افغانستان میں دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے ڈرون حملوں کا امکان

انٹر سروسز انٹیلیجنس نے کراچی میں پاک فضائیہ کی سٹریٹیجک لحاظ سے اہم ترین مسرور ایئر بیس پر دہشت گردوں کے فدائی حملے کا منصوبہ ناکام بناتے ہوئے اس میں شامل 9 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے جن میں سے پانچ افغان باشندے ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ اس منصوبے کا ماسٹر مائنڈ افغانستان میں مقیم تحریک طالبان پاکستان کا ایک کمانڈر ہے جو اس گروپ کے خودکش بمباروں کی قیادت کرتا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سازش کے بے نقاب ہونے سے ایک بار پھر ثابت ہو گیا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کا دہشت گرد نیٹ ورک افغانستان کے حکمران طالبان کی منشا سے مسلسل سرحد پار حملوں کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ پاکستان نے مسلسل افغان طالبان حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سرحد پار موجود تحریک طالبان پاکستان کے دہشت گرد نیٹ ورک کا خاتمہ کرے اور وہاں موجود ٹی ٹی پی کی قیادت کو پاکستان کے حوالے کرے۔ تاہم طالبان حکومت کا موقف ہے کہ ایسا کرنا اس کے بس میں نہیں اور ویسے بھی تحریک طالبان نے امریکی افواج کے خلاف افغانستان میں جنگ کے دوران افغان طالبان کا ساتھ دیا تھا لہذا انہیں مہمانوں کا سٹیٹس حاصل ہے۔
سینیئر صحافی انصار عباسی نے باخبر سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ اس سازش میں 9؍ انتہائی تربیت یافتہ دہشت گرد شامل تھے جن میں سے پانچ افغان شہری تھے جنکی قیادت تحریک طالبان پاکستان کا ایک کمانڈر کر رہا ہے جو پہلے ہی دہشت گردی کے کئی کیسز میں مطلوب ہے۔ یہ دہشت گرد حال ہی میں پاک افغان سرحد کراس کر کے پاکستان میں داخل ہوئے تھے۔
مجوزہ منصوبے کے تحت تحریک طالبان کے خودکش بمبار پاکستان ایئر فورس کی مسرور ایئربیس میں دراندازی کرکے داخل ہونے، اس پر قبضہ کرنے، اور قیمتی جہازوں کو تباہ کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔
اس مجوزہ فدائی حملے کا مقصد مسرور ائیر بیس کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانا اور آخر دم تک بندوق بردار لڑائی کرنا تھا۔ یہ مجوزہ آپریشن افغانستان میں مقیم تحریک طالبان کی اعلیٰ قیادت کی براہ راست نگرانی میں تیار کیا گیا تھا اور اس میں ایک سال ماہ کی منصوبہ بندی شامل تھی۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشت گردوں نے کراچی کی مسرور ایئربیس کے قریب رہائش اختیار کر رکھی تھی اور علاقے کی وسیع پیمانے پر ریکی کر رکھی تھی۔ تاہم، انٹیلی جنس ایجنسی ان کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھے ہوئے تھی۔
انصار عباسی کے مطابق جب حملہ آور اپنی سازش کے آخری مرحلہ میں داخل ہونے والے تھے، تب آئی ایس آئی نے ایک خفیہ آپریشن شروع کرتے ہوئے مختلف مقامات سے اس منصوبے میں شامل 9 افراد کو گرفتار کر لیا۔
خفیہ ایجنسی نے کارروائی کرتے ہوئے سٹریٹجک لحاظ سے اہمیت کی حامل مسرور ایئربیس کو حملے سے بچا لیا بلکہ نومبر 2024 میں کراچی کے سائٹ ایریا میں واقع لبرٹی ٹیکسٹائل ملز میں چینی انجینئرز پر حملے میں ملوث ٹی ٹی پی سے وابستہ ایک اہم دہشت گرد کمانڈر کو بھی گرفتار کر لیا۔ بتایا گیا ہے کہ اس آپریشن میں پکڑا گیا طالبان کمانڈر بارودی سرنگوں کا ماہر ہے جس نے افغانستان میں تربیت حاصل کی تھی اور نیٹو اور اتحادی افواج کے ساتھ لڑائی کے دوران افغان طالبان کے ساتھ مل کر لڑتا تھا۔ ابتدائی تحقیقات میں اس سازش میں پاکستان دشمن انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ملوث ہونے کا پتہ چلا ہے جو پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش میں دہشت گرد عناصر کی مالی معاونت اور آلات فراہم کر رہی ہیں۔
کیا پاکستان، امریکہ اور چین کی ٹیرف وار سے فائدہ اٹھا سکتا ہے ؟
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ چونکہ افغان حکومت نے پاکستان کے بار بار کے مطالبوں کے باوجود نہ تو تحریک طالبان کا دہشت گردی نیٹ ورک ختم کرنے میں کوئی مدد کی ہے اور نہ ہی ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کو پاکستان کے حوالے کر رہی ہے اس لیے وقت گیا ہے کہ پاکستان ان کے خاتمے کے لیے خود اقدامات شروع کرے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اب چونکہ پاکستان اپنے ڈرونز بنا چکا ہے اور اس بات کا قوی امکان موجود ہے کہ پاک افغان سرحد پر موجود تحریک طالبان پاکستان کے دہشت گرد نیٹ ورک کے خاتمے کے لیے ڈرون حملوں کا سلسلہ شروع کر دیا جائے۔
