2لڑکیوں کے قاتل بیٹے کو بچانے والے جج کےخلاف نااہلی ریفرنس

2لڑکیوں کے قاتل بیٹے کو بچانے والے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس محمد آصف پر نااہلی کے سائے منڈلانے لگے۔معروف قانون دان کرنل ریٹائرڈ انعام رحیم نے سپریم جوڈیشل کونسل میں جسٹس آصف کی نااہلی کیلئے ریفرنس دائر کر دیا ہے۔ جس کے بعد ان کی برطرفی یا جبری رخصتی کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔
خیال رہے کہ اسلام آباد کے سیکریٹریٹ چوک میں 2دسمبر کی شب ایک المناک حادثہ پیش آیا تھا جس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج محمد آصف کے کم عمر بیٹے ابوزر نے موبائل پر ویڈیو بناتے ہوئے تیز رفتار لینڈکروزر سے ٹکر مار کر دو نوجوان لڑکیوں کی جان لے لی تھی۔اسلام آباد کے تھانہ سیکریٹریٹ میں درج ایف آئی آر کے مطابق سمرین حسین اور ان کی دوست تابندہ بتول، پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس سے گھر واپس جا رہی تھیں۔ اس دوران تیز رفتار لینڈ کروزر نے انہیں پیچھے سے ٹکر ماری جس کے بعد دونوں لڑکیوں کو شدید زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا، مگر وہ دم توڑ گئیں۔ پولیس کو ملزم ابوذر نے بیان دیا تھا کہ حادثے کے وقت وہ سنیپ چیٹ پر ویڈیو بنا رہا تھا اور واقعے کے بعد اس نے اپنا موبائل فون کہیں پھینک دیا تھا۔ پولیس کا کہنا تھا کہ کم عمر ملزم کے پاس ڈرائیونگ لائسنس بھی موجود نہیں تھا۔ تاہم جج موصوف محمد آصف نے مرنے والی دونوں لڑکیوں کے ورثا پر دباؤ ڈال کر راضی نامہ کر لیا جسکے بعد تھانے کی حوالات میں بند ہونے کے باوجود عیاشیاں کرنے والا جج کا بیٹا پانچ روز بعد ہی رہا ہو کر گھر چلا گیا تاکہ اب کسی اور ماں کی گود اجاڑ سکے۔ تاہم جسٹس آصف کے دباؤ کی وجہ سے نہ تو سیف سٹی اسلام آباد نے جج کے بیٹے کی جانب سے دو سکوٹی سوار بچیوں کو کچلنے کی سی سی ٹی وی فوٹیج برآمد کی، نہ کسی چشم دید گواہ نے کوئی گواہی دی، نہ دونوں بچیوں کے ورثا نے کوئی احتجاج کیا، نہ ٹریفک پولیس نے کوئی کارروائی کی، نہ آج تک پتہ چلا کہ گاڑی میں کون کون تھا، نہ گاڑی کی نمبر پلیٹ کی تصدیق ہوئی، نہ ہی وکلاء نے احتجاج کیا، نہ معزز ججوں نے ایک دوسرے کو خط لکھا، نہ سول سوسائٹی نے موم بتیاں جلائیں، نہ وزیر اعظم نے دکھی خاندان کی داد رسی کی۔ اور صرف پانچ دن میں انصاف ہو گیا۔ تاہم اب سینئر قانون دان کرنل ریٹائرڈ انعام رحیم نے قانون کی بالادستی کو یقینی بناتے ہوئے جسٹس محمد آصف کے خلاف ریفرنس دائر کر دیا ہے۔
سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے درخواسٹ گزار کرنل انعام الرحیم نے جسٹس محمد آصف کو ریسپانڈنٹ بناتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے مبینہ طور پر اپنے عہدے کے اثر و رسوخ کا غلط استعمال کرتے ہوئے متوفی لڑکیوں کے قانونی ورثا پر دباؤ ڈالا تاکہ ذاتی فائدہ حاصل کیا جا سکے۔ اس دباؤ کا نتیجہ یہ نکلا کہ 6 دسمبر 2025 کو علاقہ مجسٹریٹ نے جسٹس آصف کے بیٹے کو خفیہ طریقے سے ضمانت پر رہا کر دیا اور بعد میں عدالتی اوقاتِ کار کے بعد خفیہ طریقہ کار سے فریقین کے درمیان سمجھوتے کے بیانات درج کیے گئے تاکہ کیس کو قابل تصفیہ ظاہر کیا جا سکے۔ تاہم اس پورے عمل میں مقتولہ لڑکیوں کے قانونی ورثا کو دانستہ طور پر نظرانداز کیا گیا۔ شکایت کنندہ کے بھائی اور بہن کی عدم موجودگی کو جواز بنا کر ان کے بیانات قلم بند نہیں کیے گئے، جبکہ متوفیہ کی والدہ تابندہ بتول کا بیان بھی جان بوجھ کر ریکارڈ کا حصہ نہیں بنایا گیا، جو پورے عدالتی عمل پر سنگین سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔
مذکورہ واقعے کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے درخواست گزار کرنل (ر) انعام الرحیم نے سپریم جوڈیشل کونسل کو بتایا ہے کہ 2 دسمبر 2025 کی رات تقریباً 1:30 بجے اسلام آباد کے کانسٹیٹیوشن ایونیو، سیکرٹریٹ چوک کے قریب ایک ہولناک واقعہ پیش آیا۔ درخواست کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس محمد آصف کے 16 سالہ بیٹے ابوذر نے ایک غیر کسٹم پیڈ وی ایٹ گاڑی، جس پر جعلی نمبر پلیٹ نصب تھی، انتہائی تیز رفتاری اور لاپرواہی سے چلاتے ہوئے سکوٹی پر سوار دو لڑکیوں کو کچل دیا، جو دن بھر محنت مزدوری کے بعد گھر واپس جا رہی تھیں۔ درخواست میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ جسٹس محمد آصف خود جائے وقوعہ پر پہنچے، جہاں ایک لڑکی اس وقت تک زندہ تھی اور اگر بروقت طبی امداد اور قانونی تقاضوں کے مطابق کارروائی کی جاتی تو اس کی جان بچائی جا سکتی تھی۔ تاہم، درخواست گزار کے مطابق جسٹس آصف نے انسانی جان بچانے کے بجائے اپنے بیٹے اور اس کے دوستوں کو بچانے کو ترجیح دی، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ دونوں لڑکیاں موقع پر ہی دم توڑ گئیں۔
فوج کا ڈنڈا عمران کی مقبولیت توڑنے میں ناکام کیوں؟
واقعے کے بعد پولیس اسٹیشن سیکرٹریٹ اسلام آباد میں ایف آئی آر درج کی گئی۔ اگرچہ دفعہ 322 پی پی سی کے تحت جرم بظاہر دیت کے ذریعے قابلِ تصفیہ تھا۔ ملزم کو قانونی طریقہ کار کے مطابق پولیس کے سامنے پیش ہونا چاہیے تھا تاہم اس کے برعکس، مبینہ طور پر عدالتی اثر و رسوخ، غیر قانونی دباؤ اور پسِ پردہ اقدامات کے ذریعے قانونی عمل کو متاثر کیا گیا، جو ججز کوڈ آف کنڈکٹ کے آرٹیکل 2 کی صریحا خلاف ورزی ہے۔ کیونکہ ایک جج سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ خدا خوفی، دیانت اور قانون کی بالادستی کا عملی نمونہ ہو۔ درخواست گزار نے سپریم جوڈیشل کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ ان سنگین الزامات کی مکمل، غیر جانبدار اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور جسٹس آصف کو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیتے ہوئے انھیں عہدے سے برطرف کیا جائے۔
