کیا امریکا گولڈ سمتھ کے داماد عمران کو نکالنا چاہتا ہے؟

معروف صحافی اور تجزیہ کار سلیم صافی نے وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے یورپ اور امریکہ پر خود کو اقتدار سے بے دخل کرنے کی سازش تیار کرنے کے الزام کو بھونڈا قرار دیتے ہوئے سوال کیا ہے کہ

بھلا امریکہ یہودی النسل گولڈ سمتھ کے سابقہ داماد کو اقتدار سے بے دخل کرنے کی سازش کیوں کرے گا

، خصوصا جب اس کے اپنے بچے بھی مغرب میں پرورش پا رہے ہیں۔ سلیم صافی کا کہنا ہے کہ امریکہ بھلا پاکستان کے دفاعی اداروں کو متنازعہ بنانے، عدلیہ کے وقار کو خاک میں ملانے، الیکشن کمیشن کو بے توقیر کرنے، میڈیا کو بے وقعت کرنے اور پاکستان کو عالمی تنہائی کا شکار کرنے والے عمران کو کیوں نکالنا چاہے گا؟

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں سلیم صافی طنزیہ لہجے میں کہتے ہیں کہ امریکہ اور اس کے یورپی اتحادی ان دنوں سب کام چھوڑ کر عمران خان کی حکومت گرانے میں لگے ہوئے ہیں۔ انہوں نے پی ٹی آئی کے ممبرانِ اسمبلی پر دبائو ڈال کر انہیں عمران سے بغاوت پر مجبور کیا۔ پھر ان ممبران کے لئے مسلم لیگ(ن)، جے یو آئی اور پیپلز پارٹی سے آئندہ الیکشن میں ٹکٹوں کے وعدے لئے۔ امریکی صدر بائیڈن اور برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے پہلے آصف زرداری، شہباز شریف اور مولانا کی ملاقاتیں کرائیں اور پھر قاف لیگ اور ایم کیو ایم سے ان کی ڈیل کروائی۔

شہباز شریف اور نواز شریف کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ پرویز الٰہی کو وزیراعلیٰ بنائیں، پھر جوبائیڈن اور بورس جانسن ان کے درمیان ضامن بنے۔ پھر ایم کیو ایم اور زرداری کی ملاقاتیں کروائیں۔ دونوں مسلسل کالیں کرکے زرداری صاحب کو مجبور کرتے رہے کہ وہ ایم کیوایم کے مطالبات تسلیم کریں اور پھر یورپی یونین کی پوری قیادت کو ان کے مابین ضامن بنا دیا۔

صافی کہتے ہیں کہ امریکہ، برطانیہ اور یورپی ممالک کی تمام تر توجہ پاکستان پر مرکوز ہے۔ سی آئی اے، ایم آئی سکس، را اور موساد وغیرہ عمران کو فارغ کرنے میں لگی ہیں۔ وجہ صاف ظاہر ہے۔ یہ سب ممالک سمجھتے ہیں کہ ان کے مفادات کو عمران نے شدید نقصان پہنچایا ہے۔ امریکہ، برطانیہ اور یورپ کی نظروں میں عمران خان کے جرائم کی فہرست بہت طویل ہے، وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ: کسی انسان کا سب سے بڑا سرمایہ اسکی اولاد ہوتی یے اور عمران کے بیٹے برطانیہ میں یہودی گولڈ سمتھ کے گھر پرورش پا رہے ہیں۔

وہ جانتے ہیں کہ انہوں نے لندن کے مئیر کے انتخاب کے لئے پاکستانی نژاد محمد صادق کے مقابلے میں گولڈ سمتھ کے بیٹے جیک سمتھ کو سپورٹ کیا۔ وہ جانتے ہیں کہ عمران خان برطانیہ کے ادارے کے پڑھے ہوئے ہیں۔ ان کا طرز زندگی لمبے عرصے تک اہل مغرب جیسا رہا جبکہ اب بھی معاشرتی حوالوں سے وہ پاکستانی کم اور مغربی شہری زیادہ نظر آتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ اقتدار میں آنے سے پہلے انہوں نے برطانیہ ، امریکہ اور سنگاپور میں سوشل میڈیا سیلز بنا کر پاکستان کے اندر گالم گلوچ اور بدتمیزی کے کلچر کو عام کیا اور پھر حکومت میں آنے کے بعد سرکاری وسائل کو بھی اس مقصد کے لئے بھرپور طریقے سے استعمال کیا۔ ظاہر ہے پاکستان میں گالم گلوچ اور بدتمیزی کے کلچر سے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو بڑی تکلیف ہورہی ہے۔

