پاکستانی ثالثی سے گھبرا کر اسرائیل نے رقیق حملے شروع کر دیے

 

 

 

امریکہ اور ایران کے مابین ثالث کا کردار ادا کرنے والے پاکستان کی سفارتی کوششوں سے گھبرا کر یہودی لابی نے پاکستان پر رقیق حملے شروع کر دیے ہیں اور اسے دہشت گرد جہادیوں کا سرپرست قرار دے کر جنگ بندی کی کوششیں ناکام ہونے کی پیش گوئی کر دی ہے۔

 

یاد رہے کہ پاکستان خود کو ثالث کے طور پر پیش کرتے ہوئے واشنگٹن اور تہران کے درمیان جنگ بندی کے لیے مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کر رہا ہے، ان پاکستانی کوششوں کو عالمی سطح قدر کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے لیکن پاکستان مخالف یہودی لابی کی جانب سے اس حوالے سے منفی ردعمل سامنے آیا ہے۔ اسرائیل کی وزارت خارجہ سے وابستہ سینئیر اہلکار فلور ناہوم نے ایک انٹرویو میں بطور ثالث پاکستان کے کردار کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان تو خود جہادی دہشت گردی کی سرپرستی کرتا رہا ہے اور اب خود ان کے دہشت گرد حملوں کا شکار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان عالمی سطح پر خود کو اہم ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن اس میں کامیاب نہیں ہوگا۔

 

اسی طرح دہلی میں تعینات اسرائیلی سفیر رووین آزر نے بھی واضح کیا ہے کہ اسرائیل ایسے ملک پر اعتماد نہیں کرے گا جسکے ساتھ اس کے سفارتی تعلقات نہیں ہیں اور اسے اپنے فیصلوں اور امریکی قیادت پر مکمل بھروسہ ہے۔ اس معاملے پر میڈیا وار بھی شدت اختیار کر چکی ہے۔ سوشل میڈیا پر کچھ انٹرویوز کے جعلی کلپس گردش کر رہے ہیں جن میں پاکستان کی عسکری قیادت، خصوصاً جنرل عاصم منیر، کو نشانہ بنایا گیا اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ اسلام آباد امریکی پالیسی پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔ بعد ازاں متعلقہ اسرائیلی اہلکاروں نے ان کلپس کو جعلی قرار دے کر مسترد کر دیا۔ دوسری جانب اسرائیل کے اندر اس معاملے پر مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں۔ بعض حلقے یہ امکان ظاہر کر رہے ہیں کہ پاکستان کی ثالثی درحقیقت امریکہ کی جانب سے ایران پر دباؤ بڑھانے کی ایک حکمت عملی بھی ہو سکتی ہے۔ اسرائیلی تجزیہ کار زوی بریل نے اپنے تجزیے میں لکھا ہے کہ سعودی عرب، ترکی، مصر اور پاکستان پر مشتمل ایک نیا علاقائی اتحاد تشکیل پا سکتا ہے، جو نہ صرف جنگ بندی کی ضمانت دے سکتا ہے بلکہ مستقبل میں دفاعی تعاون کو بھی فروغ دے سکتا ہے۔

 

پاکستانی سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان خود کو غیر جانبدار ظاہر کرتا ہے لیکن درحقیقت وہ ایرانی مفادات کے تحفظ کو ترجیح دیتا ہے۔ انکے مطابق ایران اور پاکستان کے درمیان قریبی روابط اس تاثر کو مزید مضبوط کرتے ہیں۔

اس تناظر میں اسرائیلی تجزیہ کار ایلی پودہ نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں نئے اتحاد اسرائیل کے لیے سفارتی چیلنج بن سکتے ہیں اور اس کے نتیجے میں اسرائیل کو خطے میں تنہائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان کے مطابق اگرچہ مصر اور اردن کے ساتھ اسرائیل کے تعلقات فوری طور پر خطرے میں نہیں، تاہم ایران اور امریکہ کی جنگ ان تعلقات کو بری طرح متاثر کر سکتی ہے اور مستقبل میں سعودی عرب کے ساتھ سفارتی پیش رفت بھی سست پڑ سکتی ہے۔

 

یاد رہے کہ پاکستان اور اسرائیل کے تعلقات تاریخی طور پر کشیدہ رہے ہیں۔ پاکستان نے آج تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا اور ہمیشہ فلسطینی مؤقف کی حمایت کی ہے، جس کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان نہ تو سفارتی تعلقات قائم ہو سکے ہیں اور نہ ہی کسی اعلیٰ سطح کے روابط موجود ہیں۔ اس کے برعکس بھارت اور اسرائیل کے درمیان قریبی دفاعی اور سفارتی تعلقات موجود ہیں، جو خطے میں طاقت کے توازن کو مزید پیچیدہ بناتے ہیں۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورت حال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ جہاں ایک طرف میدان جنگ میں کشیدگی بڑھ رہی ہے، وہیں سفارتی محاذ پر بھی سخت مقابلہ جاری ہے۔ پاکستان کی ثالثی کی کوششیں اگرچہ اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہیں، تاہم اسرائیل کی جانب سے شدید ردعمل اور شکوک و شبہات نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ سفارتی مشن ایک کٹھن مرحلے سے گزر رہا ہے۔

 

Back to top button