کیا عمران بے دخل ہونے سے پہلے خون خرابہ چاہتے ہیں؟

تحریر: عامر میر
وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ سے ایک روز پہلے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر 10 لاکھ لوگ اکٹھا کرنے کے اعلان نے اپوزیشن حلقوں میں ان خدشات کو جنم دیا ہے کہ وہ شاید خود کو اقتدار سے نکلتا دیکھ کر خون خرابا کروانا چاہتے ہیں تاکہ ایسی صورت حال پیدا ہو جائے جس میں حکومت اپوزیشن کو بھی نہ مل سکے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا یے کہ تحریک عدم اعتماد سے پہلے پارلیمنٹ کے باہر لوگوں کو اکٹھا کرنے کا بنیادی مقصد پی ٹی آئی کے منحرف اراکین اسمبلی پر دباؤ ڈالنا ہے تا کہ وہ اپوزیشن کے ساتھ ہاتھ ملانے کا نہ سوچیں۔ دوسرا وہ اسٹیبلشمنٹ پر بھی یہ دباؤ ڈالنا چاہتے ہیں کہ اگر انہیں اقتدار سے بے دخل کیا گیا تو وہ دوبارہ کنٹینر پر چڑھ جائیں گے۔ لہذا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کا نتیجہ آنے تک "قوم یوتھ” کا ہجوم وہیں موجود رہے گا، اگر خان صاحب کامیاب ہوئے تو اس مجمعے کو جشن میں تبدیل کر دیں گے لیکن اگر ناکام ہوئے تو اسے احتجاجی ’’دھرنے‘‘ میں بدل دیں گے۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کو اپنی جماعت کے کم از کم ایک درجن سے زائد اراکین قومی اسمبلی کے منحرف ہوجانے کی اطلاع مل چکی ہے لہٰذا ان پر دباؤ ڈالنے کا فیصلہ کیا گیا اور مختلف طریقے استعمال کیے جائیں گے۔ جو لوگ عمران کے خلاف ووٹ دینے کا وعدہ کر چکے ہیں ان میں سے زیادہ تر اگلا الیکشن نواز لیگ کے ٹکٹ پر لڑیں گے۔ چونکہ اعصاب کی جنگ میں دونوں جانب سے تنائو بڑھ رہا ہے لہذا وزیر اعظم فرسٹریشن کا شکار ہو کر اپنی سیاسی مخالفین کے خلاف گالی گلوچ پر اتر آئے ہیں۔ اسی طرح اپنی جماعت کے منحرف اراکین اسمبلی کو ڈرانے کے لئے وزیراعظم کے خصوصی معاون خصوصی برائے ابلاغ شہباز گل نے پارٹی کارکنان کو ہدایت کی ہے کہ وہ ممکنہ طور پر لوٹا بننے والے اراکین اسمبکی کے گلے میں جوتوں کے ہار ڈالنے کی تیاریاں کریں۔

انہوں نے کہا کہ پارٹی سے غداری کرنے والوں کو ایسی خوفناک سزائیں دیں گے کہ انکی اگلی نسلیں بھی یاد رکھیں گی۔ اپنی بد زبانی کے لیے بدنام شہباز گل کا کہنا تھا کے اگر کوئی پی ٹی آئی رکن اسمبلی اپنا ضمیر بیچے گا تو اسے ووٹ ڈالنے سے پہلے ہی نا اہل کردیا جائے گا اور اسے غدار قرار دے کر اسکے پوسٹرز ہر جگہ آویزاں کر دیئے جائیں گے۔ تاہم شاید بھاڑے کے سیاسی مشیر یہ بھول رہے ہیں کہ عمران کی جماعت کے 99 فیصد ممبران قومی اسمبلی پی ٹی آئی میں بھی غداری کے بعد ہی شامل ہوئے تھے، عمران حکومت کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے لیکر ان کے وزیر اطلاعات فواد چوہدری تک تمام لوگ ماضی میں مختلف اپوزیشن جماعتوں کا حصہ تھے۔ ایسے میں اس بات کا قوی امکان ہے کہ دن کے بھولے یہ مخدوم اور چودھری اگر شام کو اپنے پرانے گھروں کو واپس لوٹیں گے تو انہیں "لوٹا” نہیں کہا جائے گا۔

