی موجود تھے جن کی ہلاکتوں کا افسوس ہے۔
تاہم بیرسٹر سیف نے ہلاک ہونے والے عام سویلینز کی تعداد اور ان کی شناخت نہیں بتائی۔ پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے بھی اس کارروائی کے بارے میں کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔ لیکن کاٹلنگ کے سرکاری ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹینڈنٹ نے بتایا کہ ’لاشوں میں دو خواتین اور ایک نو عمر لڑکے سمیت سات مرد شامل ہیں جنھیں بظاہر دھماکے سے زخم آئے تھے آئی تھی اور ان کے جسم بھی جھلسے ہوئے تھے۔ اس ڈرون حملے کے بعد مقامی افراد نے ہلاک ہونے والوں کی لاشیں سوات ایکسپریس ہائی وے پر رکھ کر احتجاج کیا تھا۔ بعد ازاں مقامی عمائدین کی مدد سے کیے جانے والے مذاکرات کے نتیجے میں حکومت کی جانب سے اس واقعے کی ایف آئی آر کے اندراج کا وعدہ کیا گیا، اس کے علاوہ ہلاک ہونے والوں کے ورثا کو شہدا پیکج دینے اور آئندہ ڈرون کارروائیاں نہ کرنے کی حکومتی یقین دہانی پر یہ احتجاج ختم کر دیا گیا۔
ادھر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کاٹلنگ میں دہشت گردوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران سویلینز کی اموات پر انہیں افسوس ہے اور اس کی تمام پہلوؤں سے انکوائری کی جائے گی۔ تحریک انصاف کے رہنما سلمان اکرم راجا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ ’کاٹلنگ کے سانحے پر پی ٹی آئی غمزدہ ہے اور بے گناہ بچوں، عورتوں اور مردوں کی ہلاکتوں کی جواب طلبی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے بھی ہمیشہ ایسے اندھے حملوں کی مذمت کی ہے۔ یاد رہے کہ پی ٹی آئی نے کاٹلنگ میں دہشت گردوں کے خفیہ ٹھکانے پر ڈرون حملے کی تو مذمت کر دی ہے لیکن ابھی تک اس کی قیادت نے جعفر ایکسپریس حملے کے دوران سویلینز کے قتل عام کی مذمت نہیں کی۔
تحریک انصاف کے اس موقف پر تبصرہ کرتے ہوئے وزیراعظم کے سیاسی مشیر رانا ثنا اللہ خان نے کہا کہ قومی سلامتی پارلیمانی کمیٹی کی بریفنگ میں آرمی چیف نے یہ عوام ظاہر کیا تھا کہ دہشت گردوں کی کمین گاہوں کو ختم کر دیا جائے گا۔ انکا کہنا تھا کہ کاٹلنگ میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن ہوا کیونکہ وہاں دہشت گرد اپنے ٹھکانے پر نئے حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے، یہنکارروائی مثبت اور قابل اعتماد اطلاعات کی بنیاد پر کی گئی اور جو ہلاکتیں ہوئی ہیں ان ہی لوگوں کی ہوئی ہے جو شدت پسند تھے۔ انھوں نے کہا کہ خیبر پختون خواہ حکومت کے ترجمان کو ایسی بات نہیں کرنی چاہیے جو عسکریت پسندوں کے حق میں ہو، انکا کہنا تھا کہ کسی بھی شدت پسند تک پہنچنے کے لیے کسی نکتہ نظر کی کوئی اہمیت نہیں، اور نہ ہی حکام کو اس کی پروا کرنی چاہیے۔
یاد رہے کہ جعفر ایکسپریس پر ہونے والے حملے کے بعد پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے ہر ممکنہ حربہ استعمال کیا جائے گا۔ پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے دہشت گردوں کے ٹھکانے ختم کرنے کے لیے ڈرون حملے بھی اسی فیصلے کی روشنی میں شروع کیے گئے ہیں۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان کی تینوں مسلح افواج اس وقت مختلف اقسام کے ڈرونز استعمال کر رہی ہیں۔ ان میں ایسے چھوٹے ڈرونز بھی شامل ہیں جو پاکستان نے اپنے ہی وسائل سے تیار کیے ہیں۔ ان کی دوسری قسم جدید اور بڑے ڈرونز کی ہے جو ترکی اور چین سمیت چند دیگر ممالک سے خریدے جا رہے ہیں۔ یہ ڈرونز طویل دورانیے تک فضا میں پرواز کر سکتے ہیں اور بڑے پیمانے پر ایمیونیشن یا گولہ بارود لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس وقت پاکستان آرمی کئی مقاصد کے لیے کاونٹر ٹیررازم آپریشنز میں مختلف قسم کے ڈرونز کو استعمال کر رہی ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشت گردوں کی نگرانی اور جاسوسی کے لیے استعمال ہونے والے ڈرونز شدت پسندوں کے ٹھکانوں اور نقل و حرکت کی نگرانی کرتے ہیں اور انکے بارے میں معلومات فراہم کرتے ہیں۔ جبکہ الیکٹرانک وارفیئر سے منسلک ڈرونز دہشت گردوں کے مواصلاتی نیٹ ورکس کا سراغ لگانے اور انہیں مارنے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔ ہدف کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال ہونے والے یہ ڈرونز انتہائی مہارت سے کسی مخصوص ہدف کو ایسے نشانہ بناتے ہیں کہ مطلوبہ ہدف کے علاوہ نقصان انتہائی کم ہو۔ یہ لڑاکا طیاروں اور جنگی ہیلی کاپٹرز کے ذریعے کی جانے والی فضائی کارروائی کے مقابلے میں انتہائی موثر ہیں، خاص طور پر ایسی صورت میں جب نشانہ کوئی ایک عمارت، حتی کہ محض ایک کمرہ ہی کیوں نہ ہو۔
