کیا وفاق خیبرپختونخواہ کے معدنی وسائل چھیننا چاہتا ہے ؟

خیبر پختونخوا میں وزیر اعلی علی امین گنڈاپور کی حکومت کی جانب سے معدنی وسائل کے حوالے سے ایک مجوزہ قانون اسمبلی میں پیش کیے جانے کے بعد سے شدید تنقید کی زد میں ہے۔ مخالفین کا الزام ہے کہ اس قانون کا مقصد خیبر پختون خواہ کے معدنی وسائل وفاق کے حوالے کرنا ہے۔
معدنی وسائل کا بل 4 اپریل کو خیبر پختونخوا اسمبلی میں پیش کیا گیا تھا لیکن اپوزیشن کے علاوہ کچھ حکومتی اراکین کی جانب سے کی جانے والی مخالفت کی وجہ سے اسے ابھی تک منظور نہیں کروایا جا سکا۔ اس بل میں موجود زیادہ تر شقیں معدنیات ایکٹ 2017 کی ہیں لیکن کچھ شقیں نئی بھی شامل کی گئی ہیں۔ تاہم یہ ترمیمی بل کے طور پر نہیں بلکہ ایک نئے بل کے طور پر اسمبلی میں پیش کیا گیا ہے۔ بل کے مخالفین کی جانب سے یہ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ گنڈاپور حکومت فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ایما پر صوبائی وسائل کو وفاقی حکومت کے حوالے کرنے کی سازش کر رہی ہے۔ چنانچہ وزیراعلی خیبر پختون خواہ علی امین گنڈا پور بھی تنقید کی زد میں ہیں اور یہ الزام لگایا جا رہا ہے کہ وہ صوبے کے مفادات کے خلاف کام کر رہے ہیں۔
مجوزہ بل میں واضح طور پر شق نمبر 26 میں لکھا گیا ہے کہ صوبے میں کسی جگہ پر بھی معدنیات کے ذخائر کی مالک وفاقی حکومت ہو گی اور اسے ہر طریقے سے ان ذخائر کو استعمال کرنے کی اجازت ہوگی۔ مجوزہ قانون کے مطابق لیز ہولڈرز معدنیات کی کان کو استعمال کرنے کے حق دار ہوں گے لیکن اس کی ملکیت کا دعوی نہیں کر سکیں گے۔ اسکے علاوہ کان کی زمین کے مالک کو لیز ہولڈر باقاعدہ رینٹ ادا کرے گا اور اس حوالے سے جائیداد کے مالک اور لیز ہولڈر کے مابین باقاعدہ معاہدہ طے کیا جائے گا۔ مجوزہ قانون کے شق نمبر 65 میں لکھا گیا ہے کہ اگر کوئی غیر ملکی کمپنی صوبے میں معدنیات کی لیز لینے میں دلچسپی رکھتی ہے تو اس کے ساتھ معاہدہ فیڈرل مائننگ ونگ اور منرل فیسیلیٹیشن اتھارٹی کے تجاویز پر کیا جائے گا، یعنی یہاں بھی اختیار صوبائی حکومت کا نہیں بلکہ وفاقی حکومت کا ہو گا۔
یاد رہے کہ صوبہ خیبر پختونخوا کے معدنیات ایکٹ 2017 کے تحت کسی بھی معدنیات کے ٹھیکے کا لائسنس محکمہ معدنیات میں لائسسنگ ڈائریکٹریٹ جاری کرتا تھا جس میں معدنیات سے متعلق تمام بڑے و چھوٹے منصوبے شامل تھے۔ تاہم نئے مجوزہ قانون میں بڑے اور چھوٹے منصوبوں کے لائسسنگ کا طریقہ کار تبدیل کیا گیا ہے اور اب بڑے منصوبوں کے ٹھیکے دینے کے لیے ایک لائسسنگ اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔ مجوزہ بل کی شق نمبر پانچ کے مطابق اس اتھارٹی کے پاس ‘بڑے مائننگ’ کے منصوبوں کی ٹھیکے یا لیز دینے کا اختیار ہو گا اور فیصلہ اتھارٹی کی میٹنگ میں دو تہائی اکثریت کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ اس اتھارٹی کے اراکین میں محکمہ معدنیات کے ڈائریکٹر جنرل، ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل، چیف انسپکٹر مائنز، چیف کمشنر مائنز لیبر ویلفیئر، محکمہ جنگلات کا نمائندہ، وزارت قانون کا نمائندہ، محکمہ ماحولیات کا نمائندہ، ڈائریکٹر ایکسپلوریشن، جی آئی ایس افیسر، اور ڈائریکٹر لائسسنگ شامل ہوں گے۔
اس اتھارٹی کے پاس یہ اختیار بھی ہوگا کہ وہ صوبے میں کسی بھی جگہ معدنیات کی نشاندہی کرے، اس کی قیمت لگائے اور اس کو نیلامی کے لیے پیش کرے۔ اس اتھارٹی کو مجوزہ بل میں یہ بھی اختیار دیا جا رہا ہے کہ وہ وفاقی حکومت کے محکمہ فیڈرل مینرل ونگ کی تجاویز پر عمل درآمد کو یقینی بنائے، تاہم اس شق میں یہ واضح نہیں کیا گیا ہے کہ کس قسم کی تجاویز پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا۔ اگر مجوزہ بل پاس ہو گیا تو یہ اتھارٹی تمام بڑے مائننگ منصوبوں کی لیز دینے کے لیے با اختیار ہو گی۔
