خیبرپختونخوااسمبلی میں مخصوص نشستوں کی تقسیم کالعدم قرار

پشاور ہائی کورٹ نے خیبرپختونخوا اسمبلی میں مخصوص نشستوں کی تقسیم سے متعلق الیکشن کمیشن آف پاکستان کا 2024 میں جاری کردہ اعلامیہ معطل کر دیا ہے۔

عدالت عالیہ نے یہ فیصلہ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے دائر درخواست پر سنایا، جس میں مخصوص نشستوں کی تقسیم پر اعتراض اٹھایا گیا تھا۔ 2 صفحات پر مشتمل فیصلے میں عدالت نے الیکشن کمیشن کے خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں سے متعلق دونوں اعلامیے کالعدم قرار دے دیے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ الیکشن کمیشن خواتین اور اقلیتوں کی نشستوں کی نئی ایلوکیشن کرے، اور اس عمل سے قبل تمام متعلقہ امیدواروں اور سیاسی جماعتوں کو دس دن کے اندر سنا جائے۔ مزید برآں، عدالت نے حکم دیا کہ الیکشن کمیشن کے نئے فیصلے تک مخصوص نشستوں پر کوئی حلف نہ لیا جائے۔

عدالت نے ہدایت کی کہ نئی تقسیم سے قبل مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی، جے یو آئی (ف)، اے این پی اور پی ٹی آئی پارلیمنٹرین کو سن کر فیصلہ کیا جائے۔

فیصلہ جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس ڈاکٹر خورشید اقبال پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سنایا۔ سماعت کے دوران الیکشن کمیشن کے اسپیشل سیکرٹری لاء محمد ارشد، الیکشن کمیشن کے وکیل محسن کامران، مسلم لیگ (ن) کے وکیل عامر جاوید، بیرسٹر ثاقب رضا، جے یو آئی کے وکیل نوید اختر، اور فاروق آفریدی عدالت میں پیش ہوئے۔

درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ الیکشن کمیشن نے مخصوص نشستوں کی تقسیم کرتے وقت مسلم لیگ (ن) کے صرف 6 ارکان شمار کیے، جبکہ پارٹی نے عام انتخابات میں 5 جنرل نشستیں حاصل کی تھیں اور بعد ازاں آزاد امیدوار حسام انعام اللہ نے مقررہ وقت کے اندر مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اختیار کی، جس سے پارٹی کی نشستوں کی تعداد 7 ہو گئی۔

وکیل نے بتایا کہ الیکشن کمیشن نے 22 فروری کو مخصوص نشستوں کی تقسیم کی، حالانکہ کئی کامیاب امیدواروں کے نوٹیفکیشن ابھی جاری نہیں ہوئے تھے۔ 23 فروری کو ملک طارق اعوان نے مسلم لیگ (ن) کو جوائن کیا، اور اسی روز الیکشن کمیشن کو اس حوالے سے مطلع کیا گیا۔ اس کے باوجود انہیں آزاد قرار دے کر خواتین کی مخصوص نشستوں میں شمار نہیں کیا گیا۔

درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ مخصوص نشستوں کی اصل تعداد 9 ہونی چاہیے تھی اور اقلیت کی ایک نشست کے لیے ٹاس کا فیصلہ بھی شفاف نہیں تھا۔

سماعت کے دوران جسٹس ارشد علی نے ریمارکس دیے کہ جب پراسس مکمل نہ ہو تو مخصوص نشستوں کی تقسیم کیسے کی جا سکتی ہے؟ الیکشن کمیشن کے اسپیشل سیکرٹری نے جواب دیا کہ قانون کے مطابق الیکشن کے 21 دن بعد اسمبلی اجلاس ہونا ہوتا ہے، جس کے لیے 22 فروری کی پوزیشن پر مخصوص نشستیں الاٹ کی گئیں۔

عدالت نے سوال اٹھایا کہ اگر ساری نشستیں 22 فروری کو ہی تقسیم کر دی جاتیں تو بات اور ہوتی، لیکن کچھ نشستیں بعد میں الاٹ کی گئیں تو اس کی کیا منطق ہے؟

جے یو آئی کے وکیل نوید اختر نے مؤقف اپنایا کہ ان کی پارٹی کو فریق نہیں بنایا گیا، جبکہ وہ اقلیتی نشست پر منتخب گجرال سنگھ کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ الیکشن کمیشن کے وکیل نے بھی واضح کیا کہ مسلم لیگ (ن) کی درخواست یکم جولائی کو دائر ہوئی، جس پر فیصلہ بھی آ چکا ہے۔

تمام دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو اب سنایا جا چکا ہے۔

Back to top button