وزیرستان میں ڈرون حملے: عوام سیکیورٹی فورسز کے خلاف سڑکوں پر

جنوبی و شمالی وزیرستان کا پرامن منظرنامہ ایک بار پھر خطرے میں ہے۔ گزشتہ کچھ عرصے سے شدت پسندوں کی سرگرمیوں میں اضافہ، سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائیاں، اور مسلسل جاری جزوی کرفیو نے علاقے کے عام شہریوں کی زندگی کو دوبارہ مفلوج کر دیا ہے۔ علاقے میں بڑھتی ہوئی شدت پسندی اور سکیورٹی اداروں کے آپریشنز کے دوران عام شہریوں کو ہونے والے جانی و مالی نقصانات نے عام آدمی کو دوبارہ اپنی حفاظت کے لیے احتجاج کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ جنوبی وزیرستان کے لدھا اور شمالی وزیرستان کے دیگر علاقوں میں ہونے والے ڈرون اور کواڈ کاپٹر حملوں میں عام شہریوں کی اموات نے معاملے کی سنگینی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ جس کے بعد علاقے کے عوام سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

مبصرین کے مطابق گزشتہ چند ماہ میں علاقے میں امن و امان کی خراب صورتحال نے نہ صرف عوام کو بے چین کیا ہے بلکہ ایک مرتبہ پھر وہی خوف و دہشت کا ماحول پیدا کر دیا ہے جو 2007 سے 2014 کے دوران کئی لاکھوں افراد کو اپنی جان و مال کی حفاظت کے لیے اپنے گھروں سے نقل مکانی پر مجبور کر چکا تھا۔ آج وزیرستان میں جاری مظاہرے اور جرگے اسی خوف اور ناامیدی کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ امن کی بحالی کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو تاریخ اپنے آپ کو دہرا سکتی ہے۔

سابق رکن قومی اسمبلی اور نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے سربراہ محسن داوڑ کے مطابق خطے میں گزشتہ چھ سات سالوں سے جب بھی بدامنی میں اضافہ ہوا ہے اور اب عوام سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہو گئے ہیں، محسن داوڑ کا مزید کہنا ہے کہ خطے میں بدامنی بظاہر چین سے حالات خراب کرنے کے لیے کی جا رہی ہے کہ پہلے افغانستان میں امریکہ کی مدد سے افغان طالبان کی عبوری حکومت قائم کی گئی اور اب اس پورے خطے میں بدامنی کی فضا قائم کی جا رہی ہے۔”اب صرف مذمت سے کام نہیں چلے گا عسکریت پسندوں کے مسئلے کا سیاسی اور علاقائی حل نکالنا ہو گا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق’علاقے میں شدت پسندی عروج پر ہے اور شدت پسندوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان جھڑپوں میں عوام کی متاثر ہونے پر بھی یہاں بہت تشویش پائی جاتی ہے۔ علاقے میں ایک مرتبہ پھر خوف کی فضا قائم ہوگئی ہے۔ شمالی وزیرستان میں ہونے والے احتجاجی گرینڈ جرگے کا اصل مقصد اس مسئلے کا حل نکالنا ہے۔‘ مبصرین کے مطابق ڈرون حملوں کی وجہ سے عام شہری، خصوصاً بچے زخمی اور ہلاک ہو رہے ہیں۔ نجی املاک اور جانوں کا نقصان حقیقت میں عوام اور ریاست کے درمیان فاصلے بڑھاتا ہے۔ جبکہ نقل مکانی کا خوف عوام کیلئے سب سے بڑا چیلنج بن کر سامنے آ رہا ہے جس کی وجہ سے وہ سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔

خیال رہے کہ شمالی وزیرستان میں گذشتہ کچھ عرصے میں شدت پسندوں اور سکیورٹی فورسز کے مابین جھڑپوں میں عام شہری بھی نشانہ بن رہے ہیں جبکہ علاقہ مکینوں کے مطابق کواڈ کاپٹر اور ڈرون کی مبینہ استعمال کی باتیں بھی کی جاتی ہیں جس سے عام شہری نشانہ بنتے ہیں۔ تاہم سیکیورٹی اداروںاور شدت پسندوں میں سے کسی کی جانب  سے اب تک ان ڈرونز کے استعمال کرنے کی تصدیق نہیں کی گئی جو عوامی جان و مال کے نقصان کا سبب بن رہے ہیں۔ تاہم صوبائی حکومت کے ترجمان بیرسٹر ڈاکٹر محمد علی سیف کے مطابق شدت پسند عام طور پر سویلین آبادی میں گھس جاتے ہیں، جس کی وجہ سے عوام کو بھی جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے چونکہ عسکریت پسند رات کو سویلین آبادی میں قیام کرتے ہیں، اس لیے کارروائی کے دوران عام شہری بھی متاثر ہو جاتے ہیں۔

پی ٹی آئی کے یوتھیا بریگیڈ نے ابصار عالم کو نشانے پر کیوں لے لیا ؟

تاہم مبصرین کے مطابق علاقے کے لوگ سیکیورٹی فورسز کے انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کے خلاف نہیں، لیکن جب آپریشن یا جھڑپوں میں عام شہری متاثر ہوتے ہیں تو انہیں شدید تکلیف ہوتی ہے۔ جس سے شدت پسندوں کو عوام کو ساتھ ملا کر بدامنی پھیلانے کا آسان جواز مل جاتا ہے۔ مبصرین کے بقول وزیرستان کی موجودہ بدامنی صرف عسکریت پسندی اور سکیورٹی فورسز کے مابین تصادم کا مسئلہ نہیں، بلکہ ایک وسیع سماجی، سیاسی اور علاقائی پیچیدگی ہے۔ جہاں ایک طرف حکومتی ادارے شدت پسندوں کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، وہیں دوسری طرف عام لوگ اپنی جان و مال کی حفاظت کے لیے مسلسل خوفزدہ اور مایوس ہیں۔ جرگے اور احتجاجی مظاہرے اس بات کا ثبوت ہیں کہ علاقے کے لوگ پائیدار امن چاہتے ہیں، لیکن ان کی فریاد سننے والا کوئی ایسا موثر نظام چاہیے جو ان کی آواز بنے اور ان کے دکھوں کا مداوا کرے۔اگرچہ حکومت اور سکیورٹی ادارے کہتے ہیں کہ عسکری کارروائیاں انٹیلیجنس کی بنیاد پر ہوتی ہیں، لیکن جب تک ان کارروائیوں کا اثر عام شہریوں پر پڑے گا، وزیرستان میں امن قائم کرنا ایک مشکل ترین چیلنج ہی رہے گا۔

Back to top button