نیوٹرل لفظ کی وجہ سے پوری جماعت دھڑم سے زمین پر آ گری

مسلم لیگ ن کی نائب صدرمریم نوازنے کہا ہے کہ مجھے نہیں پتا تھا کہ نیوٹرل کے ایک لفظ کی وجہ سے آپ کی پوری کی پوری 22 سالہ جدوجہد اور پوری کی پوری جماعت دھڑم سے زمین پر آ گری ہے اور صرف نیوٹرل لفظ سے آپ کی جماعت کا شیرازہ بکھر گیا ہے۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ(ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ وزیراعظم کی جماعت کا شیرازہ بکھر گیا ہے، نیوٹرل ہونا آئین کی پاسداری ہے، اگر کوئی آئین کی پاسداری کی بات کررہا ہے تو اس پر اتنا ناراض ہونے کی ضرورت نہیں ہے، آپ نے نیب اور ایف آئی اے کو نیوٹرل نہیں رہنے دیا، اینٹی کرپشن کو نیوٹرل نہیں رہنے دیا اور پوری کوشش کی کہ ہمیشہ سازش کر کے سامنے آئیں تو آپ کیا چاہتے ہیں کہ کوئی آپ کی گنتی پوری کر کے دے، گنتی تو آپ کی کبھی بھی پوری نہیں تھی۔

نائب صدر ن لیگ نے کہا کہ گنتی تو آپ کی 2018 میں پوری تھی نہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے الیکشنز میں پوری تھی، نہ سینیٹ الیکشنز میں گنتی پوری تھی اور آج بھی آپ کی گنتی پوری نہیں ہے، تو آپ کیا چاہتے ہیں کہ کوئی آپ کے لیے آپ کی گنتی پوری کرکے دے، نیوٹرل ہونا آئین کی پاسداری ہے، اگر کوئی آئین کی پاسداری کی بات کررہا ہے تو اس پر اتنا سیخ پا اور ناراض ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔

مریم نواز نے کہا کہ بھئی اپنے 10 بندے پورے کر لو تو آپ کو 10 لاکھ لوگوں کو لانے کی مشقت نہیں کرنی پڑے گی، آپ سے اپنے 10 بندے تو پورے نہیں ہورہے اور آپ 10لاکھ بندے نکالنے چلے ہیں، آپ نے نواز شریف کو کہا کہ آپ کی سیاست ختم ہوگئی، اس کو، اس کی بیٹی اور پوری جماعت کو جیلوں میں ڈالا اور آج اسی نواز شریف نے باہر بیٹھ کر گھر میں گھس کر آپ کو مارا ہے۔

پی ٹی آئی کی حکومت گئی تو وزارت سے علیحدہ ہو جاؤں گا

نائب صدر مسلم لیگ ن نے کہا کہ آج آپ کو ایک دو نشستوں والوں کے گھروں پر جانا پڑ رہا ہے تو مجھے وہ وقت یاد آتا ہے کہ ہزارہ برادری کے لوگ لاشیں رکھ کر آپ کو پکار رہے تھے اور آپ نے کہا تھا کہ میں لاشوں سے بلیک میل نہیں ہوں گا، آپ کہتے ہیں کہ آپ کے خلاف انٹرنیشنل سازش ہوئی ہے۔ضروری نہیں تحریک عدم اعتماد کسی مدد کے بغیر ہی کامیاب نہ ہو بلکہ غیرجانبداری سے بھی کامیاب ہو سکتی ہے۔

مریم نواز نے کہا کہ نواز شریف کے ساتھ بہت زیادتیاں کی گئیں جس کی انہیں سیاسی اور ذاتی طور پر قیمت چکانی پڑی لیکن کبھی جلسوں میں کسی کو یہ دھمکی نہیں دی کہ میں اب بہت خطرناک ہو جاؤں گا اور خطرناک ہو جاؤں گا تو میں چھوڑوں گا نہیں، یہ دھمکیاں وہ اپوزیشن کو نہیں بلکہ کسی اور کو سنا رہے ہیں، ایک ایسا شخص جو ہار چکا ہے اور پاکستانی عوام کے نشانے پر ہے، تو ایسے شخص کے احکامات بجا نہ لائیں۔

Back to top button