عمران کی آنکھوں میں معمولی انفیکشن ہے یا کوئی سنگین مرض؟

اڈیالہ جیل میں قید عمران خان کی صحت کا معاملہ ایک بار پھر عوامی بحث کا مرکز بننے کے بعد پمز ہسپتال اسلام آباد کے ڈاکٹرز نے واضح کیا ہے کہ ان کی آنکھوں میں معمولی انفیکشن ہے جسکا معائنہ کرنے کے بعد علاج تجویز کر دیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے تصدیق کی ہے کہ عمران خان کو آنکھوں کے ایک معمولی مسئلے کے باعث پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز منتقل کیا گیا تھا، جہاں بتایا گیا کہ وہ مکمل طور پر صحت مند ہیں۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ جیل میں معائنے کے دوران ڈاکٹروں نے بتایا کہ ان کی ایک آنکھ میں معمولی انفیکشن ہے، جس کے لیے مزید ٹیسٹ اور تقریباً 20 منٹ کا ایک مختصر طبی عمل ضروری ہے۔ اسی سفارش پر انہیں سخت سیکیورٹی میں پمز اسپتال منتقل کیا گیا۔ پمز میں عمران کی آنکھوں کے تفصیلی ٹیسٹ کیے گئے، اور انفیکشن کی تشخیص کے بعد دوا تجویز کی گئی۔ تارڑ کے مطابق اسکے علاوہ عمران خان کی تحریری منظوری کے بعد ایک مختصر طبی پروسیجر بھی انجام دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس دوران عمران خان کے تمام وائٹل سائنز نارمل رہے اور علاج مکمل ہونے کے بعد انہیں ضروری طبی ہدایات کے ساتھ واپس اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا۔
وزیر اطلاعات نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ان خبروں کو بے بنیاد قرار دیا کہ عمران خان جیل میں آنکھوں کی ایک سنگین بیماری میں مبتلا ہو گئے ہیں اور ان کی بینائی بھی ضائع ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب پی ٹی آئی نے حکومتی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ عمران خان کی دائیں آنکھ کہ پردہ بصارت میں خرابی کی تشخیص ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں آنکھ کی نس میں خطرناک رکاوٹ پیدا ہو چکی ہے۔ پارٹی کے مطابق یہ ایک حساس اور سنگین مرض ہے، جس کا بروقت اور درست علاج نہ ہونے کی صورت میں مستقل طور پر بینائی متاثر ہونے کا شدید خدشہ ہے۔ اس سے پہلے شوکت خانم ہسپتال نے بھی ایک بیان میں کہا تھا کہ اگرچہ وہ بیماری کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکتے، تاہم عمران خان کی صحت سے متعلق شدید تشویش ہے۔ ہسپتال انتظامیہ نے مطالبہ کیا کہ شوکت خانم کے ماہر معالجین کو عمران خان تک فوری رسائی دی جائے تاکہ ان کے علاج میں براہِ راست شرکت ممکن ہو سکے۔
پی ٹی آئی رہنما زلفی بخاری نے بھی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں اس معاملے کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ درست اور ذمہ دارانہ طبی معلومات بلا تاخیر فراہم کی جانی چاہئیں اور ذاتی معالجین کو فوری رسائی نہ دینا ناقابلِ تلافی نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔ ادھر پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی صحت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جیل میں ملاقات نہ ہونے کے باعث پارٹی کارکنوں میں بے چینی پھیل رہی ہے۔ تاہم عمران خان کے اہلِ خانہ کے بیانات میں بھی اختلاف نظر آیا۔ ایک موقع پر ان کی بہن علیمہ خان نے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں جیل سے کوئی مصدقہ معلومات موصول نہیں ہو رہیں، جبکہ ان کی بہن نورین نیازی نے دعویٰ کیا کہ عمران خان بالکل صحت مند ہیں اور آنکھ میں کبھی کوئی مسئلہ نہیں تھا، البتہ بعد ازاں انہوں نے مطالبہ کیا کہ عمران خان کی مکمل میڈیکل رپورٹس عوام کے سامنے لائی جائیں اور اہلِ خانہ و وکلا کو ان سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔
جیل حکام کے مطابق پمز کے تین ڈاکٹروں پر مشتمل ٹیم، جس میں میڈیکل اسپیشلسٹ اور آنکھ، کان اور گلے کے ماہرین شامل تھے، چند ہفتے قبل اڈیالہ جیل کا دورہ کر چکی ہے۔ جیل کے ایک اہلکار نے بتایا کہ عمران نے کچھ روز قبل ایک آنکھ میں انفیکشن کی شکایت کی تھی، جس پر ڈاکٹروں نے آئی ڈراپس تجویز کیے جو انہیں فراہم کر دیے گے۔
طبی ماہرین کے مطابق عمران کی آنکھ کے پردے کی نس میں رکاوٹ ہے، جو عموماً 60 سال سے زائد عمر کے افراد میں پایا جانے والا عام مسئلہ ہے۔ اس بیماری کی وجوہات میں ہائی بلڈ پریشر، شوگر، سگریٹ نوشی اور ہائی کولیسٹرول شامل ہیں، جبکہ اس کی بروقت تشخیص اور علاج نہ ہونے کی صورت میں بینائی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
کیا جیل میں عمران کی بینائی متاثر ہونے کا دعوی ایک شوشہ ہے؟
حکومت کا مؤقف ہے کہ عمران خان کو جیل قوانین کے مطابق مکمل طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں اور ان کی حالت تسلی بخش ہے، جبکہ پی ٹی آئی اس معاملے کو سنگین قرار دیتے ہوئے آزادانہ اور شفاف علاج، ذاتی معالجین تک رسائی اور مکمل میڈیکل رپورٹس کی اشاعت کا مطالبہ کر رہی ہے۔
