سیاسی مفاد کیلئےمدارس کی تقسیم قبول نہیں کی جائےگی،فضل الرحمان

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ کسی بھی سیاسی یا ذاتی مفاد کے لیے مدارس کی تقسیم قبول نہیں کی جائےگی۔

کراچی میں دینی جماعتوں کے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے  مدارس کی اہمیت، دینی تعلیم کے تحفظ اور ملکی سیاسی صورتحال پر تفصیلی روشنی ڈالی۔

انہوں نے کہا کہ مدارس کی اصل شناخت قرآن و حدیث کی تعلیمات کے مطابق ہونی چاہیے اور کسی بھی سیاسی یا ذاتی مفاد کے لیے مدارس کی تقسیم اور کمزوری قبول نہیں۔

مولانا فضل الرحمان نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ بعض ادارے اور علما اپنی ذاتی یا سیاسی وجوہات کے تحت مدارس کی قدر و منزلت کو نقصان پہنچا رہے ہیں، لیکن آج بھی لاکھوں طلبہ ان مدارس میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مدارس کی رجسٹریشن، شفافیت اور انتظامی اصلاحات ضروری ہیں تاکہ کسی غیر ذمہ دارانہ سازش کو ناکام بنایا جا سکے۔

سربراہ جمعیت علمائے اسلام نے ملکی سیاست پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ بعض قوتیں عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈال رہی ہیں اور سیاسی عمل میں شفافیت کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ عوام کو اپنے بنیادی حقوق حاصل کرنے کے لیے آئینی اور قانونی راستے استعمال کرنے چاہیے اور کسی بھی غیر آئینی عمل کو مسترد کرنا چاہیے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مدارس کے طلبہ نہ صرف دینی تعلیم میں بلکہ جدید سائنسی علوم میں بھی مہارت حاصل کر سکتے ہیں، اور یہی ملک کی ترقی اور استحکام کی بنیاد ہے۔ انہوں نے علماء اور مدرسہ انتظامیہ سے کہا کہ وہ اپنی ذمہ داری سنجیدگی سے ادا کریں اور کسی بھی سیاسی دباؤ یا سازش سے مدارس کو محفوظ رکھیں۔

انہوں نے عوام اور سیاسی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ ملک میں امن، شفافیت اور تعلیمی ترقی کے لیے تعمیری کردار ادا کریں اور ملک میں کسی بھی قسم کی غیر آئینی اور غیر ذمہ دارانہ سرگرمیوں کی اجازت نہ دیں۔

 

Back to top button