وہ جانتے ہیں کہ جب چینی صدر سی پیک کے معاہدے پر دستخط اور پروجیکٹ کے باقاعدہ آغاز کے لئے پاکستان کے دورے پر آرہے تھے تو عمران نے کینیڈین شہری طاہرالقادری کے ساتھ مل کر دھرنوں کا پروگرام بنایا اور ان دھرنوں کی پلاننگ بیجنگ یا ماسکو میں نہیں بلکہ لندن میں ہوئی تھی۔ وہ جانتے ہیں کہ اقتدار میں آنے کے بعد انہوں نے شاہ محمود قریشی کو اپنا وزیر خارجہ بنایا جنہوں نے اپنے بیٹے کو امریکی وزارت خارجہ میں تربیت دلوائی۔

سلیم صافی عمران خان کے کے مغرب مخالف بیانیے کا مزید مذاق اڑاتے ہوئے کہتے ہیں کہ عمران جب سے اقتدار میں آئے ہیں، چینی سر پیٹ رہے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ چین یا روس کے دورے سے واپسی پر عمران نے کسی بھنگڑے کا انتخاب نہیں کیا جیسا کہ ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے بعد کیا تھا۔ وہ جانتے ہیں کہ عمران ٹرمپ سے ملاقات کی خوشیاں منارہے تھے اور نریندر مودی نے مقبوضہ کشمیر کی حیثیت تبدیل کرکے اسے ہڑپ کر لیا، لیکن انہوں نے صرف ایک سڑک کا نام بدلنے پر اکتفا کیا اور تماشہ دیکھتے رہے۔ وہ جانتے ہیں کہ عمران خان کو زیادہ فنڈنگ امریکہ، برطانیہ اوریورپی ممالک سے ہوئی اور یہ بھی جانتے ہیں کہ انہوں نے زلفی بخاری جیسے برطانوی شہریت رکھنے والے اور شہباز گل جیسے امریکہ پلٹ درجنوں لوگوں کو اہم مناصب دیے ۔ انیل مسرت جیسے برطانوی شہریوں کی بھی وزیراعظم ہاوس میں تواضع ہوتی رہی۔

وہ جانتے ہیں کہ عمران خان نے اسد عمر اور حفیظ شیخ جیسے لوگوں کے ذریعے پاکستانی معیشت کو آئی ایم ایف یا بالواسطہ امریکہ کے ہاں گروی رکھ دیا ۔ آئی ایم ایف کے ملازم کو ا سٹیٹ بینک کا گورنر بنایا اور پھر انہیں ہر طرح کے چیک سے آزاد کرایا۔ وہ جانتے ہیں کہ عمران خان نے نہ صرف آئی ایم ایف اور ایف اے ٹی ایف کی ہدایات پر قانون سازی کروائی بلکہ اس کے لیے پارلیمنٹ کو بھی بلڈوز کیا۔وہ جانتے ہیں کہ عمران خان نے بین الافغان مفاہمت سے قبل قطر ڈیل میں امریکہ کے ساتھ بھرپور تعاون کیا حالانکہ ہر سمجھدار یہ مشورہ دیتا رہا کہ بین الافغان مفاہمت سے قبل ، امریکہ اور طالبان کی ڈیل نہیں ہونی چاہئے۔ بقول سلیم صافی، وہ جانتے ہیں کہ فوجی اڈے انہوں نے مانگے نہیں لیکن وہ مفت میں ایبسلوٹلی ناٹ کا نعرہ لگا کر قوم کو گمراہ کررہے ہیں کیونکہ ڈی جی آئی ایس آئی درجنوں صحافیوں کی محفل میں یہ کہہ چکے ہیں کہ امریکہ نے اڈے نہیں مانگے۔

وہ جانتے ہیں کہ ان کو صرف ایئر سپیس کی ضرورت تھی جو عمران خان حکومت نے فراہم کر دی تھی۔ وہ جانتے ہیں اور بخوبی جانتے ہیں کہ عمران خان گزشتہ ڈیڑھ سال سے اگرکسی شخصیت کے ٹیلی فون کال کےمنتظر ہیں تو وہ امریکی صدر جوبائیڈن ہے۔سب سے بڑی بات یہ کہ وہ جانتے ہیں کہ عمران خان نے معاشی طور پر پاکستان کو تباہ اور سفارتی محاذ پر تنہا کرکے رکھ دیا۔ پاکستان کے دفاعی اداروں کو متنازعہ بنایا۔ عدلیہ کے وقار کو خاک میں ملادیا۔ الیکشن کمیشن کو سیلکشن کمیشن بنا دیا اور میڈیا کو بے توقیر کرنے دیا۔
سلیم صافی کہتے ہیں کہ اس وقت امریکہ کا پاکستان کے لئے پیار عروج پر ہے اور وہ پاکستان کے اداروں کو کمزور ہوتے نہیں دیکھ سکتا، اس لئے وہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر عمران خان کی حکومت کو مسلم لیگ(ن)، پیپلز پارٹی اور جے یو آئی کے ذریعے ختم کروانا چاہتا ہے۔

Does US want to expel Goldsmith’s son-in-law Imran? Urdu

Back to top button