پاکستان اور امریکہ کی غیر معمولی قربت وقتی ہے یا دیرپا؟

 

 

 

طویل عرصے کی بداعتمادی اور سردمہری کے بعد پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں نظر آنے والی غیرمعمولی قربت کو ایک نئی شروعات قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم اصل سوال یہ ہے کہ آیا یہ قربت کسی دیرپا تبدیلی کی علامت ہے یا محض وقتی حالات کا نتیجہ ہے۔ اس تبدیلی کی بنیاد تب پڑی جب وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے درمیان غیر معمولی ملاقات ہوئی۔ اس ملاقات کے نتیجے میں دونوں ممالک کے مابین برف پگھلی اور  باہمی رابطوں کو نئی سمت ملنے کے علاوہ تجارت، سلامتی اور علاقائی امور پر بات چیت کے دروازے بھی کھل گئے ہیں۔

 

سفارتی مبصرین کے مطابق صدر ٹرمپ اور عاصم منیر کی ملاقات کے بعد واشنگٹن میں پاکستان کے بارے میں سوچ کے زاویے کافی حد تک بدل گیا ہے۔

وفاقی وزیر اور امریکہ میں سابق سفیر شیری رحمٰن کے مطابق حالیہ بہتری میں فوجی قیادت کا کردار فیصلہ کن رہا۔ ان کا کہنا ہے کہ خاص طور پر واشنگٹن میں پالیسی سازی شخصیات کے گرد گھومتی رہی ہے، اور اسی تناظر میں ٹرمپ اور پاکستانی عسکری قیادت کے درمیان قربت نے تعلقات کی فضا کو سازگار بنایا۔ تاہم وہ اس بات پر زور دیتی ہیں کہ محض شخصی تعلقات پر انحصار خطرناک ہو سکتا ہے اور اصل ضرورت معاشی اور تجارتی بنیادوں کو مضبوط بنانے کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بدلتی ہوئی عالمی سیاست میں طاقت کے کئی مراکز ابھر رہے ہیں، لہٰذا پاکستان کے لیے توازن اور اعتدال کی پالیسی اپنانا ضروری ہے۔

 

اس تناظر میں پاکستان کو چین کے ساتھ سٹریٹجک تعلقات برقرار رکھتے ہوئے امریکہ کے ساتھ تعاون کو صفر جمع صفر کا کھیل بننے سے بچانا ہوگا۔

یاد رہے کہ مئی 2025 میں بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ نے خطے کو خطرناک حد تک کشیدگی کا شکار کر دیا تھا۔ اس صورتحال میں امریکہ نے فوری سفارتی کردار ادا کیا اور جنگ بندی کے بعد صدر ٹرمپ نے کھلے عام پاکستان کے کردار کو سراہا۔ ان بیانات کو اسلام آباد کی بڑی سفارتی کامیابی قرار دیا گیا تھا، جس کے بعد پاکستان نے صدر ٹرمپ کو نوبیل امن انعام کے لیے نامزد بھی کیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق صدر ٹرمپ کی جانب سے بار بار پاکستان کی تعریف، اور جنوبی ایشیا میں ممکنہ جوہری بحران کے تدارک کا ذکر، عالمی سطح پر پاکستان کے مؤقف کو تقویت دینے کا باعث بنا۔

 

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ کے مطابق امریکی قیادت اس حقیقت کو تسلیم کرنے پر آمادہ نظر آتی ہے کہ پاکستان نہ صرف سلامتی بلکہ معاشی معاملات میں بھی امریکہ کے لیے ایک کارآمد شراکت دار بن سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ امریکہ اور بھارت کے درمیان تجارتی اختلافات اور بھارت کے روس کے ساتھ بڑھتے روابط نے بھی واشنگٹن کے لیے پاکستان کی اہمیت بڑھا دی۔ ٹرمپ انتظامیہ نے مشرقِ وسطیٰ میں غزہ کے حوالے سے پاکستان کے کردار کو تسلیم کرتے ہوئے سراہا، جبکہ ایران سے متعلق سفارتی کوششوں میں بھی اسلام آباد کا کردار بھی سب کے سامنے ہے۔ یہ سب ڈویلپمنٹس پاکستان کی علاقائی اہمیت میں اضافے کی تصدیق کرتی ہیں۔

 

اس کے باوجود تجزیہ کار۔پاکستانی قیادت کو احتیاط کا دامن تھامے رکھنے کا مشورہ دیتے ہیں تاکہ اس سے امریکہ کا بغل بچہ نہ کہا جا سکے۔ امریکہ میں سابق پاکستانی سفیر ملیحہ لودھی کے مطابق حالیہ پاک امریکہ گرمجوشی ایک مثبت اشارہ ضرور ہے، لیکن اسے پائیدار تبدیلی سمجھ لینا حقیقت پسندانہ نہیں ہوگا۔ انکے بقول دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری زیادہ تر شخصی تعلقات پر مبنی ہے، جبکہ دو ریاستوں کے مابین دیرپا تعلقات ہمیشہ مشترکہ مفادات، ادارہ جاتی روابط اور واضح پالیسی فریم ورک سے جنم لیتے ہیں۔

جرمنی نے پاکستانی نوجوانوں کیلئے یورپ آنا آسان بنا دیا

امریکی تھنک ٹینک اٹلانٹک کونسل سے وابستہ مائیکل کوگل مین کا کہنا ہے کہ امریکہ اور پاکستان کے تعلقات میں بہتری حیران کن ہے تاہم دونوں ممالک کے مابین عملی تعاون ابھی محدود ہے۔ چند معاہدوں اور محدود انسدادِ دہشت گردی تعاون کے علاوہ بڑے پیمانے پر شراکت داری فی الحال نظر نہیں آتی۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو سال 2025 پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں مکمل تبدیلی کا سال نہیں، مگر یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے ساتھ دوبارہ بات چیت اور تعاون کی گنجائش تلاش کی ہے۔ ایک ایسا رشتہ جو دہائیوں سے اتار چڑھاؤ کا شکار رہا ہو، اس کے لیے یہ پیش رفت ایک اہم مگر محتاط امید کی صورت رکھتی ہے۔

Back to top button