کیا سپریم کورٹ کا فیصلہ حمزہ کے الیکشن پر لاگو ہوتا ہے؟

ایک جانب صدر عارف علوی نے مسلم لیگی رہنما بلیغ الرحمان کی بطور گورنر پنجاب تعیناتی کی منظوری دے دی ہے تو دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف کا مستقبل لاہور ہائی کورٹ طے کرنے جا رہی ہے۔ حمزہ شہباز نے اپنے وزیر اعلیٰ پنجاب منتخب ہونے کے خلاف دائر کردہ درخواست پر لاہور ہائی کورٹ میں جواب جمع کرواتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے کی گئی آئین کے آرٹیکل 63 اے کی حالیہ تشریح وزیر اعلیٰ کے انتخاب پر لاگو نہیں ہوتی ہے کیونکہ عدالت کا فیصلہ بعد میں آیا تھا جب کہ ان کا انتخاب اس سے ایک مہینہ پہلے ہوچکا تھا۔ خیال رہے سپریم کورٹ نے صدارتی ریفرنس پر آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کرتے ہوئے منحرف اراکین کو نا اہل قرار دیا تھا۔ حمزہ شہباز نے وزیر اعلیٰ بننے کے لیے تحریک انصاف کے 25 منحرف اراکین اسمبلی کے ووٹ حاصل کیے تھے جنہیں الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں نااہل قرار دے دیا ہے اور اب ان نشستوں پر ضمنی الیکشن ہونے جا رہے ہیں۔ تاہم اب ایسی اطلاعات بھی آ رہی ہیں کہ نا اہل قرار دیے جانے والے اراکین اسمبلی نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
حمزہ شہباز نے اپنے الیکشن کے خلاف درخواست دائر کرنے والے منیر احمد کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے ان پر جرمانہ عائد کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ منیر احمد نے لاہور ہائی کورٹ سے استدعا کی تھی حمزہ شہباز کے بطور وزیر اعلیٰ پنجاب انتخاب کے خلاف ان کی درخواست کو پی ٹی آئی سمیت دیگرفریقین کی درخواستوں کے ساتھ کلب کیا جائے۔ یاد رہے کہ حمزہ شہباز 16 اپریل کو پنجاب کے وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے تھے اس دوران صوبائی اسمبلی کے اجلاس میں ہنگامہ آرائی اور مخالفین کی جانب سے شدید احتجاج کے مناظر دیکھے گئے تھے۔ پرویز الٰہی اور تحریک انصاف کے ارکین پنجاب اسمبلی کی جانب سے وزارت اعلیٰ کے الیکشن کا بائیکاٹ کیے جانے کے بعد حمزہ شہباز 197 ووٹوں کے ساتھ وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے تھے۔ یاد رہے کہ یہ تعداد وزارت اعلیٰ کے لیے درکار 186 ووٹوں سے زیادہ ہے۔ حمزہ نے 25 منحرف اراکین کے ووٹ بھی حاصل کیے تھے جنہیں ضمنی انتخابات میں نواز لیگ کا ٹکٹ دینے کا وعدہ کیا گیا ہے۔
وزرات اعلیٰ کے الیکشن کی شفافیت پر تب سوالات کھڑے ہوئے تھے جب سپریم کورٹ نے 17 مئی 2022 کو یہ فیصلہ دیا کہ وزیر اعلیٰ کے الیکشن میں منحرف قانون سازوں کے ووٹ شمار نہیں کیے جائیں گے۔ اسکے بعد الیکشن کمیشن نے آرٹیکل 63 اے کے تحت پنجاب اسمبلی سے پی ٹی آئی کے 25 منحرف اراکین کو ڈی سیٹ کردیا تھا اور خالی نشستوں پر ضمنی الیکشن 17 جولائی کو کروانے کا اعلان کیا ہے۔ پی ٹی آئی کی جانب سے 19 مئی 2022 کو لاہور ہائی کورٹ میں حمزہ شہباز کے انتخاب کو چیلنج کیا گیا تھا جسکے بعد عدالت نے اس معاملے پر وزیر اعلیٰ سے جواب طلب کیا تھا۔ حمزہ کا 16 صفحات پر مشتمل جواب ان کے وکیل خالد اسحٰق نے جمع کرایا، یہ جواب 25 مئی کو لاہور ہائی کورٹ میں سماعت پر حمزہ شہباز اور پنجاب حکومت پر ایک لاکھ روپے جرمانہ عائد کرنے کے بعد عدالت میں پیش کیا گیا ہے۔
شہباز شریف کے دورہ سعودی عرب میں بڑے بریک تھرو کا امکان
جواب میں حمزہ شہباز نے وضاحت دی کہ بطور وزیر اعلیٰ حمزہ شہباز کا انتخاب 16 اپریل کو ہوا تھا جبکہ سپریم کورٹ کی جانب سے آرٹیکل 63 اے کی تشریح 17 مئی کو جاری کی گئی اس لیے الیکشن سپریم کورٹ کے حکم کے تحت نہیں ہو سکتے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ طے شدہ قانون ہے کہ جب تک صورت حال بیان نہ کی جائے تب تک اعلیٰ عدالتوں کے ذریعے قانون کی کسی بھی تشریح یا اعلان کا اطلاق سابقہ فیصلوں پر نہیں ہونا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ سپریم کورٹ کا حکم قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد سے متعلق تھا اور یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اس سے وزیر اعلیٰ پنجاب کے الیکشن متاثر ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’ وزیر اعلیٰ پنجاب کا انتخاب آئین کی تکمیل اور معزز عدالت کے جاری کردہ حکم کے مطابق ہوا تھا اسلئے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس الیکشن کے نتائج بد نیتی پر مبنی ہیں۔