اس کے علاوہ خیبر پختون خواہ اسمبلی میں پیش کیے جانے والے مجوزہ بل میں ایک کمیٹی بنانے کی تجویز بھی دی گئی ہے جو مائننگ کے لیے لیز پر دی جانے والی زمین سے جڑے مسائل حل کرے گی۔ کمیٹی کو یہ اختیار حاصل ہو گا کہ وہ کسی بھی لیز شدہ زمین میں مائننگ کے دوران پیش آنے والی رکاوٹوں کو دور کرے اور زمین کے مالک اور لیز ہولڈر کے مابین تنازعات حل کرے مجوزہ قانون کے تحت خیبر پختون خواہ میں معدنیات سیکٹر کی ترقی کے لیے منرل انوسٹمنٹ فیسیلیٹیشن اتھارٹی قائم کی جائے گی جو اس سیکٹر کی ترقی کے لیے کردار ادا کرے گی۔ اس اتھارٹی کو خود یا وفاقی حکومت کی تجاویز کے مطابق لیز اگریمنٹ میں تبدیلی، فیس، رینٹ اور رائلٹیز میں تبدیلی، نیلامی کے دوران سکیورٹی ڈیپازٹ میں تبدیلی، معدنیات سیکٹر میں سامان بیرون ممالک سے درآمد کرنے پر ٹیکس میں رعایت اور صوبائی لائسسنگ اتھارٹی کے طریقہ کار میں تبدیلی کا اختیار ہو گا۔
تاہم خیبر پختون خواہ میں عوامی نیشنل پارٹی نے مجوزہ مائنز اینڈ منرل قانون کی مخالفت کرتے ہوئے اس کو مسترد کر دیا ہے اور اسے صوبائی وسائل پر قبضہ کرنے کی ایک چال قرار دے دیا ہے۔ اے این پی کے صوبائی صدر میاں افتخار حسین نے بتایا کہ مجوزہ قانون نہ صرف آئینِ پاکستان کی 18 ویں ترمیم کی صریحاً خلاف ورزی ہے بلکہ اس کے ذریعے خیبر پختونخوا کے معدنی وسائل پر وفاقی اور غیر صوبائی اداروں کی بالادستی قائم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’اے این پی واضح کرتی ہے کہ پاکستان اور 18 ویں آئینی ترمیم ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ اس ترمیم سے چھیڑ چھاڑ کسی بھی طور پاکستان کے مفاد میں نہیں۔‘ میاں افتخار حسین کے مطابق گنڈاپور حکومت اس متنازع قانون سازی میں اسٹیبلشمنٹ کی سہولت کار بننے کے علاوہ نئے این ایف سی ایوارڈ کے اجراء میں تاخیر پر بھی خاموش ہے۔ میاں افتخار حسیں نے کہا کہ ’یہ قانون چند طاقتور۔لوگوں کی جانب سے ذاتی مفادات کے لیے پختونخوا کے قدرتی وسائل پر صوبے کے اختیار کم کرنے کی کوشش ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے کے حقوق غصب کرنے کے لیے موجودہ صوبائی حکومت اور وفاقی حکومت ایک پیج پر ہیں۔
تاہم صرف حزب اختلاف کی جانب سے ہی نہیں بلکہ پی ٹی آئی کے بعض اپنے اراکین اسمبلی بھی اس بل کی مخالفت کر رہے ہیں۔ پی ٹی آئی کے رکن صوبائی اسمبلی شکیل خان نے مائنز اینڈ منرل بل پر تنقید کرتے ہوئے اسمبلی فلور پر کہا کہ ’میں تو حیران ہوں کہ یہ بل ہماری کابینہ سے کیسے منظور کیا گیا اور پھر اسمبلی میں کیسے پیش کیا گیا۔‘ شکیل خان کے مطابق ’یہ بل 18 ویں ترمیم اور صوبائی وسائل پر قبضے کے مترادف ہے۔‘
خوشامدی بیوروکریسی نے شہباز اور مریم کو اپنا غلام کیسے بنا لیا ؟
مجوزہ بل پر تنقید کے بعد ایک ویڈیو پیغام میں وزیر اعلٰی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا یے کہ مائینز اینڈ منرل ایکٹ میں مجوزہ ترمیم سے متعلق غلط فہمی پھیلائی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’اس ترمیم میں صوبائی حکومت کا کوئی بھی اختیار کسی کو نہیں دیا جا رہا اور صوبے کا اختیار نہ کوئی کسی کو دے سکتا ہے اور نہ کوئی ہم سے لے سکتا ہے۔‘ گنڈاپور نے کہا کہ ’ہم دراصل معدنیات کے شعبے میں اصلاحات کر رہے ہیں لیکن افسوس کی بات ہے کہ اسے غلط رنگ دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔ لگتا ہے کہ کوئی مافیا ہے جو اپنے ذاتی مفادات کے لیے اصلاحات کی مخالفت کر رہا ہے۔‘ علی امین گنڈاپور نے کہا کہ پچھلے 76 سالوں سے صوبے میں چار سائٹس پر سونے کی تلاش کے لیے غیر قانونی مائننگ ہو رہی تھی اور ماضی میں کسی بھی حکومت نے اس غیر قانونی مائننگ کو روکنے کی کوشش نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر حزب اختلاف کی جماعتوں کو کوئی اعتراض ہے تو وہ اسمبلی میں پیش کریں تاکہ اس پر بحث ہو سکے۔
