کیا عمران خان کے بیٹے واقعی باپ کو ملنا چاہتے ہیں یا نہیں؟

عمران خان کی سابقہ اہلیہ جمائمہ گولڈ نے گونگلووں سے مٹی جھاڑتے ہوئے یہ دعوی کر دیا ہے کہ قاسم اور سلیمان کو اپنے والد سے ملاقات کے لیے پاکستان کا ویزا نہیں دیا جا رہا، تاہم وہ یہ موقف اپناتے ہوئے بھول گئیں کہ پچھلے برس جب ان کے بیٹوں کو پاکستانی ویزہ دیا جا رہا تھا تو انہوں نے قاسم اور سلمان کو پاکستان بھیجنے سے انکار کر دیا تھا۔ ان کا موقف تھا کہ وہ علیمہ خان کی خواہش پر اپنے بیٹوں کو پاکستان نہیں بھیج سکتیں کیونکہ وہاں ان کی جانوں کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
اڈیالہ جیل میں قید عمران خان کے بیٹوں کو پاکستان کا ویزا جاری نہ ہونے کے معاملے پر جمائما اور حکومت پاکستان کے مؤقف میں واضح اختلاف سامنے آیا ہے۔ جمائما گولڈ سمتھ کا کہنا ہے کہ ان کے بیٹے اپنے والد سے ملاقات کے لیے پاکستان آنے کے خواہش مند ہیں مگر انہیں ویزا جاری نہیں کیا جا رہا، جبکہ دوسری جانب حکومتی اور سفارتی ذرائع کا مؤقف ہے کہ ویزا درخواستیں نامکمل ہونے کے باعث ان پر کارروائی آگے نہیں بڑھ پا رہی۔
جمائما گولڈ سمتھ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ عمران کے بیٹوں قاسم خان اور سلیمان خان نے جنوری میں پاکستان آنے کے لیے ویزا درخواست جمع کرائی تھی تاکہ وہ اپنے والد سے ملاقات کر سکیں، تاہم تقریباً ساٹھ دن گزر جانے کے باوجود انہیں ویزا جاری نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی قونصل خانے کے مطابق آن لائن ویزا درخواستوں کی کارروائی عام طور پر سات سے دس کام کے دنوں میں مکمل ہو جاتی ہے، مگر انکے بیٹوں کی درخواست دو ماہ گزرنے کے باوجود زیر التوا ہے۔ جمائما گولڈ سمتھ کا کہنا تھا کہ پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف اور دیگر حکومتی نمائندوں کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ عمران خان کے بیٹے محفوظ طریقے سے پاکستان آ کر اپنے والد سے ملاقات کر سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعظم شہباز شریف سے اپیل کی کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر عمران خان کے بیٹوں کو جلد پاکستان آنے اور اپنے والد سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔
دوسری جانب حکومت پاکستان سے منسلک سفارتی ذرائع اس معاملے کو مختلف انداز سے پیش کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق عمران خان کے بیٹوں کی جانب سے پاکستان آنے کے لیے جو ویزا درخواستیں جمع کرائی گئی ہیں وہ مکمل نہیں ہیں اور ان میں بعض اہم معلومات فراہم نہیں کی گئیں، جس کے باعث ان درخواستوں پر کارروائی آگے نہیں بڑھ سکی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ درخواست دہندگان کو کئی روز قبل ان خامیوں سے آگاہ بھی کر دیا گیا تھا جو ان کی ویزا درخواستوں میں موجود ہیں، تاہم اب تک ان کی جانب سے مطلوبہ معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
سفارتی ذرائع کے مطابق قاسم اور سلیمان کے رویے سے بظاہر یہی اندازہ ہوتا ہے کہ وہ پاکستان کا سفر اختیار کرنے میں زیادہ سنجیدہ نہیں ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ہر چند ہفتوں یا مہینوں بعد اس معاملے کو سوشل میڈیا پر اٹھا کر ایک تشہیری مہم چلائی جاتی ہے جس میں مختلف بیرون ملک مقیم افراد بھی حصہ لیتے ہیں اور پاکستان کے خلاف بیانات سامنے آتے ہیں۔
ذرائع نے یہ بھی یاد دلایا کہ عمران خان کے دونوں بیٹے سال 2022 کے بعد سے پاکستان نہیں آئے۔ ان چار برسوں کے دوران وہ مختلف مواقع پر یہ مؤقف ضرور اختیار کرتے رہے ہیں کہ وہ اپنے والد سے ملاقات کے خواہش مند ہیں، تاہم عملی طور پر پاکستان آ کر ملاقات کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش سامنے نہیں آئی۔
گزشتہ برس بھی اس معاملے پر اسی نوعیت کی صورتحال پیدا ہوئی تھی جب عمران خان کی بہن علیمہ خان نے یہ اعلان کیا تھا کہ عمران خان کے بیٹے اپنے والد کی رہائی کی مہم کے سلسلے میں پاکستان آ رہے ہیں اور انہوں نے برطانیہ میں ویزا کے لیے درخواست بھی دے دی ہے۔ تاہم اس اعلان کے کچھ ہی دیر بعد جمائما گولڈ سمتھ نے ایک ٹویٹ کے ذریعے اس تاثر کی تردید کر دی تھی اور واضح کیا تھا کہ ان کے بیٹے پاکستان نہیں جائیں گے کیونکہ وہاں ان کی زندگی کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
سفارتی ذرائع کے مطابق موجودہ صورتحال میں بھی یہی تاثر سامنے آ رہا ہے کہ ویزا درخواستوں میں موجود خامیوں کو دور کیے بغیر اس معاملے کو سیاسی اور تشہیری انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔
کیا ایران کی جنگی مزاحمت کے پیچھے روس اور چین ہیں؟
ذرائع کا کہنا تھا کہ عمران خان کی بیٹی ٹیرین وائٹ کی جانب سے پاکستان کا ویزا حاصل کرنے کے لیے کوئی درخواست جمع نہیں کرائی گئی اور نہ ہی جمائما گولڈ سمتھ کی جانب سے کسی ویزا درخواست کی وصولی کی گئی ہے۔ یوں عمران خان کے بیٹوں کو پاکستان کا ویزا جاری ہونے کے معاملے پر ایک طرف خاندان کی جانب سے تاخیر کا الزام عائد کیا جا رہا ہے جبکہ دوسری طرف حکومتی اور سفارتی حلقے اس تاخیر کو نامکمل درخواستوں اور طریقہ کار کی عدم تکمیل کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔ اس صورتحال میں معاملہ بدستور متنازع بنا ہوا ہے اور حتمی پیش رفت کا انحصار ویزا درخواستوں کی تکمیل اور متعلقہ حکام کی کارروائی پر ہوگا۔