حمزہ شہباز نے کہا کہ انہوں نے لاہور ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی تھی تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ سابق وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کے استعفیٰ کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے آئینی تقاضے پر عمل درآمد کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ عدالت نے’جواب کنندہ کی استدعا قبول کرتے ہوئے ہدایت دی تھی کہ الیکشن 16 اپریل 2022 کو ڈپٹی اسپیکر کے ذریعے کروائے جائیں۔ حمزہ شہباز نے کہا کہ ان کے انتخاب کے خلاف درخواست آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت قابل سماعت نہیں ہے۔ انہوں نے یہ استدلال بھی کیا کہ آئین کے آرٹیکل 127 کے ساتھ پڑھے جانے والے آرٹیکل 69 کے تحت برطرفی کے طریقہ کار کی روشنی میں درخواست قابل سماعت نہیں ہے۔
اپنے جواب میں حمزہ شہباز نے کہا کہ اس طرح کے کیسز لاہور ہائی کورٹ کے دائرہ اختیار میں نہیں آتے کیونکہ مذکورہ آرٹیکلز کے تحت فراہم کردہ برطرفی کا قانون پارٹی کو ایوان میں ہونے والے انتخابات کو چیلنج کرنے سے روکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کو عہدے سے سبکدوش ہونے والے گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کی جانب سے ’ غیر قانونی اور غیر آئینی طور پر مطلوب دائرہ اختیار کے مفروضے کو چیلنج کیا گیا ہے۔ تاہم، انہوں نے دلیل دی کہ عدالت پہلے ہی کہہ چکی ہے کہ گورنر کے پاس ایسا اعلان کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ لہٰذادرخواست کو ’بے بنیاد‘ قرار دیتے ہوئے حمزہ شہباز نے کہا کہ انہوں نے ’آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت عدالتی نظر ثانی کے غیر معمولی آئینی دائرہ کار کو استعمال کرنے کے لیے اسے قانونی بنیاد نہیں بنایا۔
دوران سماعت درخواست سے متعلق دلائل پیش کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ بننے کے لیے قانون کے مطابق 186 ووٹ چاہییں، اگر کسی کے ووٹ 186 سے کم ہوں تو وہ وزیر اعلیٰ کے عہدے پر براجمان نہیں ہو سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ حمزہ شہباز کے 197 میں سے 25 ووٹ پی ٹی آئی کے منحرف اراکین کے ہیں، لہٰذا اب حمزہ شہباز کے پاس عددی اکثریت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدالت کے سامنے سوال یہ ہےکہ یہ 25 ووٹ شمار ہوں گے یا ان کی گنتی نہیں کی جائے گی، ہمارا کیس یہ ہے سپریم کورٹ کی تشریح کے بعد منحرف اراکین کے ووٹ نکال دیں تو حمزہ کے پاس اکثریت نہیں ہے۔ اس موقع پر چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے ریمارکس دیے کہ سوال یہ ہے سپریم کورٹ کے فیصلے کا اطلاق ماضی میں کیے گئے فیصلے پر ہوگا یا نہیں اگر ماضی سے اطلاق ہو گا تو کیا ماضی کے سارے فیصلے ریورس ہو جائیں گے ؟
انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے منحرف اراکین کو ڈی نوٹیفائی کیا ہے اسکا مطلب ہم الیکشن کمیشن کے فیصلے کو سن رہے ہیں کیوں کہ ڈی نوٹیفائی تو الیکشن کمیشن نے کیا ہے۔ پی ٹی آئی کے وکیل کا کہنا تھا کہ لا قانونیت سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا، مثال کے طور پر اگر کوئی چور اپنی چوری مان لے لیکن چوری شدہ مال واپس نہ کرے تو کیا ہوگا۔
انہوں نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ میں صرف مثال دے رہا ہوں میں کسی کو چور نہیں کہہ رہا ہوں۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ کا شارٹ آرڈر یہ ہے کہ منحرف اراکین کا ووٹ شمار نہیں کرنا ہے، ووٹنگ پینڈنگ ہو تو شمار نہیں ہوگا۔لاہور ہائی کورٹ نے تحریک انصاف کے وکیل کو آئندہ سماعت پر دلائل جاری رکھنے کی ہدایت دیتے ہوئے سماعت 31 مئی تک ملتوی کر دی۔