سیاسی مبصرین کے خیال میں فرسٹریشن کا شکار عمران خان کی جانب سے پارلیمینٹ ہاؤس کے باہر ووٹنگ سے ایک دن پہلے عوام کا ہجوم اکٹھا کرنے کا فیصلہ مناسب نہیں چونکہ جواب میں اپوزیشن جماعتیں بھی اپنی سیاسی طاقت کا مظاہرہ کرنے پر اصرار گے جس سے تصادم کا خطرہ پیدا ہو جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ صورتحال کی نزاکت بھانپ چکی ہے اور ہو سکتا ہے کہ وہ حکومت کو ایسا ہجوم اکٹھا کرنے کی اجازت ہی نہ دے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کے قریب سمجھے جانے والے دونوں اہم ترین وفاقی وزرا شیخ رشید اور فواد چوہدری نے اچانک اپنا تصادم والا سخت بیانیہ چھوڑ کر مفاہمت والا نرم بیانیہ اپنا لیا ہے اور اپوزیشن سے مذاکرات کی باتیں شروع کر دی ہیں۔

لیکن وزیراعظم مفاہمت کی بجائے مزاحمت کے موڈ میں ہیں اور اپنے منصوبے کے مطابق ہجوم اکٹھا کرنے کے احکامات جاری کر چکے ہیں۔ انہوں نے اپنے منحرف اراکین کو منانے کی بجائے حکومتی ممبران قومی اسمبلی کو ہدایت کی ہے کہ اپنئ حلقوں سے بسیں بھر کر اسلام آباد لائیں تاکہ اپوزیشن کو اپنی طاقت دکھائی جا سکے۔ لیکن ایسا کرتے ہوئے وہ بھول رہے ہیں کہ ووٹنگ اسمبلی کے اندر ہونا ہے، پارلیمنٹ کے باہر نہیں۔

سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ عموما کھیل کے میدان میں دونوں ٹیمیں سپورٹس مین سپرٹ کا مظاہرہ کرتی ہیں اور ہار جیت کو کھیل کا حصہ مانتے ہوئے بڑے دل سے شکست تسلیم کی جاتی ہے۔ تاہم ایک سابقہ کھلاڑی ہونے کے باوجود عمران اپنی ممکنہ شکست دیکھتے ہوئے روندی ڈالنے کی کوشش میں ہیں اور اسی لیے تصادم اور مزاحمت کی پالیسی اپنا رہے ہیں۔ یعنی ‘نہ کھیلوں گا، نہ کھیلنے دوں گا’ والی پالیسی اپنائی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جب وزیراعظم خود ہی تصادم کے راستے پر چل نکلے تو پھر ملک کو انارکی سے بچانا ناممکن ہو جاتا ہے لہذا اب موجودہ صورتحال میں تو ایسا ہی لگتا ہے کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ آگے بڑھ کر انہیں پارلیمنٹ کا گھیراؤ کرنے سے منع کرے گی اور اگر وہ باز نہ آئے تو پھر انتظامی اختیارات استعمال کیے جائیں گے۔

ضرورت پڑی تو اسلام آباد میں فوج بلاسکتے ہیں

مبصرین کہتے ہیں چونکہ وزیراعظم نیوٹرل امپائر کو پہلے ہی جانور قرار دے چکے ہیں اس لیے ممکن ہے کہ وہ کسی بھی مخالف فیصلے کو قبول نہ کریں، انہوں نے بظاہر اپنی حکومت کا انجام پڑھ لیا ہے اور اسی لیے آخری دم تک لڑتے ہوئے گند ڈالنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ اقتدار سے رخصت ہوتے ہوئے سیاسی شہید بن سکیں۔ لیکن عمران خان کو یہ حقیقت یاد رکھنی چاہیے کہ پاکستان میں آج دن تک اقتدار سے بے دخل ہونے والا کوئی وزیر اعظم سیاسی شہید نہیں بن پایا، پاکستانی سیاسی تاریخ میں صرف دو سابق وزرائے اعظم ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کو عوام نے شہید کے القاب سے نوازا، لیکن ایسا کرنے کے لئے ان دونوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا تھا جو کسی ایسے غیرے کے بس کی بات نہیں۔

Does Imran want bloodshed before being evicted? Urdu News

Back to top button